اہم خبریں

اپوزیشن کے امیدوار صادق سنجرانی کے چیئرمین سینٹ بننے کے بعد سب سے بڑا سیاسی دھماکہ، سنجرانی چیئرمین سینٹ بننے کے اہل ہی نہیں ہیں کیونکہ۔۔۔! کھلبلی مچ گئی

  پیر‬‮ 12 مارچ‬‮ 2018  |  19:44
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی منتخب ہو گئے ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینٹ کے قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر پانچ سال کم ہے، نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 ہے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت کی کم سے کم عمر 45 سال ہونی چاہیے۔ صدرکے لیے آئین میں متعین عمرکی حدکا اطلاق قائم مقام صدر پر

(خبر جا ری ہے)

ہے، اس طرح نومنتخب چیئرمین سینٹ کی عمر قائم مقام صدر بننے کے لیے کم ہے، واضح رہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہلی کے بعدکوئی بھی شخص پارٹی امور کسی دوسرے عہدے سے نہیں چلا سکتا، جس طرح چیئرمین سینٹ قائم مقام صدر ہوتا ہے اسی طرح ڈپٹی چیئرمین ، چیئرمین نیب کی عدم موجودگی کے موقع پر چیئرمین ہوتا ہے اور اس کی اہلیت بھی لازمی ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے عہدے پر چیئرمین سینٹ کے قواعد و ضوابط لاگو نہیں ہوتے، قائم مقام صدر پاکستان کا عہدہ ایکس آفیشو ممبر کے طور پر بنایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی منتخب ہو گئے ہیں، چیئرمین سینٹ کے قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر پانچ سال کم ہے، نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 ہے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت کی کم سے کم عمر 45 سال ہونی چاہیے۔

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی منتخب ہو گئے ہیں، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سینٹ کے قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر پانچ سال کم ہے،

نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 ہے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت کی کم سے کم عمر 45 سال ہونی چاہیے۔ صدرکے لیے آئین میں متعین عمرکی حدکا اطلاق قائم مقام صدر پر بھی ہوتا ہے، اس طرح نومنتخب چیئرمین سینٹ کی عمر قائم مقام صدر بننے کے لیے کم ہے، واضح رہے کہ نواز شریف کی نااہلی کے کیس میں سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ نااہلی کے بعدکوئی بھی شخص پارٹی امور کسی دوسرے عہدے سے نہیں چلا سکتا، جس طرح چیئرمین سینٹ قائم مقام صدر ہوتا ہے اسی طرح ڈپٹی چیئرمین ، چیئرمین نیب کی عدم موجودگی کے موقع پر چیئرمین ہوتا ہے اور اس کی اہلیت بھی لازمی ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر کے عہدے پر چیئرمین سینٹ کے قواعد و ضوابط لاگو نہیں ہوتے، قائم مقام صدر پاکستان کا عہدہ ایکس آفیشو ممبر کے طور پر بنایا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی منتخب ہو گئے ہیں، چیئرمین سینٹ کے قائم مقام صدر بننے کے لیے صادق سنجرانی کی عمر پانچ سال کم ہے، نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ صادق سنجرانی کے کاغذات نامزدگی میں تاریخ پیدائش 14 اپریل 1978 ہے اور آئین کے آرٹیکل 41 کے تحت صدر مملکت کی کم سے کم عمر 45 سال ہونی چاہیے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں