اہم خبریں

کہکشاں کے وسط میں ایک درجن بلیک ہولز دریافت

  منگل‬‮ 10 اپریل‬‮ 2018  |  17:21
سائنس دانوں نے کہاہے کہ ہماری کہکشاں کے بیچ میں ممکنہ طور پر ایک درجن بلیک ہولز موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس نئی تحقیق نے کئی دہائی پرانی پیش گوئی کی توثیق کی ہے جس کے مطابق یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے جس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بلیک ہولز ہیں۔اس سے قبل اس قسم کے شواہد نہیں ملے تھے کہ کہکشاں کے بیچ میں بہت بڑے بلیک ہول موجو ہے۔ نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے چارلز ہیلی اور ان کے رفقا نے امریکی

(خبر جا ری ہے)

کی ٹیلی سکوپ چندرا ایکس رے کے آرکائیو ڈیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا پر تحقیق کی۔ان کی رپورٹ کے مطابق ایک درجن غیر فعال بائینری سسٹمز دریافت ہوئے ہیں جن میں ستارے نہ نظر آنے والے ساتھی ( بلیک ہول) کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں سی جیٹیریئس اے نامی بہت بڑا بلیک ہول ہے جس کے ارد گرد گیس اور غبار ہے جو بڑے ستاروں کے پنپنے کی بہترین جگہ ہے۔ یہ ستارے وہیں رہتے ہیں، وہیں مرتے ہیں اور بلیک ہولز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی کہا گیاکہ اس گیس اور دھول کے ہالے سے باہر بلیک ہولز جیسے جیسے اپنی توانائی کھوتے ہیں وہ سیجیٹیریئس اے کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ماضی میں بلیک ہولز کو تلاش کرنے کی کوشش میں ایکس رے شعاعوں کی تیز روشنی پر انحصار کیا گیا تھا جو بائینری سسٹمز سے خارج ہوتی ہیں۔پرفیسر ہیلی کا کہنا تھا کہ کہکشاں کا وسط کرہ ارض سے اتنا دور ہے کہ تیز روشنی 100 سے ایک ہزار سال میں ایک بار دیکھی جا سکتی ہے۔اسی لیے کولمبیا یونورسٹی کی ٹیم نے کم روشن ایکسرے شعاعوں کو دیکھنا شروع کیا جو اس وقت خارج کی جاتی ہیں جب بائینری سسٹم غیر فعال ہوتا ہے۔سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیجیٹیریئس اے کے ارد گرد 300 سے 500 بائنریز اور دس ہزار کم کمیت کے بلیک ہولز موجود ہیں۔

سائنس دانوں نے کہاہے کہ ہماری کہکشاں کے بیچ میں ممکنہ طور پر ایک درجن بلیک ہولز موجود ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس نئی تحقیق نے کئی دہائی پرانی پیش گوئی کی توثیق کی ہے جس کے مطابق یہ تحقیق سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہوئی ہے۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں ایک بہت بڑا بلیک ہول موجود ہے جس کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے بلیک ہولز ہیں۔اس سے قبل اس قسم کے شواہد نہیں ملے تھے کہ کہکشاں کے بیچ میں بہت بڑے بلیک ہول موجو ہے۔

نیو یارک کی کولمبیا یونیورسٹی کے چارلز ہیلی اور ان کے رفقا نے امریکی خلائی ناسا کی ٹیلی سکوپ چندرا ایکس رے کے آرکائیو ڈیٹا سے حاصل کردہ ڈیٹا پر تحقیق کی۔ان کی رپورٹ کے مطابق ایک درجن غیر فعال بائینری سسٹمز دریافت ہوئے ہیں جن میں ستارے نہ نظر آنے والے ساتھی ( بلیک ہول) کے گرد چکر لگا رہے ہیں۔ہماری کہکشاں کے بیچ میں سی جیٹیریئس اے نامی بہت بڑا بلیک ہول ہے جس کے ارد گرد گیس اور غبار ہے جو بڑے ستاروں کے پنپنے کی بہترین جگہ ہے۔ یہ ستارے وہیں رہتے ہیں، وہیں مرتے ہیں اور بلیک ہولز میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تحقیق میں یہ بھی کہا گیاکہ اس گیس اور دھول کے ہالے سے باہر بلیک ہولز جیسے جیسے اپنی توانائی کھوتے ہیں وہ سیجیٹیریئس اے کے زیر اثر آ جاتے ہیں۔ماضی میں بلیک ہولز کو تلاش کرنے کی کوشش میں ایکس رے شعاعوں کی تیز روشنی پر انحصار کیا گیا تھا جو بائینری سسٹمز سے خارج ہوتی ہیں۔پرفیسر ہیلی کا کہنا تھا کہ کہکشاں کا وسط کرہ ارض سے اتنا دور ہے کہ تیز روشنی 100 سے ایک ہزار سال میں ایک بار دیکھی جا سکتی ہے۔اسی لیے کولمبیا یونورسٹی کی ٹیم نے کم روشن ایکسرے شعاعوں کو دیکھنا شروع کیا جو اس وقت خارج کی جاتی ہیں جب بائینری سسٹم غیر فعال ہوتا ہے۔سائنس دانوں کی ٹیم نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ سیجیٹیریئس اے کے ارد گرد 300 سے 500 بائنریز اور دس ہزار کم کمیت کے بلیک ہولز موجود ہیں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں