اہم خبریں

’’ کب تک منے کے ابا کے ڈر سے استعفے دیتے رہیں گے‘‘ ملک میں خوف کی فضا طاری، بدترین سنسرشپ، خفیہ طاقتیں کالم اور خبریں روکنے کے ساتھ چینل کی نشریات بند کر رہی ہیں، ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایک پیج پر آگئے

  جمعہ‬‮ 4 مئی‬‮‬‮ 2018  |  16:44
اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں خوف کی فضاء طاری ہے، تکلیف دہ اور شرمندگی کا سامنا ہے، بولنے کا حق سلب کیا جا رہا ہے، آواز کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے۔وہ جمعہ کو سینیٹ میں خطاب کر رہی تھیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کو صحافیوں پر لاٹھی چارج نہیں ہوا، پولیس نے شیشے کی شیلڈ سے صحافیوں کو پارلیمنٹ جانے سے روکا۔ پارلیمنٹ کی حدود میں داخل ہنے سے وزارت داخلہ کے حکم پر روکا گیا، صحافیوں پر تشدد کا چیف جسٹس نے از خود

(خبر جا ری ہے)

ہے جبکہ وزارت اطلاعات نے پی آئی او کو انکوائری کا حکم دیا ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق کل 35صحافی مظاہرہ کر رہے تھے، افسوسناک واقعہ ہے، ملک میں بدترین سنسرشپ ہورہی ہے، بھٹو کی پھانسی کے موقع پر خبریں اتار دی جاتی تھیں اور اخبارات سفید چھاپے جاتے، چالیس سال گزرنے کے باوجود ٹی وی اور اخبارات گونگے اور بہرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا وزارت اطلاعات کا ذیلی ادارہ ہے جس نے چیئرمین پیمرا منتخب کرنا تھا لیکن عدالت کی جانب سے مجھے اس کمیٹی سے نکال دیا گیا، صحافی اور سول سوسائٹی کا نمائندہ بات نہ کر سکے، اداروں کے درمیان سانحہ ہوتا جا رہا ہے، ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے مباحثے شروع کر کے ایک دوسرے کو بیوقوف بنارہے ہیں اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہیے، کب تک منے کے ابا کے ڈر سے استعفے دیتے رہیں گے، اس سلسلے کو اب رکنا چاہیے، آج پی ایف یو جے کے درجنوں گروپ بن چکے ہیں ، اداروں کو تقسیم کر کے انہیں مفلوج کرنے کی روایت جاری رہی تو سیاسی اداروں کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر جمہوریت نہیں ہو گی، نواز شریف اور جمہوری لوگوں کی آواز بند کی جا رہی ہے، انہیں گونگ کیا جا رہا ہے، اسے بند ہونا چاہیے، اس کی مذمت ہونی چاہیے۔دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اطلاعات تک رسائی روک کر قانون کی شق 19کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، وہ کون سا قانون ہے کہ خفیہ طاقتوں کو کالم روکنے اور خبریں نہ چھاپنے کا کہہ رہی ہیں۔ وہ جمعہ کو سینیٹ میں خطاب کر رہے تھے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ بارہ گھنٹے گزر چکے ہیں امید تھی کہ وزیر اطلاعات ایوان میںآ کرمیڈیا پر لاٹھی چارج کرنے والوں کے حقائق کے بارے میں بتائیں گی لیکن انہوں نے ذمہ داری وزارت داخلہ پر ڈال دی، انٹی رائٹس فورس جب صحافیوں اور اساتذہ کے احتجاج پر حرکت میں آجاتی ہے مگر جب فیض آباد میں دھرنا ہوتا ہے تو اسے وہ نظر نہیں آتا، دس دن تک اسلام آباد تک لوگوں کی رسائی ختم ہو جاتی ہے، یہ درست ہے کہ خبریں اور کالم نہیں شائع ہو رہے بلکہ پورے چینل کی نشریات بند کی جا رہی ہیں،آرٹیکل 19کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، بغیر قانون اور نوٹیفکیشن کے یہ تمام کام ہو رہے ہیں، ضیاء دور میں صدارتی آرڈیننس نہیں ہے، آج کم از کم اتنی جگہ خالی چھوڑ دیں تا کہ پتہ چلے کہ یہ سنسر شپ کی وجہ سے نہیں شائع ہوا۔

اسلام آباد (آئی این پی)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک میں خوف کی فضاء طاری ہے، تکلیف دہ اور شرمندگی کا سامنا ہے، بولنے کا حق سلب کیا جا رہا ہے، آواز کا گلہ گھونٹا جا رہا ہے۔وہ جمعہ کو سینیٹ میں خطاب کر رہی تھیں۔ مریم اورنگزیب نے کہا کہ جمعرات کو صحافیوں پر لاٹھی چارج نہیں ہوا، پولیس نے شیشے کی شیلڈ سے صحافیوں کو پارلیمنٹ جانے سے روکا۔

پارلیمنٹ کی حدود میں داخل ہنے سے وزارت داخلہ کے حکم پر روکا گیا، صحافیوں پر تشدد کا چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیا ہے جبکہ وزارت اطلاعات نے پی آئی او کو انکوائری کا حکم دیا ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق کل 35صحافی مظاہرہ کر رہے تھے، افسوسناک واقعہ ہے، ملک میں بدترین سنسرشپ ہورہی ہے، بھٹو کی پھانسی کے موقع پر خبریں اتار دی جاتی تھیں اور اخبارات سفید چھاپے جاتے، چالیس سال گزرنے کے باوجود ٹی وی اور اخبارات گونگے اور بہرے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیمرا وزارت اطلاعات کا ذیلی ادارہ ہے جس نے چیئرمین پیمرا منتخب کرنا تھا لیکن عدالت کی جانب سے مجھے اس کمیٹی سے نکال دیا گیا، صحافی اور سول سوسائٹی کا نمائندہ بات نہ کر سکے، اداروں کے درمیان سانحہ ہوتا جا رہا ہے، ہم نے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کیلئے مباحثے شروع کر کے ایک دوسرے کو بیوقوف بنارہے ہیں اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ہونا چاہیے، کب تک منے کے ابا کے ڈر سے استعفے دیتے رہیں گے، اس سلسلے کو اب رکنا چاہیے، آج پی ایف یو جے کے درجنوں گروپ بن چکے ہیں ، اداروں کو تقسیم کر کے انہیں مفلوج کرنے کی روایت جاری رہی تو سیاسی اداروں کو اکٹھا ہونے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر جمہوریت نہیں ہو گی، نواز شریف اور جمہوری لوگوں کی آواز بند کی جا رہی ہے، انہیں گونگ کیا جا رہا ہے، اسے بند ہونا چاہیے، اس کی مذمت ہونی چاہیے۔

دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اطلاعات تک رسائی روک کر قانون کی شق 19کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، وہ کون سا قانون ہے کہ خفیہ طاقتوں کو کالم روکنے اور خبریں نہ چھاپنے کا کہہ رہی ہیں۔ وہ جمعہ کو سینیٹ میں خطاب کر رہے تھے۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ بارہ گھنٹے گزر چکے ہیں امید تھی کہ وزیر اطلاعات ایوان میں

آ کرمیڈیا پر لاٹھی چارج کرنے والوں کے حقائق کے بارے میں بتائیں گی لیکن انہوں نے ذمہ داری وزارت داخلہ پر ڈال دی، انٹی رائٹس فورس جب صحافیوں اور اساتذہ کے احتجاج پر حرکت میں آجاتی ہے مگر جب فیض آباد میں دھرنا ہوتا ہے تو اسے وہ نظر نہیں آتا، دس دن تک اسلام آباد تک لوگوں کی رسائی ختم ہو جاتی ہے، یہ درست ہے کہ خبریں اور کالم نہیں شائع ہو رہے بلکہ پورے چینل کی نشریات بند کی جا رہی ہیں،

آرٹیکل 19کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، بغیر قانون اور نوٹیفکیشن کے یہ تمام کام ہو رہے ہیں، ضیاء دور میں صدارتی آرڈیننس نہیں ہے، آج کم از کم اتنی جگہ خالی چھوڑ دیں تا کہ پتہ چلے کہ یہ سنسر شپ کی وجہ سے نہیں شائع ہوا۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں