اہم خبریں

باقر نجفی رپورٹ،غیرمصدقہ خبروں پر مبنی،قانونی طور پر ناقابل تسلیم۔۔مگر سیاسی مخالفین کے لئے قابل قبول

  بدھ‬‮ 6 دسمبر‬‮ 2017  |  18:29
ہائیکورٹ کی حکم نامے کی تعمیل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ہدایت پر گزشتہ روز باقر علی نجفی کی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پبلک کردی گئی ۔ جس کے باعث عوام کو جھوٹ ،سچ اور حقیقت کی کشمکش میں عجیب سیصورتحال کا سامنا ہے۔مگر یہاں حقیقت نمایا ں ہے اور جھوٹ و سچ بھی واضح ہے۔ غیر موثر، غیر واضح، اورنقائص سے بھرپو ر اِس رپورٹ نے عوام میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی صوبے کے عوام کیساتھ لگاؤ اور اخلاص کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔ جن پہلوؤں کو سچ ظاہر کرنے

(خبر جا ری ہے)

گئی اُن کا حقیقت سے تعلق نہیں تھا۔ اِس رپورٹ کی تٖفصیلات میں جانے سے پہلے یہ قابل غور باتیں کا جان لینا بہت ضروری ہیں کہ عام طو ایسے واقعات کی تحقیقات انسپکٹر اور سب انسپکٹر کے ذمے ہوتی ہے مگر وزیراعلیٰ شہبازشریف نے صاف اور جامع تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی ، اور یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر میں قصور وار ٹھہرایا گیا اور ایف آئی آر درج کی جائے۔ مگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو کمیشن کی رپورٹ کا حصہ نہ بنایا گیا جسکے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرقانون پر سانحہ کی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی تھی ، ۔جبکہ اِس باقر نجفی رپورٹ کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں۔دلچسپ بات تو یہ کہ اِس رپورٹ میں آخر میں لکھا گیا ہے قارئین نتائج خود اخذ کرلیں،کیونکہ رپورٹ میں اتنے جھوُل اور تضادات ہیں کہ ذمہ دار کا تعین کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔اِس رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی مورخہ 17-06-2014کو کی جانے والی پریس کانفرنس کو بالکل نظرانداز کیا گیا ہے جس میں اِنہوں نے ماڈل ٹاؤن واقعے کو انتہائی افسوس ناک اور انتہائی اندوہناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا ہم سب رنجیدہ ہیں اور بہت دل گیر ہیں اور خون کے آنسو دل رو رہا ہے ۔اُنہوں اِس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ 17جون کی علی الصبح( 9بجے) مجھے اِس واقعے کا علم ہوا تو فوری طور پر آپریشن روکنے کی ہدایت کر دی ۔کیونکہ حیرت انگیز طور پر باقر نجفی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیراعلیٰ پنجاب نے کمیشن میں جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں تو ذکر کیا مگر پریس کانفرنس میں اِس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اُنہیں سانحہ کا علی الصبح خبر ہوئی ‘‘ جو ناقابل فہمہے۔یہاں قابل تشویش سوال یہ ہے کہ ایسی غیر مصدقہ خبروں پر مبنی رپورٹ کا پبلک کرنا کہیں انتشار کا باعث تو نہیں بن جائیگا؟کیونکہ اِن خدشات کا اظہار اظہار سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمن پر مشتمل ایک رُکنی کمیٹی نے ٹربیونل کی فائنڈنگاور سانحہ کے حالات و واقعات کے متعلق رپورٹ میں بھی کیا جاچکا ہے،جس میں جسٹس خلیل الرحمن نے حکومت کو تجویز کیا تھا کہ وہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو قبول نہ کرے کیونکہ یہ رپورٹ مفاد عامہ کے منافی ہے اور اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن عامہ کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے کیونکہ کے مطابق ٹربیونل بہت سارے حقائق سامنے نہیں لائے اور ٹربیونل نے جو آبزرویشنز دیں وہ کسی ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتیں۔جسٹس خلیل الرحمن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ حکومت اس معاملے میں انکوائری کرےاور اس حوالے سے اسمبلی سے قانون منظور کروائے۔ 52صفحات پر مشتمل خلیل الرحمٰن رپورٹ میں کہا گیا کہ نجفی ٹربیونل نے وزیراعلیٰ کے حوالے سے جائے وقوعہ کو پولیس سے خالی کروانے سے متعلق جو فائنڈنگ دی ہیں یہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں یہ ٹربیونل کی اپنی سوچ کی عکاس ہیں اور اس حوالے سے ٹربیونل کی اپنی رپورٹ میں تضادات ہیں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مختلف ملکوں کے اس حوالے سے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ ٹربیونل نے بہت سے حقائق کو نظرانداز بھی کیا۔آئی بی کی رپورٹ کو بھی نظرانداز کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ طاہر القادری کے گھر سے فائرنگ ہوئی جس سے 3پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ اس پہلو کو بھی نظرانداز کیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا یا گیا اور مظاہرین کی براہ راست فائرنگ سے کانسٹیبل ذیشان زخمی ہوا۔ کمیٹی نے لکھا کہ ٹربیونل نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ لکھتے ہوئے خود کو جج تصور کر لیا۔ یہ بھی تصور کیا گیا کہ وزیر قانون نے طاہر القادری کو اپنے مقاصد کے حصول کو پورا نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ شہادت موجود ہےکہ وزیر قانون نے رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا اور اس کی کوئی اور وجوہات نہ تھیں۔ گواہوں کے بیانات ہیں کہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے فائرنگ کی اور انٹرنیشنل مارکیٹ کی چھت پر پوزیشنیں لیں۔ کمیٹی نے لکھا کہ سٹی گورنمنٹ ایڈمنسٹریشن نے صرف غیرقانونی رکاوٹیں ختم کیں اگر یہ غیرقانونی تھا تو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا تھا۔ ٹربیونل نے ایک موقع پر خود اپنی رپورٹ میں دو متضاد موقف بھی اختیار کئے۔ ٹربیونل کا یہ کہنا کہ وزیراعلیٰ نے اپنی پریس کانفرنس میں پولیس کو ہٹانے کے حوالے سے اپنے احکامات کا ذکر نہیں کیا درست نہیں کیونکہ وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کے آخر میں کہا تھا کہ جب انہیں صبح واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا۔https://twitter.com/MAsifkhan0/status/938360881158807552مزید براں گزشتہ روز وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس رپورٹ میں کسی حکومتی شخصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، طاہر القادری فرماتے ہیں کہ سانحہ کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے یہ بتایا جائے کہ کارکنوں کو پولیس پر حملہ آور ہونے کے لیے کس نے کہا؟ وہ کون تھا جو انہیں اکساتا رہا؟ پوری رات شہادت کا کہتا رہا؟ ایسی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا ذکر اس رپورٹ میں کیوں نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں موقع پر موجود کسی پولیس اہلکار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا،عوامی تحریک کی جانب سے کوئی شہادت جمع نہیں کرائی گئی، اس رپورٹ میں جن شواہد پر انحصار کیا گیا وہ شواہد درست نہیں اسی لیے وزیراعلیٰ سے کہا تھا کہ اگر رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو معاملہ پیچیدگیاں پیدا کرے گا، اس رپورٹ کی اشاعت کو لارجر بینچ کے فیصلے سے منسلک کیا جائے۔وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کوئی ایک شق نہیں ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دے صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ جب وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں آیاتو انہوں نے یہ حکم دیا کہ مظاہرین سے نمٹا جائے، تصادم کی راہ خود عوامی تحریک کے کارکنوں نے پیدا کی، اس کمیشن میں پیش کردہ شواہد یک طرفہ ہیں، مختلف خفیہ اداروں کی رپورٹس میں دونوں اطراف سے فائرنگ کا ذکر ہے تاہم خفیہ اداروں کی وہ رپورٹس کمیشن میں شامل نہیں کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے، قانون کی نظر میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر ہےاس لیے یہ رپورٹ شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی اس رپورٹ کی اشاعت سے مقدمے کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،ہائی کورٹ کا آج حکم آچکا ہے جس کے بعد وزیراعلیٰ نے حکم دیا ہے کہ رپورٹ پبلک کردی جائے چنانچہ آج اس رپورٹ کے مندرجات پڑھ کر سنارہا ہوں،یہ رپورٹ آج پبلک ہوچکی ہے، لارجر بینچ کا فیصلہ ہے کہ رپورٹ میں معلومات ہے جو عوام تک پہنچنی چاہیے تاہم بینچ نے قرار دیا ہے کہ اس رپورٹ کو شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔‎

ہائیکورٹ کی حکم نامے کی تعمیل کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی ہدایت پر گزشتہ روز باقر علی نجفی کی سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پبلک کردی گئی ۔ جس کے باعث عوام کو جھوٹ ،سچ اور حقیقت کی کشمکش میں عجیب سیصورتحال کا سامنا ہے۔مگر یہاں حقیقت نمایا ں ہے اور جھوٹ و سچ بھی واضح ہے۔
غیر موثر، غیر واضح، اورنقائص سے بھرپو ر اِس رپورٹ نے عوام میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی صوبے کے عوام کیساتھ لگاؤ اور اخلاص کے حوالے سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ۔

جن پہلوؤں کو سچ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی اُن کا حقیقت سے تعلق نہیں تھا۔ اِس رپورٹ کی تٖفصیلات میں جانے سے پہلے یہ قابل غور باتیں کا جان لینا بہت ضروری ہیں کہ عام طو ایسے واقعات کی تحقیقات انسپکٹر اور سب انسپکٹر کے ذمے ہوتی ہے مگر وزیراعلیٰ شہبازشریف نے صاف اور جامع تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی تشکیل دی ، اور یہ عندیہ بھی دیا کہ اگر میں قصور وار ٹھہرایا گیا اور ایف آئی آر درج کی جائے۔ مگر جے آئی ٹی کی رپورٹ کو کمیشن کی رپورٹ کا حصہ نہ بنایا گیا جسکے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیرقانون پر سانحہ کی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی تھی ، ۔جبکہ اِس باقر نجفی رپورٹ کی قانونی طور پر کوئی حیثیت نہیں۔دلچسپ بات تو یہ کہ اِس رپورٹ میں آخر میں لکھا گیا ہے قارئین نتائج خود اخذ کرلیں،کیونکہ رپورٹ میں اتنے جھوُل اور تضادات ہیں کہ ذمہ دار کا تعین کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔اِس رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کی مورخہ 17-06-2014کو کی جانے والی پریس کانفرنس کو بالکل نظرانداز کیا گیا ہے جس میں اِنہوں نے ماڈل ٹاؤن واقعے کو انتہائی افسوس ناک اور انتہائی اندوہناک واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا ہم سب رنجیدہ ہیں اور بہت دل گیر ہیں اور خون کے آنسو دل رو رہا ہے ۔اُنہوں اِس بات سے بھی آگاہ کیا تھا کہ 17جون کی علی الصبح( 9بجے) مجھے اِس واقعے کا علم ہوا تو فوری طور پر آپریشن روکنے کی ہدایت کر دی ۔

کیونکہ حیرت انگیز طور پر باقر نجفی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیراعلیٰ پنجاب نے کمیشن میں جمع کرائے گئے بیانِ حلفی میں تو ذکر کیا مگر پریس کانفرنس میں اِس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اُنہیں سانحہ کا علی الصبح خبر ہوئی ‘‘ جو ناقابل فہمہے۔یہاں قابل تشویش سوال یہ ہے کہ ایسی غیر مصدقہ خبروں پر مبنی رپورٹ کا پبلک کرنا کہیں انتشار کا باعث تو نہیں بن جائیگا؟کیونکہ اِن خدشات کا اظہار اظہار سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس خلیل الرحمن پر مشتمل ایک رُکنی کمیٹی نے ٹربیونل کی فائنڈنگ

اور سانحہ کے حالات و واقعات کے متعلق رپورٹ میں بھی کیا جاچکا ہے،جس میں جسٹس خلیل الرحمن نے حکومت کو تجویز کیا تھا کہ وہ جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو قبول نہ کرے کیونکہ یہ رپورٹ مفاد عامہ کے منافی ہے اور اسے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن عامہ کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال ہے کیونکہ کے مطابق ٹربیونل بہت سارے حقائق سامنے نہیں لائے اور ٹربیونل نے جو آبزرویشنز دیں وہ کسی ریکارڈ سے ثابت نہیں ہوتیں۔جسٹس خلیل الرحمن نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی تھی کہ حکومت اس معاملے میں انکوائری کرے

اور اس حوالے سے اسمبلی سے قانون منظور کروائے۔ 52صفحات پر مشتمل خلیل الرحمٰن رپورٹ میں کہا گیا کہ نجفی ٹربیونل نے وزیراعلیٰ کے حوالے سے جائے وقوعہ کو پولیس سے خالی کروانے سے متعلق جو فائنڈنگ دی ہیں یہ حقائق پر مبنی نہیں ہیں یہ ٹربیونل کی اپنی سوچ کی عکاس ہیں اور اس حوالے سے ٹربیونل کی اپنی رپورٹ میں تضادات ہیں۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مختلف ملکوں کے اس حوالے سے قوانین اور عدالتی فیصلوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا کہ ٹربیونل نے بہت سے حقائق کو نظرانداز بھی کیا۔

آئی بی کی رپورٹ کو بھی نظرانداز کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ طاہر القادری کے گھر سے فائرنگ ہوئی جس سے 3پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ اس پہلو کو بھی نظرانداز کیا گیا کہ پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا یا گیا اور مظاہرین کی براہ راست فائرنگ سے کانسٹیبل ذیشان زخمی ہوا۔ کمیٹی نے لکھا کہ ٹربیونل نے اس معاملے پر اپنا فیصلہ لکھتے ہوئے خود کو جج تصور کر لیا۔ یہ بھی تصور کیا گیا کہ وزیر قانون نے طاہر القادری کو اپنے مقاصد کے حصول کو پورا نہ ہونے دینے کا فیصلہ کیا۔ حالانکہ شہادت موجود ہے

کہ وزیر قانون نے رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ قانون کے مطابق کیا اور اس کی کوئی اور وجوہات نہ تھیں۔ گواہوں کے بیانات ہیں کہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے فائرنگ کی اور انٹرنیشنل مارکیٹ کی چھت پر پوزیشنیں لیں۔ کمیٹی نے لکھا کہ سٹی گورنمنٹ ایڈمنسٹریشن نے صرف غیرقانونی رکاوٹیں ختم کیں اگر یہ غیرقانونی تھا تو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا جا سکتا تھا۔ ٹربیونل نے ایک موقع پر خود اپنی رپورٹ میں دو متضاد موقف بھی اختیار کئے۔ ٹربیونل کا یہ کہنا کہ وزیراعلیٰ نے اپنی پریس کانفرنس میں پولیس کو ہٹانے کے حوالے سے اپنے احکامات کا ذکر نہیں کیا درست نہیں کیونکہ وزیراعلیٰ نے پریس کانفرنس کے آخر میں کہا تھا کہ جب انہیں صبح واقعے کا علم ہوا تو انہوں نے فوری طور پر اس کا نوٹس لیا۔

مزید براں گزشتہ روز وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس رپورٹ میں کسی حکومتی شخصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، طاہر القادری فرماتے ہیں کہ سانحہ کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے یہ بتایا جائے کہ کارکنوں کو پولیس پر حملہ آور ہونے کے لیے کس نے کہا؟ وہ کون تھا جو انہیں اکساتا رہا؟ پوری رات شہادت کا کہتا رہا؟ ایسی صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا ذکر اس رپورٹ میں کیوں نہیں ہے؟انہوں نے کہا کہ رپورٹ میں موقع پر موجود کسی پولیس اہلکار کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا،

عوامی تحریک کی جانب سے کوئی شہادت جمع نہیں کرائی گئی، اس رپورٹ میں جن شواہد پر انحصار کیا گیا وہ شواہد درست نہیں اسی لیے وزیراعلیٰ سے کہا تھا کہ اگر رپورٹ پیش کی جاتی ہے تو معاملہ پیچیدگیاں پیدا کرے گا، اس رپورٹ کی اشاعت کو لارجر بینچ کے فیصلے سے منسلک کیا جائے۔وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں کوئی ایک شق نہیں ہے جو وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس سانحہ کا ذمہ دار قرار دے صرف اتنا کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ جب وزیر اعلیٰ کے نوٹس میں آیا

تو انہوں نے یہ حکم دیا کہ مظاہرین سے نمٹا جائے، تصادم کی راہ خود عوامی تحریک کے کارکنوں نے پیدا کی، اس کمیشن میں پیش کردہ شواہد یک طرفہ ہیں، مختلف خفیہ اداروں کی رپورٹس میں دونوں اطراف سے فائرنگ کا ذکر ہے تاہم خفیہ اداروں کی وہ رپورٹس کمیشن میں شامل نہیں کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ رپورٹ نقائص سے بھرپور ہے، قانون کی نظر میں جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ غیر موثر ہے

اس لیے یہ رپورٹ شہادت کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی اس رپورٹ کی اشاعت سے مقدمے کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،ہائی کورٹ کا آج حکم آچکا ہے جس کے بعد وزیراعلیٰ نے حکم دیا ہے کہ رپورٹ پبلک کردی جائے چنانچہ آج اس رپورٹ کے مندرجات پڑھ کر سنارہا ہوں،یہ رپورٹ آج پبلک ہوچکی ہے، لارجر بینچ کا فیصلہ ہے کہ رپورٹ میں معلومات ہے جو عوام تک پہنچنی چاہیے تاہم بینچ نے قرار دیا ہے کہ اس رپورٹ کو شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔‎

loading...