اہم خبریں

اُردوکی بطورسرکاری زبان ترویج میں بڑی رکاوٹ افسر شاہی ہے، سپریم کورٹ

  جمعرات‬‮ 23 جولائی‬‮ 2015  |  15:21
اسلام آباد (نیوزڈیسک)عدالت عظمیٰ نے ’’اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور دیگر صوبائی و علاقائی زبانوں کے فروغ‘‘ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاق اور چاروں صوبوں کے لاء افسران اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات کواس حوالہ سے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری سرور خان کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سرکار اور اسکی مشینری نہیں چاہتی کہ عوام الناس اردو زبان میں آئین وقانون اوراپنے حقوق سے آگاہ ہوں،کیونکہ وہ سب کچھ طشت از بام ہونے

(خبر جا ری ہے)

خوف زدہ ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے قیام کے 70سال بعد اب حج پالیسی اردوزبان میں لکھی گئی ہے۔ کیا حج کرنے والے تمام لوگ فرفر انگریزی بولتے ہیں؟ اردوکے داعی بھی انگریزی میں درخواستیں دائر کرتے ہیں۔ قوم غلامانہ سوچ سے باہر نکلے گی تو پروان چڑھے گی ،کسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک اور تخصیص نہیں ہونی چاہئے،یہ چیز ملک و قوم کے اتحاد کیلئے زہر قاتل اور تباہ کن ہے۔ کوئی نہیں کہتا کہ انگریزی ختم کردو انگریزی اچھی زبان ہے مگر بات پسند نہ پسند کی نہیں، قومی زبان کو آئین کے مطابق رائج کرنا ہے ،کسی کی تذلیل کرنی ہو تو اسے کہہ دو کہ تمہیں انگریزی نہیں آتی ہے۔ سندھ کے ایک مقامی اخبار نے لکھا ہے کہ اردو کی سرکاری سطح پر ترویج میں سیاسی مشکلات درپیش ہیں۔ جسٹس دوست محمد خان نے ریماکس دیئے ہیں کہ اردوزبان کی بطورسرکاری زبان ترویج میں سب سے بڑی کاوٹ افسر شاہی ہے وہ نہیں چاہتی کہ اردو انگریزی کی جگہ لے، اگر ایسا ہوا تو ان کے بچوں کی بیرون ملک سے انگریزی زبان میں حاصل کی گئی ڈگریوں کی کیا اہمیت ہوگی؟ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بدھ کے روز کیس کی سماعت کی تو درخواست گزار کوکب اقبال ایڈووکیٹ نے اس حوالہ سے پچھلی سماعت پر عدالت میں پیش کئے گئے حکومتی حکمنامہ کے حوالہ سے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے قومی زبان اردو اور مقامی زبانوں کے رائج کرنے میں بس خانہ پُری کی ہے۔ حکم نامہ میں اردوزبان کو سرکاری حیثیت میں نافذ کرنے کے لیے مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ صرف وزیراعظم اور وفاقی وزرا کا اردو میں تقاریر کرنا، سائن بورڈوں اور یوٹیلٹی بلوں پر اردو زبان میں ہدایات لکھ دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ مقابلہ کے امتحانات اور این ٹی ایس ٹیسٹ بھی اردو میں لیا جائے۔ پورے ملک کے اسکولوں کالجوں میں اردو زبان اور ایک نصاب تعلیم ہونا چاہئے ،تمام وزارتوں، سرکاری نیم سرکاری اداروں میں اردو میں کام شروع کردیا جائے۔ سرکاری پالیسیوں کا ترجمہ اردو زبان ایک ماہ میں کیا جائے ،پارلیمنٹ سینٹ کی کارروائی تقاریر اردومیں ہونا چاہئیں۔ ادارہ فروغ قومی زبان مقتدرہ زبان اردو کو مرکزی حیثیت دی جائے ادار ے کاچیئرمین سی ایس پی آفسر نہیں بلکہ اردو کا ماہر لگایا جائے، قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو تمام کام کی نگرانی کرے کمیشن میں سرکاری آفسران کے بجائے ممتاز شخصیات کو نامزد کیا جائے۔ تمام فارمز، پاسپورٹ، انکم ٹیکس،اے جی پی آر، واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈرائیونگ لائسنس، یوٹیلیٹی بلز تین کی بجائے ایک ماہ میں اردو زبان میں کئے جائیں۔ سرکاری نیم سرکاری تقریبات اردو زبان میں کی جائیں،تمام ویب سائٹس اردو میں کی جائیں۔ سڑکوں کے کنارے رہنمائی بورڈ اُردو میں کئے جائیں تاکہ غریب عوام کو بھی ملک میں نمائدگی کا حق مل سکے۔ انہوں نے اس حوالہ سے عدالت میں ایک اور متفرق درخواست دائر کرنے کی اجازت طلب کی تو عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی متفرق درخواست باقاعدہ طورپر سپریم کورٹ آفس میں جمع کروائیں اور اسکی کاپیاں مقدمہ کے دیگر فریقین کو بھی فراہم کریں۔ دوران سماعت صوبوں کی جانب سے رپورٹس پیش کی گئیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی زبان کو اختیاری مضمون کے طور پر رکھا گیا ہے ،اگر لازمی مضمون رکھا گیا تو بہت سے طالب علم فیل ہو جائیں گے۔ جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کوئی فیل ہوتا ہے تو ہوجائے لیکن مقامی زبانوں کو ضرور فروغ دیا جائے کیونکہ آئین کے آرٹیکل251 کے تحت چاروں صوبے اپنی اپنی مقامی زبانوں کی ترویج کے بھی پابند ہیں۔ فاضل لاء افسر نے مزید بتایا کہ پنجاب میں اب تک نویں کلاس کے ایک لاکھ 20ہزار278، میٹرک کے، 86ہزار گیارویں اور بارہویں کلاس کے 56ہزار طالب علموں نے پنجابی کو بطور اختیاری مضمون رکھا ہے۔ دو نئے اخبار پنجابی میں نکلے ہیں ،ایک سہ ماہی میگزین نکلاہے جو تمام قوانین اور پالیسیوں میں ہونے والی ترامیم کو پنجابی میں ترجمہ کرکے شائع کرتا ہے۔ پنجابی میں پی ایچ ڈی تک ہورہی ہے عدالت کے ایکشن لینے سے اردو اورمقامی زبانوں کی ترویج میں مدد ملی ہے، دیگر صوبوں سندھ، کے پی کے، بلوچستان کی جانب سے بھی رپورٹس پیش کی گئیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں وارث شاہ کی پنجاب کی پنجابی لاوارث ہوگئی ہے۔ وارث شاہ کی ہیر رُل رہی ہے ،اسے اختیاری نہیں لازمی مضمون ہونا چاہئے، آئین کے آرٹیکل 251 پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11اگست تک ملتوی کردی۔

اسلام آباد (نیوزڈیسک)عدالت عظمیٰ نے ’’اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دینے اور دیگر صوبائی و علاقائی زبانوں کے فروغ‘‘ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران وفاق اور چاروں صوبوں کے لاء افسران اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات کواس حوالہ سے لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے سیکرٹری سرور خان کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیشرفت رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ سرکار اور اسکی مشینری نہیں چاہتی کہ عوام الناس اردو زبان میں آئین وقانون اوراپنے حقوق سے آگاہ ہوں،کیونکہ وہ سب کچھ طشت از بام ہونے سے خوف زدہ ہیں۔ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کے قیام کے 70سال بعد اب حج پالیسی اردوزبان میں لکھی گئی ہے۔ کیا حج کرنے والے تمام لوگ فرفر انگریزی بولتے ہیں؟ اردوکے داعی بھی انگریزی میں درخواستیں دائر کرتے ہیں۔ قوم غلامانہ سوچ سے باہر نکلے گی تو پروان چڑھے گی ،کسی کے ساتھ بھی امتیازی سلوک اور تخصیص نہیں ہونی چاہئے،یہ چیز ملک و قوم کے اتحاد کیلئے زہر قاتل اور تباہ کن ہے۔ کوئی نہیں کہتا کہ انگریزی ختم کردو انگریزی اچھی زبان ہے مگر بات پسند نہ پسند کی نہیں، قومی زبان کو آئین کے مطابق رائج کرنا ہے ،کسی کی تذلیل کرنی ہو تو اسے کہہ دو کہ تمہیں انگریزی نہیں آتی ہے۔ سندھ کے ایک مقامی اخبار نے لکھا ہے کہ اردو کی سرکاری سطح پر ترویج میں سیاسی مشکلات درپیش ہیں۔ جسٹس دوست محمد خان نے ریماکس دیئے ہیں کہ اردوزبان کی بطورسرکاری زبان ترویج میں سب سے بڑی کاوٹ افسر شاہی ہے وہ نہیں چاہتی کہ اردو انگریزی کی جگہ لے، اگر ایسا ہوا تو ان کے بچوں کی بیرون ملک سے انگریزی زبان میں حاصل کی گئی ڈگریوں کی کیا اہمیت ہوگی؟ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے بدھ کے روز کیس کی سماعت کی تو درخواست گزار کوکب اقبال ایڈووکیٹ نے اس حوالہ سے پچھلی سماعت پر عدالت میں پیش کئے گئے حکومتی حکمنامہ کے حوالہ سے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے قومی زبان اردو اور مقامی زبانوں کے رائج کرنے میں بس خانہ پُری کی ہے۔ حکم نامہ میں اردوزبان کو سرکاری حیثیت میں نافذ کرنے کے لیے مکمل طور پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ صرف وزیراعظم اور وفاقی وزرا کا اردو میں تقاریر کرنا، سائن بورڈوں اور یوٹیلٹی بلوں پر اردو زبان میں ہدایات لکھ دینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ مقابلہ کے امتحانات اور این ٹی ایس ٹیسٹ بھی اردو میں لیا جائے۔ پورے ملک کے اسکولوں کالجوں میں اردو زبان اور ایک نصاب تعلیم ہونا چاہئے ،تمام وزارتوں، سرکاری نیم سرکاری اداروں میں اردو میں کام شروع کردیا جائے۔ سرکاری پالیسیوں کا ترجمہ اردو زبان ایک ماہ میں کیا جائے ،پارلیمنٹ سینٹ کی کارروائی تقاریر اردومیں ہونا چاہئیں۔ ادارہ فروغ قومی زبان مقتدرہ زبان اردو کو مرکزی حیثیت دی جائے ادار ے کاچیئرمین سی ایس پی آفسر نہیں بلکہ اردو کا ماہر لگایا جائے، قومی کمیشن تشکیل دیا جائے جو تمام کام کی نگرانی کرے کمیشن میں سرکاری آفسران کے بجائے ممتاز شخصیات کو نامزد کیا جائے۔ تمام فارمز، پاسپورٹ، انکم ٹیکس،اے جی پی آر، واپڈا، سوئی گیس، الیکشن کمیشن آف پاکستان، ڈرائیونگ لائسنس، یوٹیلیٹی بلز تین کی بجائے ایک ماہ میں اردو زبان میں کئے جائیں۔ سرکاری نیم سرکاری تقریبات اردو زبان میں کی جائیں،تمام ویب سائٹس اردو میں کی جائیں۔ سڑکوں کے کنارے رہنمائی بورڈ اُردو میں کئے جائیں تاکہ غریب عوام کو بھی ملک میں نمائدگی کا حق مل سکے۔ انہوں نے اس حوالہ سے عدالت میں ایک اور متفرق درخواست دائر کرنے کی اجازت طلب کی تو عدالت نے انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنی متفرق درخواست باقاعدہ طورپر سپریم کورٹ آفس میں جمع کروائیں اور اسکی کاپیاں مقدمہ کے دیگر فریقین کو بھی فراہم کریں۔ دوران سماعت صوبوں کی جانب سے رپورٹس پیش کی گئیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب رزاق اے مرزا نے رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پنجابی زبان کو اختیاری مضمون کے طور پر رکھا گیا ہے ،اگر لازمی مضمون رکھا گیا تو بہت سے طالب علم فیل ہو جائیں گے۔ جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کوئی فیل ہوتا ہے تو ہوجائے لیکن مقامی زبانوں کو ضرور فروغ دیا جائے کیونکہ آئین کے آرٹیکل251 کے تحت چاروں صوبے اپنی اپنی مقامی زبانوں کی ترویج کے بھی پابند ہیں۔ فاضل لاء افسر نے مزید بتایا کہ پنجاب میں اب تک نویں کلاس کے ایک لاکھ 20ہزار278، میٹرک کے، 86ہزار گیارویں اور بارہویں کلاس کے 56ہزار طالب علموں نے پنجابی کو بطور اختیاری مضمون رکھا ہے۔ دو نئے اخبار پنجابی میں نکلے ہیں ،ایک سہ ماہی میگزین نکلاہے جو تمام قوانین اور پالیسیوں میں ہونے والی ترامیم کو پنجابی میں ترجمہ کرکے شائع کرتا ہے۔ پنجابی میں پی ایچ ڈی تک ہورہی ہے عدالت کے ایکشن لینے سے اردو اورمقامی زبانوں کی ترویج میں مدد ملی ہے، دیگر صوبوں سندھ، کے پی کے، بلوچستان کی جانب سے بھی رپورٹس پیش کی گئیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ پنجاب میں وارث شاہ کی پنجاب کی پنجابی لاوارث ہوگئی ہے۔ وارث شاہ کی ہیر رُل رہی ہے ،اسے اختیاری نہیں لازمی مضمون ہونا چاہئے، آئین کے آرٹیکل 251 پر عمل درآمد ہونا چاہئے۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11اگست تک ملتوی کردی۔

loading...