اہم خبریں

پیپلزپارٹی الیکشن لڑے گی یا بائیکاٹ کریگی؟ نواز شریف کی گرفتاری کے اگلے دن ہی بلاول بھٹو نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا کن دو سیاسی جماعتوں کو اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی قرار دیدیا؟

  ہفتہ‬‮ 14 جولائی‬‮ 2018  |  14:45
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے انتخابات کے بائیکاٹ کو مسترد کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن لڑنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں ، سندھ سے لیکر خیبرپختونخواہ تک ہماری پارٹی کے کارکنوں اور رہنمائوں کو کٹھ پتلی جماعتوں میں شمولیت کیلئے دبائو ڈالا جا رہا ہے چاہے وہ جی ڈی اے ہو یا تحریک انصاف۔ بلاول بھٹو نے الیکشن بائیکاٹ کے حوالے سے سامنے آنیوالی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم تحفظات کے باوجود الیکشن لڑیں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف

(خبر جا ری ہے)

جبکہ تمام جماعتوں کو برابری کی سطح پر سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہئے جو کہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحفظات کے باوجود الیکشن لڑیں گے اور پارلیمنٹ میں جا کر ان تحفظات پر آواز اٹھائیں گے۔ اگر برابر ی کی سطح پر انتخابات کیلئے سرگرمیوں کی اجازت نہ ملی تو یہ انتخابات متنازع ہو سکتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جیسا کام ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا۔ میں پہلے دن سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا رونا رو رہا ہوں جس پر اس کی صحت اور روح کے مطابق عمل نہیںہوا۔ اقتدار میں آکر نیا نیشنل ایکشن پلان مرتب کرینگے اور اس پر عملدرآمد کروائیں گے۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر سانحہ مستونگ کے بعد مالاکنڈ کا جلسہ ملتوی کرنے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے شہدا اور بلوچستان عوامی پارٹی سے اظہار یکجہتی کیلئے مالاکنڈ کا جلسہ ملتوی کیا۔سکیورٹی خدشات کی وجہ سے میری سرگرمیوں کو محدود کیا جا رہا ہے تاہم میں مالاکنڈ جائوں گا اور وہاں کارکنوں سے ملاقات کروں گا۔ پاکستان میں ایک بار پھر نیا کٹھ پتلی آئی جے آئی اتحاد بنایا جا رہا ہے، سندھ میں جی ڈی اے اور تحریک انصاف کو کھلی چھٹی اور دوسری جماعتوں کے راستے میں رکاوٹوں سے الیکشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے انتخابات کے بائیکاٹ کو مسترد کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الیکشن لڑنےکا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے راستے میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں ، سندھ سے لیکر خیبرپختونخواہ تک ہماری پارٹی کے کارکنوں اور رہنمائوں کو کٹھ پتلی جماعتوں میں شمولیت کیلئے

دبائو ڈالا جا رہا ہے چاہے وہ جی ڈی اے ہو یا تحریک انصاف۔ بلاول بھٹو نے الیکشن بائیکاٹ کے حوالے سے سامنے آنیوالی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم تحفظات کے باوجود الیکشن لڑیں گے اور ہم چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں جبکہ تمام جماعتوں کو برابری کی سطح پر سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہئے جو کہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تحفظات کے باوجود الیکشن لڑیں گے اور پارلیمنٹ میں جا کر ان تحفظات پر آواز اٹھائیں گے۔ اگر برابر ی کی سطح پر انتخابات کیلئے سرگرمیوں کی اجازت نہ ملی تو یہ انتخابات متنازع ہو سکتے ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جیسا کام ہونا چاہئے تھا وہ نہیں ہوا۔ میں پہلے دن سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا رونا رو رہا ہوں جس پر اس کی صحت اور روح کے مطابق عمل نہیںہوا۔ اقتدار میں آکر نیا نیشنل ایکشن پلان مرتب کرینگے اور اس پر عملدرآمد کروائیں گے۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر سانحہ مستونگ کے بعد مالاکنڈ کا جلسہ ملتوی کرنے کے حوالے سے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے شہدا اور بلوچستان عوامی پارٹی سے اظہار یکجہتی کیلئے مالاکنڈ کا جلسہ ملتوی کیا۔سکیورٹی خدشات کی وجہ سے میری سرگرمیوں کو محدود کیا جا رہا ہے تاہم میں مالاکنڈ جائوں گا اور وہاں کارکنوں سے ملاقات کروں گا۔ پاکستان میں ایک بار پھر نیا کٹھ پتلی آئی جے آئی اتحاد بنایا جا رہا ہے، سندھ میں جی ڈی اے اور تحریک انصاف کو کھلی چھٹی اور دوسری جماعتوں کے راستے میں رکاوٹوں سے الیکشن کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں