اہم خبریں

سانحہ پشاور،بنوں اور مستونگ پرہر آنکھ اشکبار لیکن دنیا کا وہ ملک جس کے وزیر اعظم نے مذمت تک کرنا گوارا نہ کیا،حالیہ دھماکوں سے جڑے چند چشم کشا انکشافات

  ہفتہ‬‮ 14 جولائی‬‮ 2018  |  16:36
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے مستونگ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے اور سیاستدانوں کی سیکورٹی بڑھانے کی ہدایات کی ہیں انہوں نے سیکورٹی فراہم کرنے والے اداروں سے19جولائی کو کمیٹی اجلاس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پرا ور سیکورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ مستونگ میں دل دہلانے والا واقعہ جس نے دو سو سے زائد خاندانوں کے چراغ گل کردئیے انتہائی قابل مذمت ہے۔دہشتگردی کی نئی لہر انتہائی پریشان کن ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا

(خبر جا ری ہے)

اور دوسرے دہشتگرد تنظیموں کے سر کچلے بغیر امن ممکن نہیں ہے افغانستان کو اپنی سرزمین پر موجود داعش اور طالبان کے ٹریننگ سنٹرز کو ختم کرنا ہوگا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان خالدخراسانی و دیگر ظالمان کو لانے کیلئے افغانی صدر اشرف غنی سے بات کریں دہشتگردی کا خاتمہ پاکستان و افغانستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے پاکستان نے مشکل وقت میں افغانستان کیساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا ہے پاکستان نے لاکھوں افغانی مہاجرین کو پناہ دی اور انکی معاشی اور اخلاقی مدد کرتا رہا۔افسوس کہ افغانستان نے آج بھی ہندوستان کی ایماء پرطالبان کو پناہ دے رکھی ہے افغانستان کا ہزاروں پاکستانیوں کے قاتلوں کو پناہ دینا پاکستان دشمنی ہے بلوچستان میں دو سو سے زائد لوگوں کی شہادت پر دنیا خون کے آنسو رورہی ہے بھارتی وزیراعظم مودی نے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ واقعات کی کبھی مذمت نہیں کی۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ پاکستان کیخلاف راء کی کوششوں سے داعش، طالبان اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ قائم ہوچکا ہے۔ دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات آنے والے الیکشن کو سبوتاڑ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے اور دشمنوں کی ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور پاک فوج کی دہشتگردی کیخلاف بے پناہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔قوم کو اپنے شہیدوں پر فخر ہےاور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں یکجا ہے الیکشن کو پرامن بنانے کیلئے حکومت کو غیرمعمولی اقدامات اٹھانے ہونگے تمام سیاسی قائدین، ووٹرز، پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ سٹاف کو تحفظ فراہم کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے جن سیاستدانوں کیلئے تھریٹ الرٹس جاری کئے گئے ہیں کو فل پروف سیکورٹی دی جائے پارٹیوں کے سربراہوں کی سیکیورٹی بڑھائی جائے اور انکو ممکنہ خطرات سے باخبر کیا جائے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر سیکورٹی کیلئے وضع کردہ موجودہ ایس او پیز میں بہتری لائی جائے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے مستونگ واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے اور سیاستدانوں کی سیکورٹی بڑھانے کی ہدایات کی ہیں انہوں نے سیکورٹی فراہم کرنے والے اداروں سے19جولائی کو کمیٹی اجلاس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات پرا ور سیکورٹی انتظامات پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔

سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ مستونگ میں دل دہلانے والا واقعہ جس نے دو سو سے زائد خاندانوں کے چراغ گل کردئیے انتہائی قابل مذمت ہے۔دہشتگردی کی نئی لہر انتہائی پریشان کن ہے جس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے، طالبان اور دوسرے دہشتگرد تنظیموں کے سر کچلے بغیر امن ممکن نہیں ہے افغانستان کو اپنی سرزمین پر موجود داعش اور طالبان کے ٹریننگ سنٹرز کو ختم کرنا ہوگا۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان خالدخراسانی و دیگر ظالمان کو لانے کیلئے افغانی صدر اشرف غنی سے بات کریں دہشتگردی کا خاتمہ پاکستان و افغانستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے پاکستان نے مشکل وقت میں افغانستان کیساتھ بھائیوں جیسا سلوک کیا ہے پاکستان نے لاکھوں افغانی مہاجرین کو پناہ دی اور انکی معاشی اور اخلاقی مدد کرتا رہا۔افسوس کہ افغانستان نے آج بھی ہندوستان کی ایماء پرطالبان کو پناہ دے رکھی ہے افغانستان کا ہزاروں پاکستانیوں کے قاتلوں کو پناہ دینا پاکستان دشمنی ہے بلوچستان میں دو سو سے زائد لوگوں کی شہادت پر دنیا خون کے آنسو رورہی ہے بھارتی وزیراعظم مودی نے پاکستان میں ہونے والی دہشتگردانہ واقعات کی کبھی مذمت نہیں کی۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ پاکستان کیخلاف راء کی کوششوں سے داعش، طالبان اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ قائم ہوچکا ہے۔ دہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات آنے والے الیکشن کو سبوتاڑ کرنے کی ناکام کوشش ہے۔ پاک فوج ہر قسم کے حالات سے نمٹنے اور دشمنوں کی ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور پاک فوج کی دہشتگردی کیخلاف بے پناہ قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی۔قوم کو اپنے شہیدوں پر فخر ہے

اور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں یکجا ہے الیکشن کو پرامن بنانے کیلئے حکومت کو غیرمعمولی اقدامات اٹھانے ہونگے تمام سیاسی قائدین، ووٹرز، پولنگ اسٹیشنز اور پولنگ سٹاف کو تحفظ فراہم کرنا نگران حکومت کی ذمہ داری ہے جن سیاستدانوں کیلئے تھریٹ الرٹس جاری کئے گئے ہیں کو فل پروف سیکورٹی دی جائے پارٹیوں کے سربراہوں کی سیکیورٹی بڑھائی جائے اور انکو ممکنہ خطرات سے باخبر کیا جائے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر سیکورٹی کیلئے وضع کردہ موجودہ ایس او پیز میں بہتری لائی جائے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں