اہم خبریں

کتا انسان کا دوست کیوں ہوتا ہے؟

  بدھ‬‮ 22 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  16:55
اسلام آباد(ویب ڈیسک)سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دوستانہ انداز کتے کی فطرت میں ہوتا ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث وہ اپنی زندگی انسانوں ساتھ گزارتے ہیں۔ کتے دسیوں ہزاروں سال قبل بھیڑیے کی نسل سے وجود میں آئے تھے۔ ریسرچ کے مطابق کچھ خاص جینزکتوں کو سماجی ماحول میں جگہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔پرنسنٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر بریجنٹ ہالڈٹ کہتے ہیں کہ 'ہماری معلومات کے مطابق جنیاتی تبدیلیاں کتوں اور بھیڑیوں کی شخصیت کے بارے میں بتاتی ہیں اور شاید یہی جینز گھر کے پالتو جانوروں حتی کہ بلیوں میں بھی کردار ادا کرتےہیں۔'ریسرچرز

(خبر جا ری ہے)

ادا کرتےہیں۔'ریسرچرز نے پالتو کتوں اور قید میں رکھے جانے والے بھیڑیوں کے رویے کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کسی بھی مسئلے کو سلجھانے کے لیے جانوروں کی اہلیت جانچنے کے لیے متعدد ٹیسٹ کیے۔ان کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ بھیڑیے مسائل کے حل میں اتنے ہی اچھے ہیں جتنے کتے ہوتے ہیں۔ دونوں کے سامنے پلاسٹک کے لنچ باکس رکھے گئے جن میں سے وہ سوسجز کو نکالنے میں کامیاب رہے۔ لیکن یہ دیکھا گیا کہ کتوں کا انداز زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔ بھیڑیوں کی نسبت وہ اجنبی انسانوں کے ساتھ ملنے اور انھیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی کچھ جنیاتی تبدیلیاں انسانوں میں بھی ہوتی ہیں جیسے کہ کچھ انسان بہت ہی سوشل ہوتے ہیں یعنی وہ لوگوں سے ملنا جلنا بہت پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ایلن اوسٹینڈر جن کا تعلق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات انسان کی بیماریوں کے بارے میں جاننے کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ مشاہدہ انسانی جینیاتی سسٹم اور بیماریوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بہت دلچسپ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسےکتوں کے جینز میں چھوٹی چھوٹی اہم تبدیلیاں انسانوں میں بڑی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔' کتوں کو 20 سے چالیس 40 ہزار سال قبل گھروں میں پالتوں جانوروں کے طور پر پالا جانا شروع کیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھیڑیے انسانوں کے ساتھ رہتے تھے اور شکار کرنے میں مدد دیتے تھے۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ دوستانہ انداز کتے کی فطرت میں ہوتا ہے اور یہی وہ وجہ ہے جس کے باعث وہ اپنی زندگی انسانوں ساتھ گزارتے ہیں۔ کتے دسیوں ہزاروں سال قبل بھیڑیے کی نسل سے وجود میں آئے تھے۔ ریسرچ کے مطابق کچھ خاص جینزکتوں کو سماجی ماحول میں جگہ بنانے میں مدد دیتے ہیں۔پرنسنٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹر بریجنٹ ہالڈٹ کہتے ہیں کہ ‘ہماری معلومات کے مطابق جنیاتی تبدیلیاں کتوں اور بھیڑیوں کی شخصیت کے بارے میں بتاتی ہیں

اور شاید یہی جینز گھر کے پالتو جانوروں حتی کہ بلیوں میں بھی کردار ادا کرتےہیں۔’ریسرچرز نے پالتو کتوں اور قید میں رکھے جانے والے بھیڑیوں کے رویے کے بارے میں بتایا۔ انھوں نے کسی بھی مسئلے کو سلجھانے کے لیے جانوروں کی اہلیت جانچنے کے لیے متعدد ٹیسٹ کیے۔ان کے نتائج سے پتہ چلا ہے کہ بھیڑیے مسائل کے حل میں اتنے ہی اچھے ہیں جتنے کتے ہوتے ہیں۔ دونوں کے سامنے پلاسٹک کے لنچ باکس رکھے گئے جن میں سے وہ سوسجز کو نکالنے میں کامیاب رہے۔ لیکن یہ دیکھا گیا کہ کتوں کا انداز زیادہ دوستانہ ہوتا ہے۔ بھیڑیوں کی نسبت وہ اجنبی انسانوں کے ساتھ ملنے اور انھیں دیکھنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کی کچھ جنیاتی تبدیلیاں انسانوں میں بھی ہوتی ہیں جیسے کہ کچھ انسان بہت ہی سوشل ہوتے ہیں یعنی وہ لوگوں سے ملنا جلنا بہت پسند کرتے ہیں۔ ڈاکٹر ایلن اوسٹینڈر جن کا تعلق نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کا کہنا ہے کہ یہ معلومات انسان کی بیماریوں کے بارے میں جاننے کے لیے بھی معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ مشاہدہ انسانی جینیاتی سسٹم اور بیماریوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے بہت دلچسپ ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیسےکتوں کے جینز میں چھوٹی چھوٹی اہم تبدیلیاں انسانوں میں بڑی بیماریوں کا باعث بنتی ہیں۔’ کتوں کو 20 سے چالیس 40 ہزار سال قبل گھروں میں پالتوں جانوروں کے طور پر پالا جانا شروع کیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بھیڑیے انسانوں کے ساتھ رہتے تھے اور شکار کرنے میں مدد دیتے تھے۔

loading...