اہم خبریں

عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی، بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سرعام سمگل ہونے لگا، تشویشناک خبر نے ہلچل مچا دی

  منگل‬‮ 10 جولائی‬‮ 2018  |  13:59
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سر عام فروخت اور سمگل ہونے لگا، عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سر عام فروخت اور سمگل ہورہا ہے اور اس بات کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب کولکتہ میں پولیس نے یورینیم کے پیکٹوں سمیت 5افراد کو گرفتار کیا۔ اوپن مارکیٹ میںاس جوہری مواد کی قیمت 3کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ یہ مواد نہ صرف جوہری ہتھیاروں، ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو کینسر کے علاج کیلئے

(خبر جا ری ہے)

کیا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے گرفتار افراد سے پیلے رنگ کے مواد سے بھرے پانچ پیکٹس کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ پیکٹوں کو جانچ پڑتال کیلئے ماہرین کو بھیج دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب جوائنٹ کمشنر کرائم برانچ پروین تھرپتی نے ایک بھارتی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان پیکٹس میں یورنیم موجود نہیں جبکہ میڈیا کے دیگر ذرائع کہتے ہیں کہ یہ یورینیم کا مادہ یا آئی او این ایکسینچ نامی مواد ہے جو یورینیم کی صفائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مواد نہ صرف جوہری ہتھیاروں، ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو کینسر کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جوہری مواد کے پیکٹوں کیساتھ گرفتار ہونیوالے افراد کو دل ہاؤس میں مینگولین میں رکھا گیا اور ان کی شناخت جاوید میانداد، ایس کے مغل، شاہ جہاں موندل، یونس بسواس اور بسنت سنہا کے نام سے ہوئی ہے۔ ۔پولیس نے گرفتار افراد سے پیلے رنگ کے مواد سے بھرے پانچ پیکٹس کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے،پولیس کے مطابق ملزمان سے محکمہ جنگلات میں بھرتی کے جعلی خطوط اور مارکس شیٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سر عام فروخت اور سمگل ہونے لگا، عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت میں ایٹم بم بنانے کیلئے درکار یورینیم سر عام فروخت اور سمگل ہورہا ہے اور اس بات کا انکشاف اس وقت سامنے آیا جب کولکتہ میں پولیس نے یورینیم کے پیکٹوں سمیت 5افراد کو گرفتار کیا۔

اوپن مارکیٹ میںاس جوہری مواد کی قیمت 3کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے ۔ واضح رہے کہ یہ مواد نہ صرف جوہری ہتھیاروں، ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو کینسر کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس نے گرفتار افراد سے پیلے رنگ کے مواد سے بھرے پانچ پیکٹس کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ پیکٹوں کو جانچ پڑتال کیلئے ماہرین کو بھیج دیا گیا ہے ۔ دوسری جانب جوائنٹ کمشنر کرائم برانچ پروین تھرپتی نے ایک بھارتی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان پیکٹس میں یورنیم موجود نہیں جبکہ میڈیا کے دیگر ذرائع کہتے ہیں کہ یہ یورینیم کا مادہ یا آئی او این ایکسینچ نامی مواد ہے جو یورینیم کی صفائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مواد نہ صرف جوہری ہتھیاروں، ایٹم بم بنانے میں استعمال ہوتا ہے بلکہ اس کو کینسر کے علاج کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔جوہری مواد کے پیکٹوں کیساتھ گرفتار ہونیوالے افراد کو دل ہاؤس میں مینگولین میں رکھا گیا اور ان کی شناخت جاوید میانداد، ایس کے مغل، شاہ جہاں موندل، یونس بسواس اور بسنت سنہا کے نام سے ہوئی ہے۔ ۔پولیس نے گرفتار افراد سے پیلے رنگ کے مواد سے بھرے پانچ پیکٹس کی برآمدگی کی تصدیق کی ہے،پولیس کے مطابق ملزمان سے محکمہ جنگلات میں بھرتی کے جعلی خطوط اور مارکس شیٹس بھی برآمد ہوئی ہیں۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں