اہم خبریں

امریکی بالادستی اب صرف چند سالوںکی مہمان ، عرب ممالک نے بڑا جھٹکادیتے ہوئے چین کیساتھ مل کر شراکت داری قائم کرنیکا اعلان کر دیا، ٹرمپ کے چھکے چھوٹ گئے

  منگل‬‮ 10 جولائی‬‮ 2018  |  14:22
بیجنگ (نیوز ڈیسک ) چینی صدر شی جن پنگ نے چین اور عرب ممالک نے جامع تعاون ، مشترکہ ترقی پر مبنی مستقبل کے پیش نظر تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام پر اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت چین ،عرب تعاون نئے مرحلے میں داخل ہوا ، ترقی مشرق وسطی کے مسائل کا حل ہے۔ منگل کو چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین، عرب تعاون فورم کاآٹھواں وزارتی اجلاس بیجنگ میں شروع ہوا۔چین کے صدر شی جن پنگ نے افتتاحی تقریب سے نئے عہد میں چین- عرب تزویراتی شراکت داری کے

(خبر جا ری ہے)

مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کے موضوع پر ایک اہم تقریر کی۔انہوں نے اعلان کیا کہ چین اور عرب ممالک نے جامع تعاون ، مشترکہ ترقی پر مبنی مستقبل کے پیش نظر تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ شی نے اس بات پر زور دیا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت چین- عرب تعاون نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔چین عرب ممالک کے ساتھ تزویراتی اور ترقیاتی حکمتِ عملی کو مضبوط بناتے ہوئے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کو مشترکہ طور پر فروغ دینے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور عرب ممالک کو مشرق وسطی میں امن و امان کے تحفظ ، برابری پر مبنی سوچ اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے باہم سیکھنے والے اچھے دوست بننا چاہیے ۔ شی نے کہا کہ ترقی مشرق وسطی کے مسائل کا حل ہے۔انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے دو ریاستی فارمولے اور عرب امن انیشیٹیو کی بنیاد پر امن مذاکرات کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ چین- عرب تعاون فورم بات چیت اور تعاون کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف چین کے صدر مملکت شی جن پنگ نے بیجنگ میں عظیم عوامی ہال میں چین کے دورے پر آئے ہوئے کویت کےامیر صبا الاحمد الجابر الصبا سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سربراہان نے چین کویت تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا ۔چینی صدر مملکت شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور کویت کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے گزشتہ سینتالیس برسوں کے دوران فریقین نے پرخلوص دوستی ، مساوی سلوک اور حقیقی تعاون کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک کےعوام کو حقیقی مفادات فراہم کئے ہیں ۔ اس وقت دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے پس منظر میں چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کی تجویز پیش کی ۔ اس کا مقصد تعاون اور تبادلوں کے ذریعے دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ جیت جیت تعاون اور مشترکہ ترقی کرنا ہے ۔شی نے کہا کہ چین نے کویت کو خلیجی علاقے میں دی بیلٹ اینڈ رود کی تعمیر نیز اس خطے کےاستحکام کے تحفظ کا اہم شراکت دار قرار دیا ہے ۔ کویت اس فہرست میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے چین کے ساتھ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے حوالے سے تعاون کی دستاویزات پر دستخط کئے ۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دنوں ممالک کو توانائی ، بنیادی تنصیبات ، مالیات ، تجارت اور سرمایہ کاریسمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو توسیع دینا چاہیئے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو فروغ دینا چاہیئے ۔ اس موقع پر کویت کے امیر نے کہا کہ چین ایک امن پسند ملک ہے ۔ کویت چین کے ساتھ اپنی روایتی دوستی اور تعاون کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ انہوں نے عالمی معاملات میں چین کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے چین کو اپنا پراعتماد دوست اور شراکت دار قرار دیا

بیجنگ (نیوز ڈیسک ) چینی صدر شی جن پنگ نے چین اور عرب ممالک نے جامع تعاون ، مشترکہ ترقی پر مبنی مستقبل کے پیش نظر تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام پر اتفاق کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت چین ،عرب تعاون نئے مرحلے میں داخل ہوا ، ترقی مشرق وسطی کے مسائل کا حل ہے۔ منگل کو چائنہ ریڈیو انٹرنیشنل کے مطابق چین،

عرب تعاون فورم کاآٹھواں وزارتی اجلاس بیجنگ میں شروع ہوا۔چین کے صدر شی جن پنگ نے افتتاحی تقریب سے نئے عہد میں چین- عرب تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کو مشترکہ طور پر آگے بڑھانے کے موضوع پر ایک اہم تقریر کی۔انہوں نے اعلان کیا کہ چین اور عرب ممالک نے جامع تعاون ، مشترکہ ترقی پر مبنی مستقبل کے پیش نظر تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا ہے۔ شی نے اس بات پر زور دیا کہ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے تحت چین- عرب تعاون نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔چین عرب ممالک کے ساتھ تزویراتی اور ترقیاتی حکمتِ عملی کو مضبوط بناتے ہوئے دی بیلٹ اینڈ روڈ کی تعمیر کو مشترکہ طور پر فروغ دینے کا خواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور عرب ممالک کو مشرق وسطی میں امن و امان کے تحفظ ، برابری پر مبنی سوچ اور مشترکہ ترقی کے فروغ کے لیے باہم سیکھنے والے اچھے دوست بننا چاہیے ۔ شی نے کہا کہ ترقی مشرق وسطی کے مسائل کا حل ہے۔انہوں نے فلسطین کے مسئلے کے حوالے سے دو ریاستی فارمولے اور عرب امن انیشیٹیو کی بنیاد پر امن مذاکرات کی حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ چین- عرب تعاون فورم بات چیت اور تعاون کو مضبوط بنانے کے حوالے سے بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف چین کے صدر مملکت شی جن پنگ نے بیجنگ میں عظیم عوامی ہال میں چین کے دورے پر آئے ہوئے کویت کےامیر صبا الاحمد الجابر الصبا سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے سربراہان نے چین کویت تزویراتی شراکت داری کے تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا ۔

چینی صدر مملکت شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور کویت کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے گزشتہ سینتالیس برسوں کے دوران فریقین نے پرخلوص دوستی ، مساوی سلوک اور حقیقی تعاون کو آگے بڑھاتے ہوئے دونوں ممالک کےعوام کو حقیقی مفادات فراہم کئے ہیں ۔ اس وقت دنیا تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے پس منظر میں چین نے بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کے قیام کی تجویز پیش کی ۔ اس کا مقصد تعاون اور تبادلوں کے ذریعے دنیا کے دوسرے ممالک کے ساتھ جیت جیت تعاون اور مشترکہ ترقی کرنا ہے ۔

شی نے کہا کہ چین نے کویت کو خلیجی علاقے میں دی بیلٹ اینڈ رود کی تعمیر نیز اس خطے کےاستحکام کے تحفظ کا اہم شراکت دار قرار دیا ہے ۔ کویت اس فہرست میں شامل ہے جنہوں نے سب سے پہلے چین کے ساتھ دی بیلٹ اینڈ روڈ کے حوالے سے تعاون کی دستاویزات پر دستخط کئے ۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دنوں ممالک کو توانائی ، بنیادی تنصیبات ، مالیات ، تجارت اور سرمایہ کاری

سمیت دیگر شعبوں میں تعاون کو توسیع دینا چاہیئے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون کو فروغ دینا چاہیئے ۔ اس موقع پر کویت کے امیر نے کہا کہ چین ایک امن پسند ملک ہے ۔ کویت چین کے ساتھ اپنی روایتی دوستی اور تعاون کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ انہوں نے عالمی معاملات میں چین کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے چین کو اپنا پراعتماد دوست اور شراکت دار قرار دیا

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں