اہم خبریں

انتظار کی گھڑیاں ختم ،قطرمیں کام کرنیوالے پاکستانیوں سمیت غیر ملکیوں کیلئے بڑی خوشخبری

  اتوار‬‮ 11 مارچ‬‮ 2018  |  16:43
دوحہ(این این آئی)قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک لیبر پینل تشکیل دے گا جو وزارت محنت کے زیر نگرانی کام کرے گا۔ آئندہ آٹھ روز کے اندر یہ پینل متعارف کرا دیا جائے گا جو تارک وطن لیبرز کی شکایات وصول کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)کی جانب سے لیبرز کے استحصال کی تحقیقات کے دوران کسی بھی جانب دارانہ رجحان کا سد باب کرنا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق تجزیہ کاروں کے نزدیک دوحہ کا یہ نیا اقدام قانونی اصلاح کی ترجمانی سے زیادہ حقیقت کا سامنا کرنے اور غیر ملکی لیبرز

(خبر جا ری ہے)

سے اصلاحات سے فرار کے مترادف ہے۔ قطر میں یہ لیبرز ادنی ترین سطح کی اجرتوں کے مسئلے سے دوچار ہیں جو 206 ڈالر سے متجاوز نہیں۔اس سے قبل 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کے مقررہ میزبان قطر نے کفیل کا نظام اور غیر ملکیوں بالخصوص لیبرز کی نقل و حرکت محدود کرنے والانظام ختم کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ فیصلہ عملی طور پر لاگو نہیں ہوا۔ اس امر کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کی جانب سے سامنے آئی جس کا کہنا تھا کہ قطر میں لیبرز کو اب بھی وسیع پیمانے پر استحصال کا سامنا ہے۔ادھر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے امید ظاہر کی کہ اسے قطر میں اپنا دفتر کھولنے کی اجازت مل جائے گی تا کہ وہ قطر میں لیبرز بالخصوص فٹبال اسٹیڈیمز کی تعمیر میں کام کرنے والے لیبرز کے حالات پر نظر رکھ سکے۔ قطر میں اس وقت اندازا بیس ہزار لیبرز ہیں جن کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

دوحہ(این این آئی)قطر نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک لیبر پینل تشکیل دے گا جو وزارت محنت کے زیر نگرانی کام کرے گا۔ آئندہ آٹھ روز کے اندر یہ پینل متعارف کرا دیا جائے گا جو تارک وطن لیبرز کی شکایات وصول کرے گا۔ اس اقدام کا مقصد انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او)کی جانب سے لیبرز کے استحصال کی تحقیقات کے دوران کسی بھی جانب دارانہ رجحان کا سد باب کرنا ہے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق تجزیہ کاروں کے نزدیک دوحہ کا یہ نیا اقدام قانونی اصلاح کی ترجمانی سے زیادہ حقیقت کا سامنا کرنے اور غیر ملکی لیبرز کے حوالے سے اصلاحات سے فرار کے مترادف ہے۔ قطر میں یہ لیبرز ادنی ترین سطح کی اجرتوں کے مسئلے سے دوچار ہیں جو 206 ڈالر سے متجاوز نہیں۔اس سے قبل 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کے مقررہ میزبان قطر نے کفیل کا نظام اور غیر ملکیوں بالخصوص لیبرز کی نقل و حرکت محدود کرنے والانظام ختم کر دینے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ فیصلہ عملی طور پر لاگو نہیں ہوا۔ اس امر کی تصدیق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کی جانب سے سامنے آئی جس کا کہنا تھا کہ قطر میں لیبرز کو اب بھی وسیع پیمانے پر استحصال کا سامنا ہے۔ادھر انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے امید ظاہر کی کہ اسے قطر میں اپنا دفتر کھولنے کی اجازت مل جائے گی تا کہ وہ قطر میں لیبرز بالخصوص فٹبال اسٹیڈیمز کی تعمیر میں کام کرنے والے لیبرز کے حالات پر نظر رکھ سکے۔ قطر میں اس وقت اندازا بیس ہزار لیبرز ہیں جن کے حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں