اہم خبریں

گینگسٹر عابد باکسر کی دبئی سے گرفتاری۔۔حقیقت کیا نکلی؟ سینے میں دفن راز افشا ہونے کے خوف سے پولیس افسر اور اہم شخصیات منتوں ، ترلوں پر اتر آئے، گھر کےسامنے گاڑیوں کی لمبی قطاریں

  بدھ‬‮ 14 فروری‬‮ 2018  |  15:13
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک مقامی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق انسپکٹر عابد باکسر کے جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کے بعد پنجاب پولیس کے افسروں اور اہم شخصیات میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ اخبار کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ گزشتہ کئی روز سے عابد باکسر کے گھر ماڈل ٹائون میں سرکاری گاڑیوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے۔ عابد باکسر کے گھر مقیم اس کے اہلخانہ اور سسرالیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پولیس افسروں اور اہم شخصیات کی جانب سے عابد باکسر کی فیملی سے

(خبر جا ری ہے)

ہے کہ سابق انسپکٹر کو پیغام بھجوائیں کہ وہ کسی سیاسی شخصیت یا پولیس افسر کے خلاف زبان نہ کھولے۔دوسری جانب اسی مقامی اخبار کی ایک اور رپورٹ میں یہ بھی انکشاف سامنے آیا ہے کہ سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری ڈرامہ ہے۔ دبئی انتظامیہ کی ناپسندیدہ شخصیات کو ملک بدر کرنے کی جاری فہرست میں شامل عابد باکسر سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد کو ڈی پورٹ کرنے کیلئے محکمہ داخلہ پاکستان کو پنجاب کے افراد کی فہرست بھجوائی گئی جس میں عابد باکسر کا نام بھی شامل تھا۔ تاہم اس کی گرفتاری کیلئے دبئی جانے والی ٹیم نے من گھڑت کہانیاں چلوا دیں۔ سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر گزشتہ 10سالوں سے مختلف ممالک میں کاوباری سفر کر رہا ہے۔واضح رہے کہ 64کے قریب جعلی پولیس مقابلوں سمیت اغوا قتل و دیگر متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب پنجاب پولیس کا سابق انسپکٹر عابد باکسرکی انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کی خبریں گزشتہ روز سامنے آئیں تھیں۔بتایا جاتا ہے کہ ملزم دبئی سے ملائشیا جاتے ہوئے پکڑا گیا، عابد باکسر کے سر پر لاکھوں روپے کا انعام بھی مقرر ہے، دبئی پولیس کی قانونی کارروائی کے بعد پاکستان لانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اپنے تمام جعلی پولیس مقابلوں کا ذمہ داری اعلیٰ شخصیات کو ٹھہرانے والے عابد باکسر کی وطن واپسی نے نئی بحث چھیڑ دی ۔ ملزم کے عدالتوں میں ماضی کے مختلف پولیس افسران کےخلاف ممکنہ بیانات کے خدشات نے کھلبلی مچا دی۔ روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق تقریباََ 64کے قریب جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث عابد باکسر بریگیڈئیر (ر)محمود شریف کے بیٹے عمر شریف کو قتل کرنے اور ان کی بیوہ نسیم اشرف کو اغوا کے بعد قتل کرنے، اپنے ماموں ظفر اقبال اور ان کے بیٹوں کے ساتھ مل کر ان کی اربوں روپے کی پراپرٹی جن میں لاہور میں ایک سینما ہال، ڈیفنس میں پلاٹ اور اسلام آباد میں پراپرٹی وغیرہ شامل ہے پر قبضہ اور دیگر مقدمات شامل ہیں۔ان کے علاوہ دیگر متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزم لاہور پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عابد باکسر کو دبئی ائیرپورٹ سے ملائیشیا جاتے ہوئے تصویری اشتہار کی لسٹ میں نام ہونے پر تصدیق ہونے کےبعد انٹرپول نے گرفتار کیا ہے جسے دبئی پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی کے بعد پاکستان کے حوالے کیا جائے گا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ عابد باکسرکو پری پلان کے تحت پاکستان لایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی شخصیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت اپوزیشن میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہےکیونکہ ملزم عابد باکسر متعدد بار بیرون ممالک سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر براہ راست اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے بطور ایس ایچ او جتنے بھی جعلی پولیس مقابلے کئے وہ براہ راست اپنے افسران بالا کےکہنے پر کئے جن کے پیچھے اس وقت کی حکومت کے احکامات ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ لاہور میں ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر سنگین نوعیت کے متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن کے پیچھے کے محرکات بارے تفتیش کے بعد پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ ان کو دبئی میں بیٹھا عابد باکسر لیڈ کر رہا ہےجن میں سٹیج اداکارہ قسمت بیگ کا قتل اور ملت پارک کے علاقہ میں قتل کئے جانے والے کیبل آپریٹرکا قتل بھی شامل ہے جس کا مقدمہ سابق انسپکٹر عابد باکسر اور انسپکٹر نبی بخش کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ عابد باکسر کی گرفتاری اور وطن واپس لائے جانے کے حوالے سے پولیس کے اعلیٰ افسران نے اخبار کو تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’کھرا سچ‘‘میں اینکر مبشر لقمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عابد باکسرکا کہنا تھاکہ اس نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کہنے پر کئی لوگوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارا ہے۔ عابد باکسر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جتنے بھی پولیس مقابلے ہوتے ہیں وہ وزیراعلیٰ کے حکم پر کئے جاتے ہیں۔ شہباز شریف کے کہنے پر کئی پولیس مقابلوں میں بندوں کو مارا، طاہر القادری کو ٹھکانے لگانے کیلئے منصوبہ تیار کر لیا گیا تھا، عمر ورک، سابق ایس ایس پی لاہورشفیق گجر، مشتاق سکھیرا منصوبے میں شامل تھے، پنجاب میں جتنے بھی پولیس مقابلے ہوتے ہیں وہ وزیراعلیٰ کی اجازت اور حکم پر کئے جاتے ہیں۔پنجاب حکومت نے طاہر القادری کو جان سے مارنے کا مکمل منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ عمر ورک، سابق ایس ایس پی لاہور شفیق گجر، مشتاق سکھیرا یہ سب لوگ اس منصوبہ میں شامل تھے۔عابد باکسر نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ایس ایچ او سبزہ زارتھے تو ان بتایا گیا کہ شہباز شریف پانچ بندوں کو مروانا چاہتے ہیں جس پر میں نے انکار کر دیا ۔ میرے انکار کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ پانچ بندے عمر ورک کے ذریعے مروادئیے گئے ہیں۔ عابد باکسر نے پروگرام میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے کہنے پر بے شمار لوگوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کیا۔عابد باکسر نے مزید کیا کہا۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایک مقامی اخبار کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سابق انسپکٹر عابد باکسر کے جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشافات کے بعد پنجاب پولیس کے افسروں اور اہم شخصیات میں کھلبلی مچ گئی ہے ۔ اخبار کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ گزشتہ کئی روز سے عابد باکسر کے گھر ماڈل ٹائون میں سرکاری گاڑیوں کی آمدورفت بڑھ گئی ہے۔ عابد باکسر کے گھر مقیم اس کے اہلخانہ اور سسرالیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔

پولیس افسروں اور اہم شخصیات کی جانب سے عابد باکسر کی فیملی سے کہا گیا ہے کہ سابق انسپکٹر کو پیغام بھجوائیں کہ وہ کسی سیاسی شخصیت یا پولیس افسر کے خلاف زبان نہ کھولے۔دوسری جانب اسی مقامی اخبار کی ایک اور رپورٹ میں یہ بھی انکشاف سامنے آیا ہے کہ سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری ڈرامہ ہے۔ دبئی انتظامیہ کی ناپسندیدہ شخصیات کو ملک بدر کرنے کی جاری فہرست میں شامل عابد باکسر سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد کو ڈی پورٹ کرنے کیلئے محکمہ داخلہ پاکستان کو پنجاب کے افراد کی فہرست بھجوائی گئی جس میں عابد باکسر کا نام بھی شامل تھا۔ تاہم اس کی گرفتاری کیلئے دبئی جانے والی ٹیم نے من گھڑت کہانیاں چلوا دیں۔ سابق پولیس انسپکٹر عابد باکسر گزشتہ 10سالوں سے مختلف ممالک میں کاوباری سفر کر رہا ہے۔واضح رہے کہ 64کے قریب جعلی پولیس مقابلوں سمیت اغوا قتل و دیگر متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات میں انتہائی مطلوب پنجاب پولیس کا سابق انسپکٹر عابد باکسرکی انٹر پول کے ذریعے گرفتاری کی خبریں گزشتہ روز سامنے آئیں تھیں۔بتایا جاتا ہے کہ ملزم دبئی سے ملائشیا جاتے ہوئے پکڑا گیا، عابد باکسر کے سر پر لاکھوں روپے کا انعام بھی مقرر ہے، دبئی پولیس کی قانونی کارروائی کے بعد پاکستان لانے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اپنے تمام جعلی پولیس مقابلوں کا ذمہ داری اعلیٰ شخصیات کو ٹھہرانے والے عابد باکسر کی وطن واپسی نے نئی بحث چھیڑ دی ۔ ملزم کے عدالتوں میں ماضی کے مختلف پولیس افسران کے

خلاف ممکنہ بیانات کے خدشات نے کھلبلی مچا دی۔ روزنامہ خبریں کی رپورٹ کے مطابق تقریباََ 64کے قریب جعلی پولیس مقابلوں میں ملوث عابد باکسر بریگیڈئیر (ر)محمود شریف کے بیٹے عمر شریف کو قتل کرنے اور ان کی بیوہ نسیم اشرف کو اغوا کے بعد قتل کرنے، اپنے ماموں ظفر اقبال اور ان کے بیٹوں کے ساتھ مل کر ان کی اربوں روپے کی پراپرٹی جن میں لاہور میں ایک سینما ہال، ڈیفنس میں پلاٹ اور اسلام آباد میں پراپرٹی وغیرہ شامل ہے پر قبضہ اور دیگر مقدمات شامل ہیں۔

ان کے علاوہ دیگر متعدد سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملزم لاہور پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ عابد باکسر کو دبئی ائیرپورٹ سے ملائیشیا جاتے ہوئے تصویری اشتہار کی لسٹ میں نام ہونے پر تصدیق ہونے کےبعد انٹرپول نے گرفتار کیا ہے جسے دبئی پولیس کی جانب سے قانونی کارروائی کے بعد پاکستان کے حوالے کیا جائے گا لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ عابد باکسرکو پری پلان کے تحت پاکستان لایا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی شخصیات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سمیت اپوزیشن میں بھی کھلبلی مچی ہوئی ہے

کیونکہ ملزم عابد باکسر متعدد بار بیرون ممالک سے پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز پر براہ راست اس بات کا اعتراف کر چکا ہے کہ اس نے بطور ایس ایچ او جتنے بھی جعلی پولیس مقابلے کئے وہ براہ راست اپنے افسران بالا کےکہنے پر کئے جن کے پیچھے اس وقت کی حکومت کے احکامات ہوتے تھے۔ یاد رہے کہ لاہور میں ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر سنگین نوعیت کے متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں جن کے پیچھے کے محرکات بارے تفتیش کے بعد پولیس کو معلوم ہوا تھا کہ ان کو دبئی میں بیٹھا عابد باکسر لیڈ کر رہا ہے

جن میں سٹیج اداکارہ قسمت بیگ کا قتل اور ملت پارک کے علاقہ میں قتل کئے جانے والے کیبل آپریٹرکا قتل بھی شامل ہے جس کا مقدمہ سابق انسپکٹر عابد باکسر اور انسپکٹر نبی بخش کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ عابد باکسر کی گرفتاری اور وطن واپس لائے جانے کے حوالے سے پولیس کے اعلیٰ افسران نے اخبار کو تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا۔واضح رہے کہ اس سے قبل نجی ٹی اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’’کھرا سچ‘‘میں اینکر مبشر لقمان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے عابد باکسرکا کہنا تھا

کہ اس نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے کہنے پر کئی لوگوں کو جعلی پولیس مقابلوں میں مارا ہے۔ عابد باکسر کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جتنے بھی پولیس مقابلے ہوتے ہیں وہ وزیراعلیٰ کے حکم پر کئے جاتے ہیں۔ شہباز شریف کے کہنے پر کئی پولیس مقابلوں میں بندوں کو مارا، طاہر القادری کو ٹھکانے لگانے کیلئے منصوبہ تیار کر لیا گیا تھا، عمر ورک، سابق ایس ایس پی لاہورشفیق گجر، مشتاق سکھیرا منصوبے میں شامل تھے، پنجاب میں جتنے بھی پولیس مقابلے ہوتے ہیں وہ وزیراعلیٰ کی اجازت اور حکم پر کئے جاتے ہیں۔

پنجاب حکومت نے طاہر القادری کو جان سے مارنے کا مکمل منصوبہ تیار کر لیا تھا۔ عمر ورک، سابق ایس ایس پی لاہور شفیق گجر، مشتاق سکھیرا یہ سب لوگ اس منصوبہ میں شامل تھے۔عابد باکسر نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ ایس ایچ او سبزہ زارتھے تو ان بتایا گیا کہ شہباز شریف پانچ بندوں کو مروانا چاہتے ہیں جس پر میں نے انکار کر دیا ۔ میرے انکار کے بعد مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ پانچ بندے عمر ورک کے ذریعے مروادئیے گئے ہیں۔ عابد باکسر نے پروگرام میں اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کے کہنے پر بے شمار لوگوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کیا۔عابد باکسر نے مزید کیا کہا۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں