اہم خبریں

عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ پڑھانے والے حیدر فاروق مودودی کی ’’ربوہ‘‘میں قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصرسے ملاقات کا انکشاف، پاکستان کو گناہ قرار دینے والاقائداعظم ؒ بارے کیا مغلظات بکتا رہا

  جمعرات‬‮ 15 فروری‬‮ 2018  |  15:54
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار اثر چوہان ’’سیاست نامہ‘‘کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔ اپنے آج کے کالم میں اثر چوہان نے ملک کی معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ پڑھانے والے جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودیؒ کے جماعت اسلامی سے منحرف بیٹے سید حیدر فاروق مودودیؒ کو موضوع بنایا ہے۔ اثر چوہان نے اپنے کالم میں سید حیدر فاروق مودودیسے متعلق دو واقعات کا ذکر کیا ہے۔ اثر چوہان لکھتے ہیں کہ معزز قارئین! انسانی حقوق کی علمبردار محترمہ عاصمہ جہانگیر کے جسد خاکی کو 13فروری کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا

(خبر جا ری ہے)

تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کریں!۔ مرحومہ کی نماز جنازہ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودیؒ مرحوم کے بیٹے حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی اور دو نجی نیوز چینلنوں نے اسے ’’مولانا‘‘حیدر فاروق مودودی کہا۔ جبکہ حیدر فاروق مودودی’’مولانا‘‘نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی کا کوئی بھی رکن اسے ’’مولانا‘‘تسلیم نہیں کرتا۔ دسمبر 1970کے عام انتخابات سے پہلے جولائی 1970میں، مرحوم مولانا کوثر نیازی کی ملکیت اور نذیر ناجی کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ’’شہاب‘‘لاہور میں حیدر فاروق مودودی کے بارے رپورٹ شائع ہوی تھی کہ ’’اس نے قادیانیوں کے ہیڈکوارٹر ’’ربوہ‘‘میں حاضر ہو کر قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصر احمد سے ملاقات کی ہے‘‘۔ پھر جماعت اسلامی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ ’’ہمیں حیدر فاروق مودودی کے قادیانیوں سے رابطے کے بارے میں علم نہیں ہے اور یہ کہ اس کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 25مارچ 2014کی شب ’’جیو نیوز‘‘کے ایک ٹاک شو میں حیدر فاروق مودودی نے قائداعظم کے بارے میں کہا تھا کہ ’’جناح صاحب‘‘کی منفی پالیسی کی وجہ سے ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیااور ہم سبھی پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے‘‘۔ٹاک شو میں شریک انصاری عباسی نے ان سے پوچھا کہ ’’ہم سے آپ کی کیا مراد ہے؟آپ کے ساتھ دوسرا شخص کون ہے؟تو حیدر فاروق کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا۔ 28مارچ کو میرے کالم کا عنوان تھا۔’’حیدر فاروق مودودی کھلا!‘‘۔ اس پر میں نے استاد شاعر ظفر الٰہ آبادی کا یہ شعر بھی جر دیا تھا کہ ۔۔کام جو کرتے ہیں بیہودہ ظفر کرتے ہیں۔۔ہرزہ گردی میں ہم اوقات بسر کرتے ہیں!۔ میں نے ایک پنجاب اکھان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’بٹیرے نئیں لڑدے، استاداں دے ہتھ لڑ دے نیں‘‘اور جب کوئی بٹیرا ہار جائے تو اس کے استاد کی کمبختی آجاتی ہے اور لوگ استاد کی بھی چھترول کرتے ہیں۔میں نے لکھا تھا کہ وہ کون سا استاد ہے جس نے زبان و بیان کے خنجروں سے لیس کر کے حیدر فاروق کو کھلا چھوڑ دیا ہے؟اور وہ۔۔پھر رہا ہے، حیدر فاروق مودودی کھلا!۔ کئی علما نے کہا ہے کہ ’’مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ تو ہو گئی لیکن حیدر فاروق مودودی ’’مولانا ‘‘نہیں ہے ۔اب مولانا صاحبان جانیں اور حیدر فاروق مودودی؟میں تو اس سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار اثر چوہان ’’سیاست نامہ‘‘کے نام سے کالم لکھتے ہیں۔ اپنے آج کے کالم میں اثر چوہان نے ملک کی معروف قانون دان عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ پڑھانے والے جماعت اسلامی کے بانی مولانا مودودیؒ کے جماعت اسلامی سے منحرف بیٹے سید حیدر فاروق مودودیؒ کو موضوع بنایا ہے۔

اثر چوہان نے اپنے کالم میں سید حیدر فاروق مودودیسے متعلق دو واقعات کا ذکر کیا ہے۔ اثر چوہان لکھتے ہیں کہ معزز قارئین! انسانی حقوق کی علمبردار محترمہ عاصمہ جہانگیر کے جسد خاکی کو 13فروری کو لاہور میں سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند کریں!۔ مرحومہ کی نماز جنازہ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودیؒ مرحوم کے بیٹے حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی اور دو نجی نیوز چینلنوں نے اسے ’’مولانا‘‘حیدر فاروق مودودی کہا۔ جبکہ حیدر فاروق مودودی’’مولانا‘‘نہیں ہے۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی کا کوئی بھی رکن اسے ’’مولانا‘‘تسلیم نہیں کرتا۔ دسمبر 1970کے عام انتخابات سے پہلے جولائی 1970میں، مرحوم مولانا کوثر نیازی کی ملکیت اور نذیر ناجی کی ادارت میں شائع ہونے والے ہفت روزہ’’شہاب‘‘لاہور میں حیدر فاروق مودودی کے بارے رپورٹ شائع ہوی تھی کہ ’’اس نے قادیانیوں کے ہیڈکوارٹر ’’ربوہ‘‘میں حاضر ہو کر قادیانیوں کے خلیفہ مرزا ناصر احمد سے ملاقات کی ہے‘‘۔ پھر جماعت اسلامی کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ ’’ہمیں حیدر فاروق مودودی کے قادیانیوں سے رابطے کے بارے میں علم نہیں ہے اور یہ کہ اس کا جماعت اسلامی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 25مارچ 2014کی شب ’’جیو نیوز‘‘کے ایک ٹاک شو میں حیدر فاروق مودودی نے قائداعظم کے بارے میں کہا تھا کہ ’’جناح صاحب‘‘کی منفی پالیسی کی وجہ سے ہندوستان دو حصوں میں تقسیم ہو گیااور ہم سبھی پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے‘‘۔

ٹاک شو میں شریک انصاری عباسی نے ان سے پوچھا کہ ’’ہم سے آپ کی کیا مراد ہے؟آپ کے ساتھ دوسرا شخص کون ہے؟تو حیدر فاروق کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا۔ 28مارچ کو میرے کالم کا عنوان تھا۔’’حیدر فاروق مودودی کھلا!‘‘۔ اس پر میں نے استاد شاعر ظفر الٰہ آبادی کا یہ شعر بھی جر دیا تھا کہ ۔۔کام جو کرتے ہیں بیہودہ ظفر کرتے ہیں۔۔ہرزہ گردی میں ہم اوقات بسر کرتے ہیں!۔ میں نے ایک پنجاب اکھان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’بٹیرے نئیں لڑدے، استاداں دے ہتھ لڑ دے نیں‘‘

اور جب کوئی بٹیرا ہار جائے تو اس کے استاد کی کمبختی آجاتی ہے اور لوگ استاد کی بھی چھترول کرتے ہیں۔میں نے لکھا تھا کہ وہ کون سا استاد ہے جس نے زبان و بیان کے خنجروں سے لیس کر کے حیدر فاروق کو کھلا چھوڑ دیا ہے؟اور وہ۔۔پھر رہا ہے، حیدر فاروق مودودی کھلا!۔ کئی علما نے کہا ہے کہ ’’مرحومہ عاصمہ جہانگیر کی نماز جنازہ تو ہو گئی لیکن حیدر فاروق مودودی ’’مولانا ‘‘نہیں ہے ۔اب مولانا صاحبان جانیں اور حیدر فاروق مودودی؟میں تو اس سے زیادہ نہیں لکھ سکتا۔

موضوعات:

loading...