اہم خبریں

عنقریب نیب خاتمے کا نوٹیفیکیشن متوقع ، اسفند یار ولی نے حیران کر دیا

  پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  20:14
پشاور (آئی این پی )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کو تالے لگانے کے بعد عنقریب نیب خاتمے کا نوٹیفیکیشن متوقع ہے، ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ملنی والی ڈیڈ لائن لمحہ فکریہ ہے ،حکومت ایسے لوگوں کے حوالے کی گئی ہے جنہیں پالیسیاں بھی چیف جسٹس بنا کر دے رہے ہیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے15دسمبر کی ڈیڈلائن کے حوالے سے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ کرپشن اور احتساب کی گردان کرنے والوں کو ایف

(خبر جا ری ہے)

ایف پر بھی مؤقف دینا چاہئے ، حکومت وضاحت کرے کہ اس اہم ایشو پر جواب حکمران دیں گے یا کوئی اور ادارہ اس کیلئے بھی میدان میں آئے گا، انہوں نے کہا کہ اگر ریاست گرے لسٹ سے نکلنے کی خاطر FATFکو مطمئن کر لیتی ہے تو ہم بھی تسلیم کر لیں گے کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ادارے ایک پیج پر ہیں ، انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ مقتدر قوتوں اور ان کے چہیتوں کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے خاموشی معنی خیز ہے ،کرپٹ اور بد عنوان کا لفظ سیاسی قوتوں کے خلاف علامت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ مسلط وزیر اعظم کے اپنے بیانات ملک کو عالمی سطح پر کرپٹ اور بد عنوان ہونے کی سند جاری کرنے کیلئے کافی ہیں ، انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نازک صورتحال کا ادراک کریں ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم روز اول سے تمام اداروں اور افراد کے بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں جبکہ بدقسمتی سے ملک میں احتساب کو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے، انہوں نے گزشتہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر ایک بار پھر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ،کابل ،ضلع اورکزئی اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کو ففتھ جنریشن وار کے جعلی بیانیہ سے نہیں دبایا جا سکتا ،اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے اور حکومت سمیت ریاست کے مقتدر ادارے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پالیسیاں ری وزٹ کریں۔

پشاور (آئی این پی )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں احتساب کمیشن کو تالے لگانے کے بعد عنقریب نیب خاتمے کا نوٹیفیکیشن متوقع ہے، ایف اے ٹی ایف کی طرف سے ملنی والی ڈیڈ لائن لمحہ فکریہ ہے ،حکومت ایسے لوگوں کے حوالے کی گئی ہے جنہیں پالیسیاں بھی چیف جسٹس بنا کر دے رہے ہیں، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے15دسمبر کی ڈیڈلائن کے حوالے سے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ

کرپشن اور احتساب کی گردان کرنے والوں کو ایف اے ٹی ایف پر بھی مؤقف دینا چاہئے ، حکومت وضاحت کرے کہ اس اہم ایشو پر جواب حکمران دیں گے یا کوئی اور ادارہ اس کیلئے بھی میدان میں آئے گا، انہوں نے کہا کہ اگر ریاست گرے لسٹ سے نکلنے کی خاطر FATFکو مطمئن کر لیتی ہے تو ہم بھی تسلیم کر لیں گے کہ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف ریاست کے ادارے ایک پیج پر ہیں ، انہوں نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ مقتدر قوتوں اور ان کے چہیتوں کی طرف سے ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے خاموشی معنی خیز ہے ،کرپٹ اور بد عنوان کا لفظ سیاسی قوتوں کے خلاف علامت کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ مسلط وزیر اعظم کے اپنے بیانات ملک کو عالمی سطح پر کرپٹ اور بد عنوان ہونے کی سند جاری کرنے کیلئے کافی ہیں ، انہوں نے کہا کہ مقتدر حلقے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نازک صورتحال کا ادراک کریں ،اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ہم روز اول سے تمام اداروں اور افراد کے بلا امتیاز احتساب کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں جبکہ بدقسمتی سے ملک میں احتساب کو سیاسی مخالفین کے خلاف انتقام کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے، انہوں نے گزشتہ دنوں ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر ایک بار پھر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ،کابل ،ضلع اورکزئی اور کراچی میں دہشت گردی کے واقعات کو ففتھ جنریشن وار کے جعلی بیانیہ سے نہیں دبایا جا سکتا ،اس کے لئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے اور حکومت سمیت ریاست کے مقتدر ادارے دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پالیسیاں ری وزٹ کریں۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں