اہم خبریں

عمران خان الیکشن میں حصہ لینے کے اہل ہیں یا نہیں ،ریٹرننگ افسر نے فیصلہ سنا دیا

  منگل‬‮ 19 جون‬‮ 2018  |  15:55
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عام انتخابات 2018 کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔عمران خان کے کاغذات نامزدگی بیان حلفی کی شق 'این' کے تحت مسترد کیے گئے۔ واضح رہے کہ جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے گئے تھے، جس پر دونوں فریقین کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ افسر (آر او) نے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کیا، جو

(خبر جا ری ہے)

دیا گیا۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ نے اعتراضات میں اخباری تراشے اور فوٹو اسٹیٹ کاپیاں جمع کرائیں جس پر یقین نہیں رکھ سکتے اور فوٹو کاپیوں پر یقین کرنے کا مقصد امیدواروں کو انتخابات کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ہے۔بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ امریکی عدالت کے ایک فیصلے کو سامنے لایا، امریکی عدالت کے فیصلے میں بچی کے باپ کا نام کہاں لکھا گیا؟ باپ کا نام نہیں، یہ فوٹو کاپیاں ہیں۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ خالہ کو نہیں پتہ اس کا باپ کون ہے، حلف نامے میں نہیں پتہ کونسا عمران خان ہے اور حلف نامہ نومبر 18 سال 2004 کو لاہور میں تیار کیا گیا اور یہ کاغذ 19 نومبر کو اڑ کر امریکی عدالت میں پہنچ گیا، اس وقت پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست فلائٹ بھی نہیں جاتی تھی۔اس موقع پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ کاغذات سے یکسر انکار بھی نہیں کیا گیا جس پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کل ہم نے ان کاغذات کو مسترد کیا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا ہے۔گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات بے بنیاد اور فریب کاری پر مبنی ہیں۔جواب میں مزید کہا گیا تھا کہ اعتراضات فوٹو اسٹیٹ کاغذات پر مشتمل اور غیر تصدیق شدہ ہیں جو جعل سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔تحریری جواب کے مطابق بیرون ملک سے کاغذات منگوانے اور بھجوانے کا قانونی طریقہ کار موجود ہے اور عمران خان پر اعتراضات کے کاغذ پکوڑے لپیٹنے کے کام بھی نہیں آسکتے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عام انتخابات 2018 کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 53 سے جمع کرائے جانے والے کاغذات نامزدگی مسترد کردیئے گئے۔عمران خان کے کاغذات نامزدگی بیان حلفی کی شق ‘این’ کے تحت مسترد کیے گئے۔

واضح رہے کہ جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالوہاب کی جانب سے عمران خان کے خلاف اعتراضات ریٹرننگ افسر کو جمع کرائے گئے تھے، جس پر دونوں فریقین کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد ریٹرننگ افسر (آر او) نے اعتراضات پر فیصلہ محفوظ کیا، جو اب سنایا دیا گیا۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ نے اعتراضات میں اخباری تراشے اور فوٹو اسٹیٹ کاپیاں جمع کرائیں جس پر یقین نہیں رکھ سکتے اور فوٹو کاپیوں پر یقین کرنے کا مقصد امیدواروں کو انتخابات کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا ہے۔بابر اعوان نے دلائل میں کہا کہ درخواست کنندہ امریکی عدالت کے ایک فیصلے کو سامنے لایا، امریکی عدالت کے فیصلے میں بچی کے باپ کا نام کہاں لکھا گیا؟ باپ کا نام نہیں، یہ فوٹو کاپیاں ہیں۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ خالہ کو نہیں پتہ اس کا باپ کون ہے، حلف نامے میں نہیں پتہ کونسا عمران خان ہے اور حلف نامہ نومبر 18 سال 2004 کو لاہور میں تیار کیا گیا اور یہ کاغذ 19 نومبر کو اڑ کر امریکی عدالت میں پہنچ گیا، اس وقت پاکستان سے امریکا کے لیے براہ راست فلائٹ بھی نہیں جاتی تھی۔اس موقع پر ریٹرننگ افسر نے کہا کہ کاغذات سے یکسر انکار بھی نہیں کیا گیا جس پر وکیل بابر اعوان نے کہا کہ کل ہم نے ان کاغذات کو مسترد کیا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا ہے۔گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے وکیل کے ذریعے جواب جمع کرایا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان کے خلاف اٹھائے جانے والے اعتراضات بے بنیاد اور فریب کاری پر مبنی ہیں۔جواب میں مزید کہا گیا تھا کہ اعتراضات فوٹو اسٹیٹ کاغذات پر مشتمل اور غیر تصدیق شدہ ہیں جو جعل سازی کے زمرے میں آتے ہیں۔تحریری جواب کے مطابق بیرون ملک سے کاغذات منگوانے اور بھجوانے کا قانونی طریقہ کار موجود ہے اور عمران خان پر اعتراضات کے کاغذ پکوڑے لپیٹنے کے کام بھی نہیں آسکتے۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں