اہم خبریں

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے الیکشن ۔۔بازی پلٹ گئی وہی ہوا جس کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا،عین وقت پر فضل الرحمن نے سب کو حیران کر دیا۔۔بڑا سرپرائز دیتے ہوئے کس کی حمایت کا اعلان کر دیا

  پیر‬‮ 12 مارچ‬‮ 2018  |  15:48
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی ف کا پیپلزپارٹی، تحریک انصاف کے متفقہ امیدوار برائے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی حمایت سے انکار۔ تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف نے پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے متفقہ امیدوار برائے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کاوفد مولانا فضل الرحمن کو آخری وقت میں منانے کیلئے ان کے پاس پہنچا مگر فضل الرحمن نے معذرت کرتے ہوئے صادق سنجرانی کی حمایت سے انکارکر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے چیئرمین سینٹ کیلئے فضل الرحمن آخری امید تھے جس کے بعد اب نمبر گیم ن لیگ کے

(خبر جا ری ہے)

جاتی دکھائی دے رہی ہے۔دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے چئیرمین سینٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ جماعت اسلامی نے اپنے ووٹس اتحادی جماعتوں کے پلڑے میں ڈال دئے۔ادھرایم کیو ایم پاکستان نے چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ، جبکہ ڈپٹی چیئرمین کیلئے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ نہیں دیں گے ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے تمام 5 ارکان نے چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم کے سینیٹرزڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے پیپلزپارٹی کے رہنما سلیم ماونڈی والا کو ووٹ نہیں دیں گےواضح رہے کہ چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی اور راجہ ظفر الحق کے درمیان مقابلہ ہے ،جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدہ کیلئے سلیم مانڈوی والا اور عثمان کاکڑ میدان میں ہیں ،پولنگ کا آغاز اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونیوالا ہے ۔دریں اثنا اس سے پہلے سینٹ کے 52 منتخب اراکین سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا ،سینٹ کااجلاس نو منتخب پینل آف پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب خان کی صدارت میں ہوا جس میں 52 سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا حلف اٹھانے والوں نے رول آف ممبر پر دستخط کئے سردار یعقوب خان نے نو منتخب اراکین سے حلف لیاحکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے ڈائس بجا کر نئے سینیٹرز کا استقبال کیا سینیٹر عابدہ محمد عظیم ، سینیٹر احمد خان ، سینیٹر انور لال دین ، سینیٹر اسد لال اشرف ،انوار الحق کاکڑ ، آصف کرمانی ، بحرہ ہند ، دلاور خان ، فیصل جاوید ، فدا محمد ، مولوی فض محمد ، ہارون خان ، ہدایت اللہ حلال احمد خان، امام الدین ، کامران مائیکل ، کوڈا بابر ، کشور بھائی ، رانا محمود الحسن ، رانا مقبول احمد ، سرتاج روغانی ، مرزا محمد آفریدی ، مولوی محمد سرور ،محمد بخش چانڈیو سینیٹر محمد اکعرم ، محمد علی شاہ ، جاموٹ اسد علی خان جونیجو محمد اکرم محمد علی شاہ جاموٹ ،اسد علی خان ، سینیٹر محمد ایوب ، محمد اعظم خان سواتی ، محمد فروغ نسیم ، سید محمد صابر شاہ ، محمد صادق سنجرانی ، سردار محمد شفیق ترین، محمد طاہر بزنجو ، محمد طلحہ محمود مصدق ملک شاہد حسین ، مشتاق احمد ، مصطفی نواز کھوکھر ، سید ظفر حسین شاہ ، منیب اللہ بازئی ، قرت العین مری ، نزہت صادق شامل ہیں ۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جے یو آئی ف کا پیپلزپارٹی، تحریک انصاف کے متفقہ امیدوار برائے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کی حمایت سے انکار۔ تفصیلات کے مطابق جے یو آئی ف نے پیپلزپارٹی تحریک انصاف کے متفقہ امیدوار برائے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ووٹ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کاوفد مولانا فضل الرحمن کو آخری وقت میں منانے کیلئے ان کے پاس پہنچا مگر فضل الرحمن نے معذرت کرتے ہوئے

صادق سنجرانی کی حمایت سے انکارکر دیا ہے۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے چیئرمین سینٹ کیلئے فضل الرحمن آخری امید تھے جس کے بعد اب نمبر گیم ن لیگ کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہے۔دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے چئیرمین سینٹ اور ڈپٹی چئیرمین سینٹ کے انتخاب میں مسلم لیگ ن کو ووٹ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ جماعت اسلامی نے اپنے ووٹس اتحادی جماعتوں کے پلڑے میں ڈال دئے۔ادھرایم کیو ایم پاکستان نے چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ، جبکہ ڈپٹی چیئرمین کیلئے سلیم مانڈوی والا کو ووٹ نہیں دیں گے ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے تمام 5 ارکان نے چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ذرائع کا کہناتھا کہ ایم کیو ایم کے سینیٹرزڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے پیپلزپارٹی کے رہنما سلیم ماونڈی والا کو ووٹ نہیں دیں گےواضح رہے کہ چیئرمین سینٹ کیلئے صادق سنجرانی اور راجہ ظفر الحق کے درمیان مقابلہ ہے ،جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے عہدہ کیلئے سلیم مانڈوی والا اور عثمان کاکڑ میدان میں ہیں ،پولنگ کا آغاز اب سے کچھ دیر بعد شروع ہونیوالا ہے ۔دریں اثنا اس سے پہلے سینٹ کے 52 منتخب اراکین سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا ،سینٹ کااجلاس نو منتخب پینل آف پریذائیڈنگ آفیسر سردار یعقوب خان کی صدارت میں ہوا جس میں 52 سینیٹرز نے حلف اٹھا لیا حلف اٹھانے والوں نے رول آف ممبر پر دستخط کئے سردار یعقوب خان نے نو منتخب اراکین سے حلف لیا

حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے ڈائس بجا کر نئے سینیٹرز کا استقبال کیا سینیٹر عابدہ محمد عظیم ، سینیٹر احمد خان ، سینیٹر انور لال دین ، سینیٹر اسد لال اشرف ،انوار الحق کاکڑ ، آصف کرمانی ، بحرہ ہند ، دلاور خان ، فیصل جاوید ، فدا محمد ، مولوی فض محمد ، ہارون خان ، ہدایت اللہ حلال احمد خان، امام الدین ، کامران مائیکل ، کوڈا بابر ، کشور بھائی ، رانا محمود الحسن ، رانا مقبول احمد ، سرتاج روغانی ، مرزا محمد آفریدی ، مولوی محمد سرور ،

محمد بخش چانڈیو سینیٹر محمد اکعرم ، محمد علی شاہ ، جاموٹ اسد علی خان جونیجو محمد اکرم محمد علی شاہ جاموٹ ،اسد علی خان ، سینیٹر محمد ایوب ، محمد اعظم خان سواتی ، محمد فروغ نسیم ، سید محمد صابر شاہ ، محمد صادق سنجرانی ، سردار محمد شفیق ترین، محمد طاہر بزنجو ، محمد طلحہ محمود مصدق ملک شاہد حسین ، مشتاق احمد ، مصطفی نواز کھوکھر ، سید ظفر حسین شاہ ، منیب اللہ بازئی ، قرت العین مری ، نزہت صادق شامل ہیں ۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں