اہم خبریں

راحیل شریف نگران وزیر اعظم ،کرپشن فری پاکستان کیلئے 3سالہ نگران سیٹ اپ کا خاکہ تیار ،وزیر اعظم کو الیکشن آگے کرنے کا مشورہ،پلان کاؤنٹر کیلئے حکمت عملی تیار ،اسلامی عسکری اتحاد کی کمان کسی اور ریٹائرڈ جنرل کو سونپنے پر غور

  پیر‬‮ 30 اپریل‬‮ 2018  |  12:14
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے میں تقریباً ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔ تاہم وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر تاحال نگران وزیراعظم کے ناموں پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی زیرقیادت نگران سیٹ اپ چلانے کے آپشن پر دوبارہ سنجیدگی سے غور شروع ہوگیا ہے۔روزنامہ نیا اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس ڈویلپمنٹ سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپشن پر ایک برس پہلے غور شروع کیا گیا تھا اور اس کے لئے جواز یہ تھا کہ پاکستان کو کرپشن سے صاف کرنے کے

(خبر جا ری ہے)

ہے کہ تین برس کے لئے ایک مضبوط نگران حکومت تشکیل دی جائے جو بلاتفریق سب کاکڑا احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ اہم ترین اصلاحات نافذ کرنے کے بعد عام انتخابات کرائے تاکہ ایک نئی لیڈرشپ سامنے آسکے اور ملک درست راہ پر گامزن ہوجائے۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ تین سالہ نگران حکومت کے دور میں ہی انتخابی اصلاحات کے تحت صدارتی نظام حکومت متعارف کرانے کا پلان بھی سرفہرست ہے۔ اس کے لئے دلیل یہ اختیار کی گئی ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت متعدد باردو تہائی اکثریت لینے کے باوجود بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے لہٰذا ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے اور اہم فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام حکومت سے بدل دیاجائے۔ صدارتی نظام میں نہ صرف فیصلہ سازی کا اختیار فرد واحد کے پاس آجاتا ہے بلکہ انتظامی امور بھی چند لوگ چلاتے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں ان بھاری اخراجات سے بھی بچا جاسکے گا جو 345 کے ایوان پرمشتمل پارلیمانی نظام میں بے دریغ کئے جاتے ہیں۔ پھر یہ کہ پارلیمانی نظام کے تحت حکومتی عموماً اپوزیشن سے بلیک میل ہوتی ہے لہٰذا کئی اہم فیصلوں پر عملدرآمد کی پوزیشن میں نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے لئے ناگزیر کئی اہم اصلاحات اب تک نافذ نہیں کی جا سکی ۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک کے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانے پرجاری بحث نئی نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی مختلف سطح پر یہ اسٹڈی 1980ء کے اوائل سے کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں کاغذات تیار ہوتے رہے ہیں اور پھر شیلف میں بند بھی کئے جاتے رہے۔ تا ہم باوجوہ اس پلان پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ اب ایک بار پھر یہ پیپرز نہایت سنجیدگی کے ساتھ زیر مطالعہ ہیں۔ ذرائع کے بقول مجوزہ تین سالہ نگران حکومت کے دور میں جن اہم اصلاحات کو نافذ کرنے کا پلان ہے‘ اس میں صنعت کاروں کی حکمرانی رہے گی‘ جوہر بار الیکشن جیت کر اقتدار میں آجاتے ہیں۔لہٰذا موجودہ انتخابی نظام میں نئی لیڈر شپ ابھر ہی نہیں سکتی۔ ذرائع کے مطابق اصلاحات کے حوالے سے دوسرا اہم ہدف احتساب ریفارمز ہیں۔ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں احتساب سے متعلق اہم اصلاحات کو نافذ کر دے گی‘ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں کمیشن بھی نہیں بنا سکی۔ یہ معاملہ 2010ءسے زیر التوا ہے۔ لیکن احتساب بل تک منظور نہیں کرایا جا سکا۔ اسی طرح ایجوکیشن‘ بیورو کریسی‘عدلیہ اور میڈیا کے حوالے سے بھی اہم اصلاحات پلان کا حصہ ہیں۔ جبکہ پالیسی سازوں کے خیال میں ان تمام مشکل اہداف کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف دو سے تین برس کی نگراں حکومت درکار ہے‘ بلکہ نگران حکومت کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے اس کی قیادت کے لئے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پالیسی سازوں کی اکثریت کا ان کے نام پر اتفاق ہے۔ ان کے خیال میں جنرل (ر) راحیل شریف نے شہری ‘دیہاتی اور معاشی ہر قسم کی دہشت گردی کو قریب سے دیکھ رکھا ہے اور اپنے دور میں اس سے نمٹتے بھی رہے ہیں۔ بیرونی مداخلت کے معاملے کو بھی دو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ پھر یہ کہ 41 رکنی اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر ان کے مختلف ممالک کے اہم لوگوں سے تعلقات اور ہم آہنگی مزید بہتر ہو چکی ہے اور خلیجی ممالک میں ان کی خاصی آﺅ بھگت ہے۔ پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جنرل (ر) راحیل شریف دبنگ شخصیت کے مالک ہیں۔ لہٰذا ان کی قیادت میں نگراں حکومت اپنے تمام مشکل اورہم اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر اس آپشن پر عمل کا حتمی فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اسلامی اتحادی فوج کی کمان کوئی دوسرا پاکستانی سابق جرنیل بھی سنبھال سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اگلے ایک ڈیڑھ برس میں ریٹائر ہونے والی کوئی اہم فوجی شخصیت کو ہی سعودی عرب یہ ذمہ داری دیدے۔ روزنامہ نیا اخبار کے مطابق اہم مرحلہ یہ ہے کہ مجوزہ پلان پر عمل درآمد کا طریقہ کار کیاہو گا؟ اس کے لئے زیادہ توقعات یہ رکھی جا رہی ہیں کہ نگران وزیراعظم کے معاملے پر حکومت اوراپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو پائے گا یا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس صورت حال میں یہ ایشو پہلے پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا اور وہاں بھی حل نہ ہونے پر بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں آجائے گی اور اس صورت میں مرضی کی نگراں حکومت لانا آسان ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حالات کو بھانپتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن نگراں وزیراعظم اور دیگر سیٹ اپ پر اتفاق کر لیتی ہیں تو پلان بھی کے تحت چند ماہ کی نگراں حکومت کو مخصوص حالات کے تناظر میں توسیع دی جا سکتی ہےاور پھر اس مرحلے کے دوران ہی جنرل (ر) راحیل شریف کو نگراں سیٹ اپ کا حصہ بنایا جائے گا۔ نگراں حکومت میں صاف ستھرے کردار کے مالک ریٹائرڈ بیورو کریٹس‘ ریٹائرڈ ججز اور ریٹاڈ فوجی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ان میں سے بہت سوں کو امور حکومت چلانے کے کورس بھی کرائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اپنی مدت ختم ہونے سے صرف ایک ماہ پہلے بجٹ پیش کرنے اور پانچ وفاقی وزرا کی کابینہ میں حیران کن شمولیت سے متعلق حکومت کے اقدامات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔کیونکہ منصوبہ سازوں کو یہ سن گن بھی مل رہی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مخصوص حالات الیکشن ایک برس کے لئے آگے بڑھانے کا آئینی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اسے بھی کاﺅنٹر کرنے کا پلان بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگران سیٹ اپ کے حوالے سے بات چیت جاری ہیں۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) موجودہ حکومت کی مدت پوری ہونے میں تقریباً ایک ماہ باقی رہ گیا ہے۔ تاہم وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر تاحال نگران وزیراعظم کے ناموں پر اتفاق نہیں کرسکے ہیں۔ ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف کی زیرقیادت نگران سیٹ اپ چلانے کے آپشن پر دوبارہ سنجیدگی سے غور شروع ہوگیا ہے۔روزنامہ نیا اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس ڈویلپمنٹ سے آگاہ ذرائع کا کہنا ہے

کہ اس آپشن پر ایک برس پہلے غور شروع کیا گیا تھا اور اس کے لئے جواز یہ تھا کہ پاکستان کو کرپشن سے صاف کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تین برس کے لئے ایک مضبوط نگران حکومت تشکیل دی جائے جو بلاتفریق سب کاکڑا احتساب کرنے کے ساتھ ساتھ اہم ترین اصلاحات نافذ کرنے کے بعد عام انتخابات کرائے تاکہ ایک نئی لیڈرشپ سامنے آسکے اور ملک درست راہ پر گامزن ہوجائے۔ ذرائع کے مطابق اس مجوزہ تین سالہ نگران حکومت کے دور میں ہی انتخابی اصلاحات کے تحت صدارتی نظام حکومت متعارف کرانے کا پلان بھی سرفہرست ہے۔ اس کے لئے دلیل یہ اختیار کی گئی ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت متعدد باردو تہائی اکثریت لینے کے باوجود بھی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہا ہے لہٰذا ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجوں سے نمٹنے اور اہم فیصلوں پر عملدرآمد کے لئے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام حکومت سے بدل دیاجائے۔ صدارتی نظام میں نہ صرف فیصلہ سازی کا اختیار فرد واحد کے پاس آجاتا ہے بلکہ انتظامی امور بھی چند لوگ چلاتے ہیں لہٰذا اس صورتحال میں ان بھاری اخراجات سے بھی بچا جاسکے گا جو 345 کے ایوان پرمشتمل پارلیمانی نظام میں بے دریغ کئے جاتے ہیں۔ پھر یہ کہ پارلیمانی نظام کے تحت حکومتی عموماً اپوزیشن سے بلیک میل ہوتی ہے لہٰذا کئی اہم فیصلوں پر عملدرآمد کی پوزیشن میں نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے لئے ناگزیر کئی اہم اصلاحات اب تک نافذ نہیں کی جا سکی ۔ ذرائع نے بتایا کہ ملک کے پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام حکومت لانے پر

جاری بحث نئی نہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی مختلف سطح پر یہ اسٹڈی 1980ء کے اوائل سے کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں کاغذات تیار ہوتے رہے ہیں اور پھر شیلف میں بند بھی کئے جاتے رہے۔ تا ہم باوجوہ اس پلان پر عمل نہیں کیا جا سکا۔ اب ایک بار پھر یہ پیپرز نہایت سنجیدگی کے ساتھ زیر مطالعہ ہیں۔ ذرائع کے بقول مجوزہ تین سالہ نگران حکومت کے دور میں جن اہم اصلاحات کو نافذ کرنے کا پلان ہے‘ اس میں صنعت کاروں کی حکمرانی رہے گی‘ جوہر بار الیکشن جیت کر اقتدار میں آجاتے ہیں۔

لہٰذا موجودہ انتخابی نظام میں نئی لیڈر شپ ابھر ہی نہیں سکتی۔ ذرائع کے مطابق اصلاحات کے حوالے سے دوسرا اہم ہدف احتساب ریفارمز ہیں۔ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں احتساب سے متعلق اہم اصلاحات کو نافذ کر دے گی‘ لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ پالیسی سازوں کو امید تھی کہ موجودہ حکومت اپنے دور اقتدار میں کمیشن بھی نہیں بنا سکی۔ یہ معاملہ 2010ءسے زیر التوا ہے۔ لیکن احتساب بل تک منظور نہیں کرایا جا سکا۔ اسی طرح ایجوکیشن‘ بیورو کریسی‘

عدلیہ اور میڈیا کے حوالے سے بھی اہم اصلاحات پلان کا حصہ ہیں۔ جبکہ پالیسی سازوں کے خیال میں ان تمام مشکل اہداف کو حاصل کرنے کے لئے نہ صرف دو سے تین برس کی نگراں حکومت درکار ہے‘ بلکہ نگران حکومت کا مضبوط ہونا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے اس کی قیادت کے لئے سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف کے نام پر غور کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پالیسی سازوں کی اکثریت کا ان کے نام پر اتفاق ہے۔ ان کے خیال میں جنرل (ر) راحیل شریف نے شہری ‘

دیہاتی اور معاشی ہر قسم کی دہشت گردی کو قریب سے دیکھ رکھا ہے اور اپنے دور میں اس سے نمٹتے بھی رہے ہیں۔ بیرونی مداخلت کے معاملے کو بھی دو بہتر طور پر سمجھتے ہیں۔ پھر یہ کہ 41 رکنی اسلامی اتحادی فوج کے سربراہ کے طور پر ان کے مختلف ممالک کے اہم لوگوں سے تعلقات اور ہم آہنگی مزید بہتر ہو چکی ہے اور خلیجی ممالک میں ان کی خاصی آﺅ بھگت ہے۔ پالیسی ساز سمجھتے ہیں کہ جنرل (ر) راحیل شریف دبنگ شخصیت کے مالک ہیں۔ لہٰذا ان کی قیادت میں نگراں حکومت اپنے تمام مشکل اور

ہم اہداف حاصل کر سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اگر اس آپشن پر عمل کا حتمی فیصلہ کر لیا جاتا ہے تو اسلامی اتحادی فوج کی کمان کوئی دوسرا پاکستانی سابق جرنیل بھی سنبھال سکتا ہے اور عین ممکن ہے کہ اگلے ایک ڈیڑھ برس میں ریٹائر ہونے والی کوئی اہم فوجی شخصیت کو ہی سعودی عرب یہ ذمہ داری دیدے۔ روزنامہ نیا اخبار کے مطابق اہم مرحلہ یہ ہے کہ مجوزہ پلان پر عمل درآمد کا طریقہ کار کیاہو گا؟ اس کے لئے زیادہ توقعات یہ رکھی جا رہی ہیں کہ نگران وزیراعظم کے معاملے پر حکومت اور

اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے نہیں ہو پائے گا یا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اس صورت حال میں یہ ایشو پہلے پارلیمانی کمیٹی کے پاس جائے گا اور وہاں بھی حل نہ ہونے پر بال الیکشن کمیشن کے کورٹ میں آجائے گی اور اس صورت میں مرضی کی نگراں حکومت لانا آسان ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق حالات کو بھانپتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن نگراں وزیراعظم اور دیگر سیٹ اپ پر اتفاق کر لیتی ہیں تو پلان بھی کے تحت چند ماہ کی نگراں حکومت کو مخصوص حالات کے تناظر میں توسیع دی جا سکتی ہے

اور پھر اس مرحلے کے دوران ہی جنرل (ر) راحیل شریف کو نگراں سیٹ اپ کا حصہ بنایا جائے گا۔ نگراں حکومت میں صاف ستھرے کردار کے مالک ریٹائرڈ بیورو کریٹس‘ ریٹائرڈ ججز اور ریٹاڈ فوجی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ان میں سے بہت سوں کو امور حکومت چلانے کے کورس بھی کرائے جا چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اپنی مدت ختم ہونے سے صرف ایک ماہ پہلے بجٹ پیش کرنے اور پانچ وفاقی وزرا کی کابینہ میں حیران کن شمولیت سے متعلق حکومت کے اقدامات پر بھی نظر رکھی جا رہی ہے۔

کیونکہ منصوبہ سازوں کو یہ سن گن بھی مل رہی ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مخصوص حالات الیکشن ایک برس کے لئے آگے بڑھانے کا آئینی اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ اگر یہ اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو اسے بھی کاﺅنٹر کرنے کا پلان بنایا جائے گا۔واضح رہے کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان نگران سیٹ اپ کے حوالے سے بات چیت جاری ہیں۔

موضوعات:

loading...