اہم خبریں

مقابلہ حسن جیت کر برطانوی فوج میں شامل ہونیوالی ملکہ حسن کیساتھ ایسا شرمناک ترین کام ہوگیا کہ اسے نوکری چھوڑنا پڑ گئی

  پیر‬‮ 19 فروری‬‮ 2018  |  13:16
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا عام ہوگیا ہے ۔ایسا صرف ایشیا میں ہی نہیں ہوتا بلکہ مغرب میں بھی ایسےواقعات آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں لیکن اب برطانیہ سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے کہ جسے پڑھ کر آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا۔ انگینڈ کی ایک خوبرو لڑکی نے مقابلۂ حسن میں حصہ لیا اور سر پر ملکۂ حسن کا تاج سجالیا جس کے بعد اس نے برطانوی فوج میں نوکری کر لی، لیکن فوج میں اس کے ساتھایسا شرمناک ترین کام شروع ہو گیا کہ اسے نوکری چھوڑنی

(خبر جا ری ہے)

کی رپورٹ کے مطابق کترینا ہوج نامی اس لڑکی نے 18سال کی عمر میں ملکہ حسن کا مقابلہ جیتا اور چند ماہ بعد ہی فوج میں چلی گئی جہاں اس کی پوسٹنگ عراق میں کر دی گئی، لیکن وہاں اسے مرد فوجی اسے بدترین صنفی امتیاز کا نشانہ بنانے لگے۔ جہاں اسے کوئی فاحشہ کہتا اور کوئی بدکردار۔ کئی فوجیوں نے اس پر جنسی حملہ بھی کیا۔ ایک بار کینٹین میں ایک فوجی نے اسے دبوچ لیا اور جنسی زیادتی کی کوشش کی۔ بالآخر کترینا تنگ آ کر اپنے سینئرز کے پاس گئی لیکن انہوں نے بھی ان واقعات کی کوئی تحقیقات نہ کیں جس پروہ اتنی دلبرداشتہ ہوئی کہ اس نے فوج کی نوکری ہی چھوڑ دی۔ کترینا کا کہنا ہے کہ ’’میں 10سال تک فوج میں اس شرمناک سلوک کا سامنا کرتی رہی۔ اب مجھے نوکری چھوڑے ہوئے بھی دو سال ہو گئے ہیں لیکن وہ فوجی جن کے ساتھ میں کام کرتی رہی، اب بھی مجھے انٹرنیٹ پر اسی طرح صنفی امتیاز کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔واضح رہے کہ برطانوی فوج میں اس طرح کے واقعات عام ہیں ۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کرنا عام ہوگیا ہے ۔ایسا صرف ایشیا میں ہی نہیں ہوتا بلکہ مغرب میں بھی ایسےواقعات آئے روز منظر عام پر آتے رہتے ہیں لیکن اب برطانیہ سے ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے کہ جسے پڑھ کر آپ کو یقین ہی نہیں آئے گا۔

انگینڈ کی ایک خوبرو لڑکی نے مقابلۂ حسن میں حصہ لیا اور سر پر ملکۂ حسن کا تاج سجالیا جس کے بعد اس نے برطانوی فوج میں نوکری کر لی، لیکن فوج میں اس کے ساتھایسا شرمناک ترین کام شروع ہو گیا کہ اسے نوکری چھوڑنی پڑی۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کترینا ہوج نامی اس لڑکی نے 18سال کی عمر میں ملکہ حسن کا مقابلہ جیتا اور چند ماہ بعد ہی فوج میں چلی گئی جہاں اس کی پوسٹنگ عراق میں کر دی گئی، لیکن وہاں اسے مرد فوجی اسے بدترین صنفی امتیاز کا نشانہ بنانے لگے۔ جہاں اسے کوئی فاحشہ کہتا اور کوئی بدکردار۔ کئی فوجیوں نے اس پر جنسی حملہ بھی کیا۔ ایک بار کینٹین میں ایک فوجی نے اسے دبوچ لیا اور جنسی زیادتی کی کوشش کی۔ بالآخر کترینا تنگ آ کر اپنے سینئرز کے پاس گئی لیکن انہوں نے بھی ان واقعات کی کوئی تحقیقات نہ کیں جس پروہ اتنی دلبرداشتہ ہوئی کہ اس نے فوج کی نوکری ہی چھوڑ دی۔ کترینا کا کہنا ہے کہ ’’میں 10سال تک فوج میں اس شرمناک سلوک کا سامنا کرتی رہی۔ اب مجھے نوکری چھوڑے ہوئے بھی دو سال ہو گئے ہیں لیکن وہ فوجی جن کے ساتھ میں کام کرتی رہی، اب بھی مجھے انٹرنیٹ پر اسی طرح صنفی امتیاز کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔واضح رہے کہ برطانوی فوج میں اس طرح کے واقعات عام ہیں ۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں