اہم خبریں

پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ، سپریم کورٹ

  بدھ‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  16:46
اسلام آباد (آن لائن )سپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز میں درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں یاست کی رٹ وفاق میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ،پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ،غیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی؟ کیا آخر میں اس کے لئے فوج کو بلائیں گے جبکہ عدالت عظمیٰ نے وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارقفضل چوہدری کی استدعا منظور کرتے ہوئے انہیں عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک ہفتے کی مہلت دیدی ہے ۔مارگلہ

(خبر جا ری ہے)

ہے ۔مارگلہ ہلزمیں درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعیدکی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،دوران سماعت وزیرکیڈ طارق فضل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کبھی کسی منتخب امیدوار اسکے ذاتی کیس کے علاوہ عدالت نہیں بلایا ،ہم تومنتخب کونسلر بھی ہوتواس کی بھی عزت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا جوملازم کام نہیں کرسکتے استعفیٰ دے دیں ،جس دن میں کام نہ کرسکااستعفیٰ دے دوں گا ،ممنوعہ علاقے غیرقانونی پلازوں کے مالکان کاپتاکریں کاروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آجائے گی ، شیخ عظمت سعید نے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئے ہیں ہم آپ کو سن لیں گے ،عدالتی حکم کے باجود غیرقانونی تعمیرات ختم کیوں نہیں کی گئیں ،ریاست کی رٹ وفاق میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ،پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی، دوران سماعت وکیل نے منیر پراچہ نے کہا کہ پولیس دھرنے کی وجہ سے میسرنہیں تھی اس لیے آپریشن نہیں ہوسکا ،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جہاں پولیس دستیاب تھی وہاں پولیس نے کیاکرلیا ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا

کہ کیاغیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی ،آخرمیں آپ نے کہناہے فوج بلادیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات دن بدن بڑھتی جارہی ہے، سی ڈی کے وکیل نے کہا کہ مزاحمت شدید ہوتی ہے پولیس کی مددکے بغیرآپریشن نہیں کرسکتے ،عدالت کے گزشتہ حکمنامے میں معمولی غلطی تھی ،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ہم تو ہمیشہ غلط آرڈر پاس کرتے ہیں فرشتے توسی ڈی اے

والے ہیں ،عدالتی احکامات کوساس بن کرنہ دیکھاکریں جسٹس شیخ عظمت کاطارق فضل چوہدری کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ججزڈنڈے لے کرمارگلہ ہلزخالی نہیں کرواسکتے ،قانون پرعمل کرواناہماراکام ہے ناراض نہ ہواکریں ،سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہیں ،ناکامی ہوئی توآپ پر بہت انگلیاں اٹھیں گی ،اوربھی کئی معاملات میں احتیاط سے کام لیں ،امیدہے میری ان کہی بات سمجھ گئے ہوں گے جسٹس شیخ عظمت

سعید نے کہا کہ بیاحتیاطی ریاست کی صحت لے لیے اچھی نہیں ہوتی،عدالت حکومت پراعتماد کرتی ہے ،حکومت شاید عدالت پراعتبار کرنے کوتیارنہیں ہے ،اس پر ڈاکٹر طارق فضل چوچوہدری نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں عدالت کوایکشن پلان پیش کریں گے،اس پرعدالت نے طارق فضل چوہدری کی استدعامنظورکرتے ہوئے کیس کی سماعت سماعت سات دسمبرتک ملتوی کردی ۔

اسلام آباد (آن لائن )سپریم کورٹ میں مارگلہ ہلز میں درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں یاست کی رٹ وفاق میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ،پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی ،غیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی؟ کیا آخر میں اس کے لئے فوج کو بلائیں گے جبکہ عدالت عظمیٰ نے وزیر مملکت برائے کیڈ ڈاکٹر طارقفضل چوہدری کی استدعا منظور کرتے ہوئے

انہیں عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک ہفتے کی مہلت دیدی ہے ۔مارگلہ ہلزمیں درختوں کی کٹائی سے متعلق ازخودنوٹس کیس کی سماعت جسٹس شیخ عظمت سعیدکی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی ،دوران سماعت وزیرکیڈ طارق فضل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے تو جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے کبھی کسی منتخب امیدوار اسکے ذاتی کیس کے علاوہ عدالت نہیں بلایا ،ہم تومنتخب کونسلر بھی ہوتواس کی بھی عزت کرتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے کا جوملازم کام نہیں کرسکتے استعفیٰ دے دیں ،جس دن میں کام نہ کرسکااستعفیٰ دے دوں گا ،ممنوعہ علاقے غیرقانونی پلازوں کے مالکان کاپتاکریں کاروائی نہ ہونے کی وجہ سامنے آجائے گی ، شیخ عظمت سعید نے ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ آئے ہیں ہم آپ کو سن لیں گے ،عدالتی حکم کے باجود غیرقانونی تعمیرات ختم کیوں نہیں کی گئیں ،ریاست کی رٹ وفاق میں سب سے زیادہ ہوتی ہے ،پاکستان میں وفاقی حکومت کہیں نظر نہیں آرہی، دوران سماعت وکیل نے منیر پراچہ نے کہا کہ پولیس دھرنے کی وجہ سے میسرنہیں تھی اس لیے آپریشن نہیں ہوسکا ،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جہاں پولیس دستیاب تھی وہاں پولیس نے کیاکرلیا ، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا

کہ کیاغیرقانونی تعمیرات ہٹانے کے لیے بھی حکومت اب کوئی معاہدہ کرے گی ،آخرمیں آپ نے کہناہے فوج بلادیں،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ غیرقانونی تعمیرات دن بدن بڑھتی جارہی ہے، سی ڈی کے وکیل نے کہا کہ مزاحمت شدید ہوتی ہے پولیس کی مددکے بغیرآپریشن نہیں کرسکتے ،عدالت کے گزشتہ حکمنامے میں معمولی غلطی تھی ،اس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ہم تو ہمیشہ غلط آرڈر پاس کرتے ہیں فرشتے توسی ڈی اے

والے ہیں ،عدالتی احکامات کوساس بن کرنہ دیکھاکریں جسٹس شیخ عظمت کاطارق فضل چوہدری کے ساتھ مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ججزڈنڈے لے کرمارگلہ ہلزخالی نہیں کرواسکتے ،قانون پرعمل کرواناہماراکام ہے ناراض نہ ہواکریں ،سیاست کے علاوہ بھی حکومت کی کئی ذمہ داریاں ہیں ،ناکامی ہوئی توآپ پر بہت انگلیاں اٹھیں گی ،اوربھی کئی معاملات میں احتیاط سے کام لیں ،امیدہے میری ان کہی بات سمجھ گئے ہوں گے جسٹس شیخ عظمت

سعید نے کہا کہ بیاحتیاطی ریاست کی صحت لے لیے اچھی نہیں ہوتی،عدالت حکومت پراعتماد کرتی ہے ،حکومت شاید عدالت پراعتبار کرنے کوتیارنہیں ہے ،اس پر ڈاکٹر طارق فضل چوچوہدری نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے ایک ہفتے کی مہلت کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتے میں عدالت کوایکشن پلان پیش کریں گے،اس پرعدالت نے طارق فضل چوہدری کی استدعامنظورکرتے ہوئے کیس کی سماعت سماعت سات دسمبرتک ملتوی کردی ۔

loading...