اہم خبریں

امریکی نمائندہ نک ہیلی کی سکیورٹی کونسل میں دیگر ممالک سے مدد کیلئے منتیں ترلے حماس کیخلاف قرارداد کیلئے ووٹنگ کا وقت آیا تو امریکہ کو تاریخی بے عزتی کا سامنا نک ہیلی نے اپنی ہی پیش کردہ قرارداد کے حق میں ہاتھ اٹھایا

  پیر‬‮ 4 جون‬‮ 2018  |  18:00
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی جانب سے حماس کیخلاف ایک قرارداد پیش کی گئی لیکن سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندہ نک ہیلی کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب کسی ملک نے امریکی قرارداد کی حمایت نہیں کی ۔ نک ہیلی کے سوا کسی ملک کے نمائندے نے اپنے ہاتھ کھڑے نہیں کئے سلامتی کونسل کے اجلاس کی زیر گردش ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہوہ ووٹ کی خاطر تمام ممالک کے نمائندوں کے پاس جاتی ہیں ان کی منتیں ترلے کرتی ہیں لیکن انہیں ووٹنگ

(خبر جا ری ہے)

پر شدید شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جب کہ امریکی مندوب نکی ہیلی نے عجیب منطق اپناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی مظلوم ہیں اور انہیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب امریکا نے فلسطینیوں کے تحفظ کی عرب قرارداد ویٹو کردی۔ چین، فرانس اور روس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔علاوہ ازیں امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کویت کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے تحفظ کے حوالے سے پیش ہونے والی ایک قرارداد بھی ویٹو کردی۔ کویت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے میں غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں کویت کے مندوب منصور العتیبی نے فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے قرارداد ویٹو کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کے جرائم پر اس کا محاسبہ کرنے کے بجائے اسے احتساب اور پوچھ گچھ سے مستثنی ملک کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں فلسطینیوں کے تحفظ کی قرارداد کا منظور نہ ہونا کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔عالمی ادارے میں پیش کردہ قرارداد پر برطانیہ نے رائے شماری میںحصہ نہیں لیا جب کہ فرانسیسی مندوب نے قرارداد کی حمایت کے لیے مزید مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں کویت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں تعینات امریکا کی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا،یہ سب یک طرفہ مواد ہے اور اخلاقی طور پر کھوکھلا ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے حصول کے اقدامات متاثر ہوں گے۔امریکا نے اس حوالےسے اپنی قرارداد بھی پیش کر دی ہے جس میں غزہ کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار حماس کو ٹہرایا گیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حماس اور اسلامی جہاد اسرئیلی سرحدی علاقے کے ساتھ پرتشدد سرگرمیوں کو ختم کریں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کیگئی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی یا نہیں۔کویت کی جانب سے قرارداد کا متن دو ہفتے پہلے سکیورٹی کونسل میں پیش کیا گیا تھا۔ اس مسودے میں فلسطینیوں کے لیے ایکبین الاقوامی تحفظ مشن بنائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس سال مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 122 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا یقیناًاس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔گزشتہ برس دسمبر میں ہیلی نے اس قرارداد کو بھی ویٹو کر دیا تھا، جسمیں صدر ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس قرارداد کی بقیہ دیگر ملکوں نے حمایت کی تھی۔سکیورٹی کونسل کئی ہفتوں سے غزہ پٹی میں تشدد کے حوالے سے کوئی بھی ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے حالاں کہ اقوام متحدہ کے مشرق وسطی کے لیے مندوب کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بحران جنگ کی صورت اختیار کرسکتا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکہ کی جانب سے حماس کیخلاف ایک قرارداد پیش کی گئی لیکن سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکی نمائندہ نک ہیلی کو اس وقت شدید شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب کسی ملک نے امریکی قرارداد کی حمایت نہیں کی ۔ نک ہیلی کے سوا کسی ملک کے نمائندے نے اپنے ہاتھ کھڑے نہیں کئے

سلامتی کونسل کے اجلاس کی زیر گردش ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہوہ ووٹ کی خاطر تمام ممالک کے نمائندوں کے پاس جاتی ہیں ان کی منتیں ترلے کرتی ہیں لیکن انہیں ووٹنگ کے نتائج پر شدید شرمندگی اٹھانا پڑی۔ جب کہ امریکی مندوب نکی ہیلی نے عجیب منطق اپناتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی مظلوم ہیں اور انہیں اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔دوسری جانب امریکا نے فلسطینیوں کے تحفظ کی عرب قرارداد ویٹو کردی۔ چین، فرانس اور روس نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔علاوہ ازیں امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کویت کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کے تحفظ کے حوالے سے پیش ہونے والی ایک قرارداد بھی ویٹو کردی۔ کویت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے مسودے میں غزہ اور مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں کویت کے مندوب منصور العتیبی نے فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے قرارداد ویٹو کیے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کے جرائم پر اس کا محاسبہ کرنے کے بجائے اسے احتساب اور پوچھ گچھ سے مستثنی ملک کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل میں فلسطینیوں کے تحفظ کی قرارداد کا منظور نہ ہونا کشیدگی میں مزید اضافہ کرے گا۔عالمی ادارے میں پیش کردہ قرارداد پر برطانیہ نے رائے شماری میںحصہ نہیں لیا جب کہ فرانسیسی مندوب نے قرارداد کی حمایت کے لیے مزید مشاورت کی ضرورت پر زور دیا۔اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں کویت کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے اقوام متحدہ میں تعینات امریکا کی سفیر نکی ہیلی کا کہنا تھا،

یہ سب یک طرفہ مواد ہے اور اخلاقی طور پر کھوکھلا ہے۔ اس کے ذریعے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے حصول کے اقدامات متاثر ہوں گے۔امریکا نے اس حوالےسے اپنی قرارداد بھی پیش کر دی ہے جس میں غزہ کی بگڑتی صورتحال کا ذمہ دار حماس کو ٹہرایا گیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ حماس اور اسلامی جہاد اسرئیلی سرحدی علاقے کے ساتھ پرتشدد سرگرمیوں کو ختم کریں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا کی جانب سے پیش کی

گئی قرارداد پر ووٹنگ ہو گی یا نہیں۔کویت کی جانب سے قرارداد کا متن دو ہفتے پہلے سکیورٹی کونسل میں پیش کیا گیا تھا۔ اس مسودے میں فلسطینیوں کے لیے ایکبین الاقوامی تحفظ مشن بنائے جانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس سال مارچ کے اختتام سے اب تک اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے 122 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکا یقیناًاس قرارداد کو ویٹو کر دے گا۔گزشتہ برس دسمبر میں ہیلی نے اس قرارداد کو بھی ویٹو کر دیا تھا، جس

میں صدر ٹرمپ کے امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی گئی تھی۔ اس قرارداد کی بقیہ دیگر ملکوں نے حمایت کی تھی۔سکیورٹی کونسل کئی ہفتوں سے غزہ پٹی میں تشدد کے حوالے سے کوئی بھی ردعمل دینے میں ناکام رہی ہے حالاں کہ اقوام متحدہ کے مشرق وسطی کے لیے مندوب کی جانب سے خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ بحران جنگ کی صورت اختیار کرسکتا

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں