اہم خبریں

شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی لڑائی عروج پر، عمران خان بے بس ہوگئے ،ٹکٹوں کی تقسیم پر جھگڑا،عجیب و غریب صورتحال

  اتوار‬‮ 10 جون‬‮ 2018  |  17:41
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف میں ایک مرتبہ پھر ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ پر اقربا پروری نے غلبہ پا لیا ہے۔ عمران خان جنوبی پنجاب کے دونوں دھڑوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں ،شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی ذاتی عناد ،چپقلش ،ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور اقربا پروری کی جنگ سے جنوبی پنجاب کے بعض حلقوں میں نہ صرف اپنی پوزیشن کمزور کررہے ہیں بلکہ بعض حلقوں میں تو مسلم لیگی امیدوار مبارکبادیں اور داد وصول کر رہے ہیں ۔ روزنامہ خبریں کے مطابق جہانگیر ترین نے لودھراں میں پہلا ہاتھ اپنے سیاسی

(خبر جا ری ہے)

سابق رکن قومی اسمبلی نواب امان اللہ سے کیا اور انہیں منانے ان کے گھر پہنچ گئے ۔جہانگیر ترین نے ساری پرانی پی ٹی آئی کو جھنڈی کروادی اور پرانے ساتھی جن میں نواب امان اللہ خان ،میاں ارشد اقبال ،احمد شاہ ،عزت جاوید ،حسن محمود شاہ ،شیر محمد اعوان ،ارشاد خان گھلو کی جگہ نئی لاٹ میں نذیر بلوچ،شفیق ارائیں ،زوار وڑائچ،اختر کانجو ،اعجاز نون ،نواب حیات اللہ ،محمود نواز جوئیہ کو متعارف کرادیا۔ جس سے بہٹ بڑا ابہام پیدا ہوگیا ہے اور ابھی تک ضلع لودھراں میں پی ٹی آئی کی ایک بھی نشست کا فیصلہ نہیں ہوا اور اس طرح پورے جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے اہم فیصلے کرنے والے اپنے ضلع کے فیصلے کرنے میں تادم تحریر ناکام نظر آرہے ہیں ۔دوسری طرف شاہ محمود قریشی نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر میرٹ کو ایک طرف رکھ کر محض گروپ بازی میں وسیم خان بادوزئی جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مضبوط ترین امیدوارجو کہ 2013کے پنکچروں والے الیکشن میں صرف2000ووٹوں سے ہارے ۔کی جگہ پر اپنی بھانجی کے خاوند معین قریشی کو لانے کا فیصلہ کیا ہے۔وسیم خان بادوزئی کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ابراہیم خان کے کہنے پر جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی پر مشتمل گروپ کیساتھ چند ماہ سے وابستگی اختیار رکر رکھی تھی ۔جس کی وجہ سے وہ شاہ محمود قریشی کے میرٹ پر پورے نہ اترے اور ان کی جگہ معین قریشی کو لایا جارہا ہے ۔ جو پیپلز پارٹی کے ایک کارکن عثمان بھٹی سے ایک ضمنی الیکشن میں شکست کھا چکے ہیں ا ور جن کا اپنے انتخابی حلقے میں کئی سال سے کوئی رابطہ نہیں مگر وہ چار سال مسلسل رابطے رکھنے والے وسیم خان پر محض برادری کی بنیاد پر بھاری قرار پائے ۔توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ معین قریشی نے گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے واپس کی راہ لے لی تھی اور مسلم لیگ ن کی پناہ میں چلے گئے تھے ۔معین قریشی ویسے بھی زیادہ تر کینیڈا میں گزارتے ہیں ۔شاہ محمود قریشی نے اپنی سیٹ کیساتھ ساتھ اپنے بیٹے زین قریشی کی سیٹ بھی پکی کر لی ہے ۔مگردوسری طرف پی ٹی آئی کے دونوں بڑوں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے سکندر بوسن کیلئے دل کے دروازے کھول رہے ہیں اور سالہا سال سے قومی اسمبلی کے اس حلقے این اے 154میں پی ٹی آئی کی قیادت اور ورکروں کی خدمت کرنے والے احمد حسین ڈیہڑ پر دل تنگ کر رکھا ہے ۔حالانکہ سکندر بوسن 2013کے الیکشن میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد عین وقت مسلم لیگ ن میں چلے گئے تھے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو اس حلقے میں بہت بڑا دھچکا لگا۔تحریک انصاف کے ورکر تو سکندو بوسن کے اس دھوکے کو بھول نہیں پار ہے ۔البتہ پی ٹی آئی کی ان دونوں بڑوں پر قیادت بھول چکی ہے ۔سکندر بوسن کو پی ٹی آئی میں لانے کیلئے سب سے زیادہ کوشش جہانگیر ترین کر رہے ہیں ۔جن کے تاحال لودھراں میں سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوسکی ۔ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی اس کوشش میں ہیں کہ اگر معین قریشی کو ٹکٹ نہیں ملتا تو پھر ملک عامر ڈوگر کے بھائی عدنان ڈوگر کو اکاموڈیٹ کرلیا جائے مگر وسیم خان بادوزئی کو پٹھان گروپ کیساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے کی سزا ضرور دی جائے ۔دوسری طرف شاہ محمود میاں چنوں سے مضبوط ترین امیدوار پی اسلم بودلہ کے مقابلے میں ظہور قریشی کو لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ جو کہ بہرحال اسلم بودلہ کے مقابلے میں کمزور امیدوار مگر شاہ محمود قریشی کے قریبی رشتے دار ہیں ۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 154میں ٹکٹ کسے ملے گا۔اس کا فیصلہ ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی سے رائے حسن نواز کریں گے ۔جن حلقوں کے حوالے سے اوپر ذکر کیا گیا یہاں پی ٹی آئی کے کارکنوں میں شدید مضطرب پایا جاتا ہے اور اکا دکا چھوٹے چھوٹے ردعمل بھی سامنے آئے ہیں جو بڑھنے کے امکانات ہیں ۔حیران کن طور پر اس صورتحال سے اسحاق خاکوانی اور ابراہیم خان لاتعلق ہیں اور کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف میں ایک مرتبہ پھر ٹکٹوں کی تقسیم میں میرٹ پر اقربا پروری نے غلبہ پا لیا ہے۔ عمران خان جنوبی پنجاب کے دونوں دھڑوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس ہو چکے ہیں ،شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کی ذاتی عناد ،چپقلش ،ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور اقربا پروری کی جنگ سے جنوبی پنجاب کے بعض حلقوں میں نہ صرف اپنی پوزیشن کمزور کررہے ہیں بلکہ بعض حلقوں میں تو مسلم لیگی امیدوار مبارکبادیں اور داد وصول کر رہے ہیں ۔

روزنامہ خبریں کے مطابق جہانگیر ترین نے لودھراں میں پہلا ہاتھ اپنے سیاسی استاد اور سابق رکن قومی اسمبلی نواب امان اللہ سے کیا اور انہیں منانے ان کے گھر پہنچ گئے ۔جہانگیر ترین نے ساری پرانی پی ٹی آئی کو جھنڈی کروادی اور پرانے ساتھی جن میں نواب امان اللہ خان ،میاں ارشد اقبال ،احمد شاہ ،عزت جاوید ،حسن محمود شاہ ،شیر محمد اعوان ،ارشاد خان گھلو کی جگہ نئی لاٹ میں نذیر بلوچ،شفیق ارائیں ،زوار وڑائچ،اختر کانجو ،اعجاز نون ،نواب حیات اللہ ،محمود نواز جوئیہ کو متعارف کرادیا۔ جس سے بہٹ بڑا ابہام پیدا ہوگیا ہے اور ابھی تک ضلع لودھراں میں پی ٹی آئی کی ایک بھی نشست کا فیصلہ نہیں ہوا اور اس طرح پورے جنوبی پنجاب سمیت ملک بھر میں پی ٹی آئی کے اہم فیصلے کرنے والے اپنے ضلع کے فیصلے کرنے میں تادم تحریر ناکام نظر آرہے ہیں ۔دوسری طرف شاہ محمود قریشی نے بھی ٹکٹوں کی تقسیم پر میرٹ کو ایک طرف رکھ کر محض گروپ بازی میں وسیم خان بادوزئی جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مضبوط ترین امیدوارجو کہ 2013کے پنکچروں والے الیکشن میں صرف2000ووٹوں سے ہارے ۔کی جگہ پر اپنی بھانجی کے خاوند معین قریشی کو لانے کا فیصلہ کیا ہے۔وسیم خان بادوزئی کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ابراہیم خان کے کہنے پر جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی پر مشتمل گروپ کیساتھ چند ماہ سے وابستگی اختیار رکر رکھی تھی ۔

جس کی وجہ سے وہ شاہ محمود قریشی کے میرٹ پر پورے نہ اترے اور ان کی جگہ معین قریشی کو لایا جارہا ہے ۔ جو پیپلز پارٹی کے ایک کارکن عثمان بھٹی سے ایک ضمنی الیکشن میں شکست کھا چکے ہیں ا ور جن کا اپنے انتخابی حلقے میں کئی سال سے کوئی رابطہ نہیں مگر وہ چار سال مسلسل رابطے رکھنے والے وسیم خان پر محض برادری کی بنیاد پر بھاری قرار پائے ۔

توجہ طلب امر یہ بھی ہے کہ معین قریشی نے گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی کے ساتھ پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر کے واپس کی راہ لے لی تھی اور مسلم لیگ ن کی پناہ میں چلے گئے تھے ۔معین قریشی ویسے بھی زیادہ تر کینیڈا میں گزارتے ہیں ۔شاہ محمود قریشی نے اپنی سیٹ کیساتھ ساتھ اپنے بیٹے زین قریشی کی سیٹ بھی پکی کر لی ہے ۔

مگردوسری طرف پی ٹی آئی کے دونوں بڑوں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی نے سکندر بوسن کیلئے دل کے دروازے کھول رہے ہیں اور سالہا سال سے قومی اسمبلی کے اس حلقے این اے 154میں پی ٹی آئی کی قیادت اور ورکروں کی خدمت کرنے والے احمد حسین ڈیہڑ پر دل تنگ کر رکھا ہے ۔حالانکہ سکندر بوسن 2013کے الیکشن میں پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد عین وقت مسلم لیگ ن میں چلے گئے تھے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کو اس حلقے میں بہت بڑا دھچکا لگا۔

تحریک انصاف کے ورکر تو سکندو بوسن کے اس دھوکے کو بھول نہیں پار ہے ۔البتہ پی ٹی آئی کی ان دونوں بڑوں پر قیادت بھول چکی ہے ۔سکندر بوسن کو پی ٹی آئی میں لانے کیلئے سب سے زیادہ کوشش جہانگیر ترین کر رہے ہیں ۔جن کے تاحال لودھراں میں سیٹوں کی ایڈجسٹمنٹ نہیں ہوسکی ۔ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی اس کوشش میں ہیں کہ اگر معین قریشی کو ٹکٹ نہیں ملتا تو پھر ملک عامر ڈوگر کے بھائی عدنان ڈوگر کو اکاموڈیٹ کرلیا جائے مگر وسیم خان بادوزئی کو پٹھان گروپ کیساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے کی سزا ضرور دی جائے ۔

دوسری طرف شاہ محمود میاں چنوں سے مضبوط ترین امیدوار پی اسلم بودلہ کے مقابلے میں ظہور قریشی کو لانے میں کامیاب ہو رہے ہیں ۔ جو کہ بہرحال اسلم بودلہ کے مقابلے میں کمزور امیدوار مگر شاہ محمود قریشی کے قریبی رشتے دار ہیں ۔ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقے این اے 154میں ٹکٹ کسے ملے گا۔اس کا فیصلہ ساہیوال کی تحصیل چیچہ وطنی سے رائے حسن نواز کریں گے ۔جن حلقوں کے حوالے سے اوپر ذکر کیا گیا یہاں پی ٹی آئی کے کارکنوں میں شدید مضطرب پایا جاتا ہے اور اکا دکا چھوٹے چھوٹے ردعمل بھی سامنے آئے ہیں جو بڑھنے کے امکانات ہیں ۔حیران کن طور پر اس صورتحال سے اسحاق خاکوانی اور ابراہیم خان لاتعلق ہیں اور کوئی کردار ادا کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ۔

loading...