اہم خبریں

نواز شریف کے خلاف یہ ثبوت نہیں ملا، فلیگ شپ ریفرنس کیس میں تفتیشی افسر نے عدالت میں ایسا بیان دے دیا کہ لیگی خوش ہو جائیں گے

  پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  20:17
اسلام آباد(آن لائن )اسلام آبادکی خصوصی احتساب عدالت نمبر2کے جج محمد ارشدملک کی عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نوازشریف عدالت پیش ہوئے اس موقع پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی آفیسرمحمد کامران پر جرح کی ۔جرح کے دوران تفتیشی آفسر نے عدالت کو بتایا تفتیش کے دوران ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی کہ نواز شریف نے اپنے اکاونٹ سے فلیگ شپ ، کوئینٹ پنڈ گٹن یا کسی دوسری کمپنی کے لئے رقم فراہم کی، حسن نواز کا ایسا کوئی بیان بھی نہیں دیکھا کہ والد کی جانب سے مجھے کوئی ایسی

(خبر جا ری ہے)

کی گئی،ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ نواز شریف نے پاکستان یا بیرون ملک کسی اکاوئنٹ سے حسن و حسین نواز کے تعلیمی اخراجات پورے کئے، کسی گواہ نے زبانی بھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا،دوران تفتیش کسی نے نہیں کہا کہ حسن اور حسین نواز دو ہزار اور اسکے بعد نواز شریف کے زیر کفالت رہے،کسی گواہ نے نہیں کہا کہ کمپنی بناتے وقت حس نواز بے نامی دار تھے،تفتیش کے دوران ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے کہ حسن نواز پر برطانیہ میں کاروبار سے متعلق کسی بے ضابطگی کا الزام رہا ہو،جے آئی ٹی کی رپورٹ کے لئے میں نے خود کوئی درخواست نہیں دی، نیب ہیڈ کوارٹرز کو خط لکھا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کریں،اس موقع پرتفتیشی افسرنے نیب ہیڈ کوارٹرز کو لکھا خط عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایاکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب راولپنڈی نے 17اگست 2017کو تصدیق شدہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی،تصدیق شدہ کاپی سے پہلے ایک غیر تصدیق شدہ کاپی بھی حاصل کر رکھی تھی،اس موقع پر عدالت نے استفسار کیاکہ جے آئی ٹی رپورٹ حاصل کرنے سے متعلق اتنے سوالات کی کیا اہمیت ہے؟خواجہ صاحب یہ آپ بھی مانتے ہیں کہ یہ سامنے جے آئی ٹی رپورٹ ہی رکھی ہے،نیب نے جیسے بھی یہ رپورٹ حاصل کی بس کر لی،جس پرتفتیشی افسرنے کہاکہ میں نے یہ نوٹ نہیں کیا، جے آئی ٹی رپورٹ پر ایسی کوئی مہر تھی جس میں رپورٹ کے لئے درخواست دینے والے کا نام لکھا ہو،اس موقع پر خواجہ حارث کاکہناتھاکہ کیا مہر میں ایسا کچھ لکھا تھا کہ تصدیق شدہ کاپی کے لیے ٹکٹس کس نے فراہم کیں جس پر عدالت نے انہیں کہاکہ تفتیشی نے کہہ دیا ہے کہ میں نے نوٹ ہی نہیں کی پھر اس پر دوبارہ سوال کیوں؟اگلا سوال پوچھیں جس پرخواجہ حارث نے کہاکہ کیا آپ اب وہ مہر دوبارہ دیکھنا چاہیں گے ؟جس کے جواب میں تفتیشی افسرنے کہاکہ مجھے اب وہ مہر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس پر عدالت نے کہاکہ جو سوال تفتیشی سے بنتا ہی نہیں وہ آپ پوچھ رہے ہیں ،عدالت نے وقفہ سے قبل سابق وزیر اعظم کو جانے کی اجازت دید ی ۔،وقفہ کے بعد جرح کے دوران خواجہ حارث نے پوچھاکہ ایتھن پلیس لندن میں پراپرٹی نمبر 99،97 کی لینڈ رجسٹری کی کاپی آپ نے ظاہر شاہ سے حاصل کی تھی،جس پر تفتیشی افسرنے بتایاکہ ایم ایل اے کے جواب میں لینڈ رجسٹری کی کاپی ظاہر شاہ سے لی تھی،اس موقع پر خواجہ حارث نے پوچھا کہ جو آپ نے ظاہر شاہ سے دستاویزات لی تھیں اس پراپرٹی کے ٹائیٹل نمبر مختلف تھا،جس کے جواب میں تفتیشی افسرنے کہاکہ جی مختلف تھا لیکن یہ دو الگ الگ پراپرٹی ہیں،خواجہ حارث کی طرف سے دونوں ہراپرٹی کے مختلف ہونے سے متعلق پوچھنے پر تفتیشی افسرنے کہاکہ جی یہ دونوں پراپرٹی الگ ہیں،جس پر خواجہ حارث نے پوچھاکہ آپ نے دستاویزات حاصل کرنے کیلئے جو درخواست میں کیا ڈسکرپشن دیا تھا،کیا آپ نے اپنی درخواست میں جو ڈسکرپشن دی تھی اس کے مطابق دستاویزات نہیں تھیں، جس پر تفتیشی محمد کامران کاکہناتھاکہ جی ڈسکرپشن کے مطابق دستاویزات نہیں ملی،جس پر خواجہ حارث نے پوچھاکہ کیا جو اپ کو پراپرٹی کی دستاویزات دی گئی وہ پراپرٹیز مختلف ہیں،جس کے جواب میں تفتیشی افسرنے لاعلمی کا اظہارکیا،مزید سماعت آج پھر ہوگی،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث جرح جاری رکھیں گے ۔

اسلام آباد(آن لائن )اسلام آبادکی خصوصی احتساب عدالت نمبر2کے جج محمد ارشدملک کی عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس میں سماعت کے دوران سابق وزیر اعظم نوازشریف عدالت پیش ہوئے اس موقع پر ان کے وکیل خواجہ حارث نے تفتیشی آفیسرمحمد کامران پر جرح کی ۔جرح کے دوران تفتیشی آفسر نے عدالت کو بتایا تفتیش کے دوران ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی کہ نواز شریف نے اپنے اکاونٹ سے فلیگ شپ ، کوئینٹ پنڈ گٹن یا کسی دوسری کمپنی کے لئے رقم فراہم کی،

حسن نواز کا ایسا کوئی بیان بھی نہیں دیکھا کہ والد کی جانب سے مجھے کوئی ایسی رقم فراہم کی گئی،ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ نواز شریف نے پاکستان یا بیرون ملک کسی اکاوئنٹ سے حسن و حسین نواز کے تعلیمی اخراجات پورے کئے، کسی گواہ نے زبانی بھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا،دوران تفتیش کسی نے نہیں کہا کہ حسن اور حسین نواز دو ہزار اور اسکے بعد نواز شریف کے زیر کفالت رہے،کسی گواہ نے نہیں کہا کہ کمپنی بناتے وقت حس نواز بے نامی دار تھے،تفتیش کے دوران ایسے کوئی شواہد نہیں دیکھے کہ حسن نواز پر برطانیہ میں کاروبار سے متعلق کسی بے ضابطگی کا الزام رہا ہو،جے آئی ٹی کی رپورٹ کے لئے میں نے خود کوئی درخواست نہیں دی، نیب ہیڈ کوارٹرز کو خط لکھا تھا کہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کریں،اس موقع پرتفتیشی افسرنے نیب ہیڈ کوارٹرز کو لکھا خط عدالت میں پیش کرتے ہوئے بتایاکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب راولپنڈی نے 17اگست 2017کو تصدیق شدہ جے آئی ٹی رپورٹ فراہم کی،تصدیق شدہ کاپی سے پہلے ایک غیر تصدیق شدہ کاپی بھی حاصل کر رکھی تھی،اس موقع پر عدالت نے استفسار کیاکہ جے آئی ٹی رپورٹ حاصل کرنے سے متعلق اتنے سوالات کی کیا اہمیت ہے؟خواجہ صاحب یہ آپ بھی مانتے ہیں کہ یہ سامنے جے آئی ٹی رپورٹ ہی رکھی ہے،نیب نے جیسے بھی یہ رپورٹ حاصل کی بس کر لی،

جس پرتفتیشی افسرنے کہاکہ میں نے یہ نوٹ نہیں کیا، جے آئی ٹی رپورٹ پر ایسی کوئی مہر تھی جس میں رپورٹ کے لئے درخواست دینے والے کا نام لکھا ہو،اس موقع پر خواجہ حارث کاکہناتھاکہ کیا مہر میں ایسا کچھ لکھا تھا کہ تصدیق شدہ کاپی کے لیے ٹکٹس کس نے فراہم کیں جس پر عدالت نے انہیں کہاکہ تفتیشی نے کہہ دیا ہے کہ میں نے نوٹ ہی نہیں کی پھر اس پر دوبارہ سوال کیوں؟اگلا سوال پوچھیں جس پرخواجہ حارث نے کہاکہ کیا آپ اب وہ مہر دوبارہ دیکھنا چاہیں گے ؟

جس کے جواب میں تفتیشی افسرنے کہاکہ مجھے اب وہ مہر دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے اس پر عدالت نے کہاکہ جو سوال تفتیشی سے بنتا ہی نہیں وہ آپ پوچھ رہے ہیں ،عدالت نے وقفہ سے قبل سابق وزیر اعظم کو جانے کی اجازت دید ی ۔،وقفہ کے بعد جرح کے دوران خواجہ حارث نے پوچھاکہ ایتھن پلیس لندن میں پراپرٹی نمبر 99،97 کی لینڈ رجسٹری کی کاپی آپ نے ظاہر شاہ سے حاصل کی تھی،جس پر تفتیشی افسرنے بتایاکہ ایم ایل اے کے جواب میں لینڈ رجسٹری کی کاپی ظاہر شاہ سے لی تھی،

اس موقع پر خواجہ حارث نے پوچھا کہ جو آپ نے ظاہر شاہ سے دستاویزات لی تھیں اس پراپرٹی کے ٹائیٹل نمبر مختلف تھا،جس کے جواب میں تفتیشی افسرنے کہاکہ جی مختلف تھا لیکن یہ دو الگ الگ پراپرٹی ہیں،خواجہ حارث کی طرف سے دونوں ہراپرٹی کے مختلف ہونے سے متعلق پوچھنے پر تفتیشی افسرنے کہاکہ جی یہ دونوں پراپرٹی الگ ہیں،جس پر خواجہ حارث نے پوچھاکہ آپ نے دستاویزات حاصل کرنے کیلئے جو درخواست میں کیا ڈسکرپشن دیا تھا،کیا آپ نے اپنی درخواست میں جو ڈسکرپشن دی تھی اس کے مطابق دستاویزات نہیں تھیں، جس پر تفتیشی محمد کامران کاکہناتھاکہ جی ڈسکرپشن کے مطابق دستاویزات نہیں ملی،جس پر خواجہ حارث نے پوچھاکہ کیا جو اپ کو پراپرٹی کی دستاویزات دی گئی وہ پراپرٹیز مختلف ہیں،جس کے جواب میں تفتیشی افسرنے لاعلمی کا اظہارکیا،مزید سماعت آج پھر ہوگی،نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث جرح جاری رکھیں گے ۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں