اہم خبریں

نگران وزیر اعظم کی تلاش شروع،پہلی ہی نظر کس مشہور شخصیت پر پڑی،نام جان کر آپ دنگ رہ جائینگے

  بدھ‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  16:50
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جوں جوں عام انتخابات قریب آرہے ہیں ،انتخابی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔الیکشن سے پہلے بڑا مسئلہ نگران وزیر اعظم کا ہے ،جیو نیوز کے مطابق باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نگراں وزیراعظم کی تلاش شروع کردی گئی ہے اور ایک اہم شخصیت نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین سے رابطہ کیا ہے اوران سے نگراںوزیراعظم کا عہدہ قبول کرنے سے انکار نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔ ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے فی الحال کوئی وعدہ نہیں کیا، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس تلاش کے پیچھے کون ہے؟لیکن

(خبر جا ری ہے)

کون ہے؟لیکن یہ پیشرفتٹھیک اسی وقت ہو رہی ہے جب کچھ لوگوں کی جانب سے قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ یہ پیشگوئی بھی کی جارہی ہے کہ مارچ 2018ء میں سینٹ کے انتخابات سے قبل موجودہ حکومت گھر چلی جائے گی۔دوسری صورت میں اگر حکومت نے اپنی مدت مکمل کی تو نگران حکومت آئندہ سال جولائی تک انتظامات سنبھال لے گی تاکہ اگست 2018 تک عام انتخابات کرائے جا سکیں۔یاد رہے کہ معروف قانون دان جسٹس (ر) وجیہہ الدین پاکستان تحریک انصاف کے الیکشن ٹریبونل کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جوں جوں عام انتخابات قریب آرہے ہیں ،انتخابی سرگرمیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔الیکشن سے پہلے بڑا مسئلہ نگران وزیر اعظم کا ہے ،جیو نیوز کے مطابق باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ نگراں وزیراعظم کی تلاش شروع کردی گئی ہے اور ایک اہم شخصیت نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین سے رابطہ کیا ہے اوران سے نگراںوزیراعظم کا عہدہ قبول کرنے سے انکار نہ کرنے کی درخواست کی ہے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے فی الحال کوئی وعدہ نہیں کیا، تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ اس تلاش کے پیچھے کون ہے؟لیکن یہ پیشرفتٹھیک اسی وقت ہو رہی ہے جب کچھ لوگوں کی جانب سے قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کیا جارہا ہے جبکہ یہ پیشگوئی بھی کی جارہی ہے کہ مارچ 2018ء میں سینٹ کے انتخابات سے قبل موجودہ حکومت گھر چلی جائے گی۔دوسری صورت میں اگر حکومت نے اپنی مدت مکمل کی تو نگران حکومت آئندہ سال جولائی تک انتظامات سنبھال لے گی تاکہ اگست 2018 تک عام انتخابات کرائے جا سکیں۔یاد رہے کہ معروف قانون دان جسٹس (ر) وجیہہ الدین پاکستان تحریک انصاف کے الیکشن ٹریبونل کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔

loading...