اہم خبریں

نہ ڈیزائن، نہ زمین اور نہ ہی منظوری،پاکستان کی ترقی کا ضامن میگا پراجیکٹ ہوائی نکلا، شہباز شریف کا تہلکہ خیز انکشاف

  بدھ‬‮ 14 فروری‬‮ 2018  |  16:08
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے زیر اہتمام منعقدہ 2روزہ ’’پنجاب ہیومن ڈویلپمنت فورم 2018‘‘کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیپسٹی کے ایشوز صرف پنجاب کے نہیں بلکہ پورے پاکستان میں موجود ہیں اور انہیں حل کئے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ فلاح عامہ کے منصوبوں کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوالٹی ہیومن ریسورس ضروری ہے، ہمیں اپنی غلطیوں اور خامیوں کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہے کیونکہ غلطیوں سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھنے سے ہی مثبت نتائج ملتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ماضی کی حکومتیں گزشتہ

(خبر جا ری ہے)

’’سب اچھا‘‘کا راگ الاپتی رہی ہیں اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور دعوے کئے گئے کہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 2008میں ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے بھاشا ڈیم کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ کرعوام کو دھوکہ دیا حالانکہ اس منصوبے کیلئے نہ تو ڈیزائن تھا ، نہ ہی زمین تھی ، نہ ہی منظوری لی گئی اور نہ ہی وسائل کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میں اپنے خون کے ساتھ یہ لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مانگنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ہمیں اپنے وسائل خود پیدا کرنا ہونگے، مانگے تانگے کی زندگی سے ترقی نہیں ہوتی۔ پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ ہم کسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں، ملک انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہر بچے کو با اختیار بنانے کیلئے ہر ماں کو اس کا حق دینے کیلئے، ہر باپ کو روزگار کی فراہمی کیلئے اور ہر مریض کو معیاری ادویات کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا اور اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ تمام لوگ با اختیار نہیں ہو جاتے۔واضح رہے کہ پرویز مشرف کے دورمیں لوڈشیڈنگ شروع ہوتے ہی خوفناک صورتحال اختیارکر گئی تھیجبکہ اس وقت کالا باغ ڈیم جیسے میگا منصوبے کی اشد ضرورت محسوس کی گئی۔ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اس کے متبادل دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ سامنے لایا گیا تھا جس کا افتتاح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کے زیر اہتمام منعقدہ 2روزہ ’’پنجاب ہیومن ڈویلپمنت فورم 2018‘‘کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیپسٹی کے ایشوز صرف پنجاب کے نہیں بلکہ پورے پاکستان میں موجود ہیں

اور انہیں حل کئے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔ فلاح عامہ کے منصوبوں کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے کوالٹی ہیومن ریسورس ضروری ہے، ہمیں اپنی غلطیوں اور خامیوں کو تسلیم کر کے آگے بڑھنا ہے کیونکہ غلطیوں سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھنے سے ہی مثبت نتائج ملتے ہیں لیکن بدقسمتی سے ماضی کی حکومتیں گزشتہ 70سالوں سے ’’سب اچھا‘‘کا راگ الاپتی رہی ہیں اور حقائق کو نظر انداز کیا گیا ہے اور دعوے کئے گئے کہ یہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ 2008میں ڈکٹیٹر جنرل مشرف نے بھاشا ڈیم کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھ کرعوام کو دھوکہ دیا حالانکہ اس منصوبے کیلئے نہ تو ڈیزائن تھا ، نہ ہی زمین تھی ، نہ ہی منظوری لی گئی اور نہ ہی وسائل کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میں اپنے خون کے ساتھ یہ لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے مانگنے سے ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے۔ ہمیں اپنے وسائل خود پیدا کرنا ہونگے، مانگے تانگے کی زندگی سے ترقی نہیں ہوتی۔ پاکستان اس لئے نہیں بنا تھا کہ ہم کسی کے آگے ہاتھ پھیلائیں، ملک انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہر بچے کو با اختیار بنانے کیلئے ہر ماں کو اس کا حق دینے کیلئے، ہر باپ کو روزگار کی فراہمی کیلئے اور ہر مریض کو معیاری ادویات کیلئے ہم سب کو ملکر کام کرنا ہوگا اور اس وقت تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک یہ تمام لوگ با اختیار نہیں ہو جاتے۔واضح رہے کہ پرویز مشرف کے دورمیں لوڈشیڈنگ شروع ہوتے ہی خوفناک صورتحال اختیارکر گئی تھی

جبکہ اس وقت کالا باغ ڈیم جیسے میگا منصوبے کی اشد ضرورت محسوس کی گئی۔ کالا باغ ڈیم پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں اس کے متبادل دیامیر بھاشا ڈیم کا منصوبہ سامنے لایا گیا تھا جس کا افتتاح سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے کیا تھا۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں