اہم خبریں

آج کی دھماکہ خیز خبر: فوج سے ریٹائر نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کے خلاف پاک فوج نے بھی کارروائی کا اعلان کر دیا

  منگل‬‮ 10 جولائی‬‮ 2018  |  16:26
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کیپٹن صفدر اپنی یہ سزا مکمل کرینگے جو کہ احتساب عدالت نے دی ہے جس کے بعد ان کے خلاف رینکس کے حوالے سے کارروائی کی جائے گی، یہ بات انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ ایک صحافی نے میڈیا بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ کیا پاک فوج احتساب عدالت سےمجرم قرار دئیے جانے اور سزا یافتہ ہونے کے بعد پاک فوج سے ریٹائر نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کے رینکس کے حوالے سے بھی

(خبر جا ری ہے)

عمل میں لائی گی ؟جس پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر اپنی یہ سزا مکمل کرینگے جو کہ احتساب عدالت نے دی ہے جس کے بعد ان کے خلاف رینکس کے حوالے سے کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے قوانین کے مطابق اگر پاک فوج کا کوئی افسر اور جوان عدالت سے سزا یافتہ ہو جائے اور اس پر کوئی جرم ثابت ہو جائے تو پاک فوج اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے رینک واپس لے سکتی ہے جبکہ کیپٹن صفدر فوج سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد تنخواہ لے رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر روس اور بھارت سے ہونیوالے سائبر حملوں کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آج کا دور سائبر دنیا میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس حوالے سے ہم مناسب اقدامات کر رہے ہیں اور کامیاب بھی ہیں۔اس سے قبل ترجمان پاک فوج نے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کےفوج کے الیکشن کے حوالے سے کردار اور اس پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کونسا الیکشن پاکستان میں ایسا گزرا ہے جس سے پہلے کسی سیاستدان نے پارٹی نہیں بدلی، وہ الیکشن بتائیں جس سے پہلے قبل از انتخابات دھاندلی کے الزامات سیاسی جماعتوں نے نہیں لگائے،پاک فوج پر الیکشن انجینئرڈ کرنے کا الزام افسوسناک ہےہم صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیںاور 25جولائی تک آپ دیکھیں گے کہ پاک فوج صبر و تحمل سے اپنے فرائض سر انجام دیگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فون چلا گیا اور ایک بندے نےکسی کے کہنے پر پارٹی تبدیل کر لی ۔ قصور میںجونیئر فوجی افسر کی جانب سے ریٹرننگ افسر کو لکھے گئے خط کےمعاملےپر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ وہ خط اوپن تھا اور اوور سائٹ کا معاملہ ہے ، ہم نے اگر ایک پریس بریفنگ بلانی ہو تو اس میں اتنی کوآرڈینیشن چاہئے ہوتی ہےتو ملک بھر میں الیکشن میں فوج کی جانب سے سکیورٹی امور سر انجام دینے کیلئے بھی کوآرڈینیشن چاہئے ہوتی ہے تو ایسے میں ایک جونیئر فوجی افسر کی طرف سے کوآرڈینیشن اور اس حوالے سے امور کیلئےمیٹنگ کیلئے ریٹرننگ افسر کو خط لکھا گیا تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں اور وہ خط اوپن تھا ۔ اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں ایک تھری سٹار جنرل نے جا کر غلطی تسلیم کی ہے جو کہ ثابت کرتی ہے کہ فوج اپنے کردار کو واضح اور شفاف طریقے سے نبھانے کیلئے پرعزم ہے۔اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات کے دوران اس قسم کے واقعات پیش آنا الیکشن دھاندلی نہیں ہے، ملتان میں انتخابی امیدوار پر حساس اداروں کے اہلکاروں کی جانب تشدد کے واقعہ پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اس انتخابی امیدوار کے خلاف ڈیڑھ دو سال قبل محکمہ زراعت میں کیس تھا اور اس حوالے سے حساس اداروں کا کوئی کردار نہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے چلا کہ محکمہ زراعت نےاپنے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعہ کی تردید کی ہے تو محکمہ زراعت کے ریکارڈ میں دیکھا جا سکتا ہےکہ اس انتخابی امیدوار کا معاملہ محکمہ زراعت میں چل رہا ہے کہ نہیں، پاک فوج نہایت واضح انداز میں اس بات کی تردید کرتی ہے کہ پاک فوج کے زیر انتظام کسی بھی حساس ادارے کا کوئی اہلکار اس واقعہ میں ملوث نہیں۔ جیپ کے نشان پر پوچھے گئے سوال پر پاک فوج کےترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ انتخابی نشان پاک فوج انتخابی امیدواروں کو الاٹ نہیں کرتییہ کام الیکشن کمیشن کا کام ہے ، پاک فوج کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں۔ جیپ کے رنگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے، میڈیا کا کسی بھی ریاست میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ ایسے رنگ والی جیپیں پاک فوج کے زیر استعمال نہیں یہ رنگ انتخابی امیدوار ہی استعمال کرتے ہیں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ کیپٹن صفدر اپنی یہ سزا مکمل کرینگے جو کہ احتساب عدالت نے دی ہے جس کے بعد ان کے خلاف رینکس کے حوالے سے کارروائی کی جائے گی، یہ بات انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی۔ ایک صحافی نے میڈیا بریفنگ کے دوران سوال کیا کہ کیا

پاک فوج احتساب عدالت سےمجرم قرار دئیے جانے اور سزا یافتہ ہونے کے بعد پاک فوج سے ریٹائر نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کے رینکس کے حوالے سے بھی کوئی کارروائی عمل میں لائی گی ؟جس پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ کیپٹن صفدر اپنی یہ سزا مکمل کرینگے جو کہ احتساب عدالت نے دی ہے جس کے بعد ان کے خلاف رینکس کے حوالے سے کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پاک فوج کے قوانین کے مطابق اگر پاک فوج کا کوئی افسر اور جوان عدالت سے سزا یافتہ ہو جائے اور اس پر کوئی جرم ثابت ہو جائے تو پاک فوج اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اس کے رینک واپس لے سکتی ہے جبکہ کیپٹن صفدر فوج سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ کے بعد تنخواہ لے رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر روس اور بھارت سے ہونیوالے سائبر حملوں کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ آج کا دور سائبر دنیا میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس حوالے سے ہم مناسب اقدامات کر رہے ہیں اور کامیاب بھی ہیں۔اس سے قبل ترجمان پاک فوج نے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کےفوج کے الیکشن کے حوالے سے کردار اور اس پر لگنے والے الزامات کے حوالے سے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کونسا الیکشن پاکستان میں ایسا گزرا ہے جس سے پہلے کسی سیاستدان نے پارٹی نہیں بدلی، وہ الیکشن بتائیں جس سے پہلے قبل از انتخابات دھاندلی کے الزامات سیاسی جماعتوں نے نہیں لگائے،پاک فوج پر الیکشن انجینئرڈ کرنے کا الزام افسوسناک ہےہم صبر و تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں

اور 25جولائی تک آپ دیکھیں گے کہ پاک فوج صبر و تحمل سے اپنے فرائض سر انجام دیگی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فون چلا گیا اور ایک بندے نےکسی کے کہنے پر پارٹی تبدیل کر لی ۔ قصور میںجونیئر فوجی افسر کی جانب سے ریٹرننگ افسر کو لکھے گئے خط کےمعاملےپر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھاکہ وہ خط اوپن تھا اور اوور سائٹ کا معاملہ ہے ، ہم نے اگر ایک پریس بریفنگ بلانی ہو تو اس میں اتنی کوآرڈینیشن چاہئے ہوتی ہے

تو ملک بھر میں الیکشن میں فوج کی جانب سے سکیورٹی امور سر انجام دینے کیلئے بھی کوآرڈینیشن چاہئے ہوتی ہے تو ایسے میں ایک جونیئر فوجی افسر کی طرف سے کوآرڈینیشن اور اس حوالے سے امور کیلئےمیٹنگ کیلئے ریٹرننگ افسر کو خط لکھا گیا تو یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں اور وہ خط اوپن تھا ۔ اور اس حوالے سے الیکشن کمیشن میں ایک تھری سٹار جنرل نے جا کر غلطی تسلیم کی ہے جو کہ ثابت کرتی ہے کہ فوج اپنے کردار کو واضح اور شفاف طریقے سے نبھانے کیلئے پرعزم ہے۔

اتنے بڑے پیمانے پر انتظامات کے دوران اس قسم کے واقعات پیش آنا الیکشن دھاندلی نہیں ہے، ملتان میں انتخابی امیدوار پر حساس اداروں کے اہلکاروں کی جانب تشدد کے واقعہ پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ اس انتخابی امیدوار کے خلاف ڈیڑھ دو سال قبل محکمہ زراعت میں کیس تھا اور اس حوالے سے حساس اداروں کا کوئی کردار نہیں ۔ سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے چلا کہ محکمہ زراعت نےاپنے اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے واقعہ کی تردید کی ہے تو محکمہ زراعت کے ریکارڈ میں دیکھا جا سکتا ہے

کہ اس انتخابی امیدوار کا معاملہ محکمہ زراعت میں چل رہا ہے کہ نہیں، پاک فوج نہایت واضح انداز میں اس بات کی تردید کرتی ہے کہ پاک فوج کے زیر انتظام کسی بھی حساس ادارے کا کوئی اہلکار اس واقعہ میں ملوث نہیں۔ جیپ کے نشان پر پوچھے گئے سوال پر پاک فوج کےترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ انتخابی نشان پاک فوج انتخابی امیدواروں کو الاٹ نہیں کرتی

یہ کام الیکشن کمیشن کا کام ہے ، پاک فوج کا اس حوالے سے کوئی کردار نہیں۔ جیپ کے رنگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھا جائے، میڈیا کا کسی بھی ریاست میں ایک اہم کردار ہوتا ہے۔ ایسے رنگ والی جیپیں پاک فوج کے زیر استعمال نہیں یہ رنگ انتخابی امیدوار ہی استعمال کرتے ہیں۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں