اہم خبریں

دن کے کون سے حصے میں ہمارا دماغ بہترین کام کرتا ہے؟ اہم انکشاف!!

  اتوار‬‮ 15 جولائی‬‮ 2018  |  19:49
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا دماغ دن کے کس حصے میں تخلیقی کام اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم اور دماغ ایک گھڑی کی مانند چلتا اور وقت بدلتا ہے۔ان کے مطابق ہمارا دماغ مختلف اوقات میں مختلفکیفیات کا حامل ہوتا ہے اور اس دوران وہ مختلف کام سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دوران ہماری کارکردگی کے معیار میں بھی فرق آجاتا ہے۔ایک ماہر کیمیائی حیات کے مطابق ہمارا دماغ اور جسم سب سے زیادہ چاک و چوبند اور فعال صبح کے اختتام پر ہوتا ہے۔ ماہرین کے

(خبر جا ری ہے)

صبح اٹھتے ہیں تو اس وقت سے لے کر اگلے چند گھنٹوں تک ہمارا دماغ نیند کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اس دوران ہمارے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے اور ہمیں غنودگی محسوس ہوتی رہتی ہے۔بالآخر دن کے وسط سے ذرا قبل جسم کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ یہ عمل دوپہر کے کھانے تک جاری رہتا ہے۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ہمارے خون میں شوگر کی مقدار میں کمی اور انسولین کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو ہمیں تھکن اورغنودگی کا احساس دلاتا ہے اور ہم کچھ دیر آرام کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔بعد ازاں شام کے وقت ہمارا دماغ نئے سرے سے چاک و چوبند ہوتا ہے، گو کہ یہ فعالیت صبح جیسی نہیں ہوتی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت اگر ہمیں پرسکون، آرام دہ اور اپنی پسند کا ماحول میسر آسکے تو یہ وقت تخلیقی کام کے لیے موزوں ترین ہے۔ان کے مطابق شام کے وقت کسی پر فضا مقام، ساحل سمندر یا پارک میں وقت گزارنا، ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونا اور سبزے سے آنکھوں کو معطر کرنا تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرسکتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا دماغ دن کے کس حصے میں تخلیقی کام اور بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتا ہے؟ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارا جسم اور دماغ ایک گھڑی کی مانند چلتا اور وقت بدلتا ہے۔ان کے مطابق ہمارا دماغ مختلف اوقات میں مختلفکیفیات کا حامل ہوتا ہے اور اس دوران وہ مختلف کام سر انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس دوران ہماری کارکردگی کے معیار میں بھی فرق آجاتا ہے۔ایک ماہر کیمیائی حیات کے مطابق ہمارا دماغ اور

جسم سب سے زیادہ چاک و چوبند اور فعال صبح کے اختتام پر ہوتا ہے۔ ماہرین کے جب ہم صبح اٹھتے ہیں تو اس وقت سے لے کر اگلے چند گھنٹوں تک ہمارا دماغ نیند کے زیر اثر ہوتا ہے۔ اس دوران ہمارے جسم کا درجہ حرارت بھی کم ہوتا ہے اور ہمیں غنودگی محسوس ہوتی رہتی ہے۔بالآخر دن کے وسط سے ذرا قبل جسم کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوتا ہے۔ یہ عمل دوپہر کے کھانے تک جاری رہتا ہے۔دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد ہمارے خون میں شوگر کی مقدار میں کمی اور انسولین کی مقدار میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جو ہمیں تھکن اورغنودگی کا احساس دلاتا ہے اور ہم کچھ دیر آرام کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔بعد ازاں شام کے وقت ہمارا دماغ نئے سرے سے چاک و چوبند ہوتا ہے، گو کہ یہ فعالیت صبح جیسی نہیں ہوتی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت اگر ہمیں پرسکون، آرام دہ اور اپنی پسند کا ماحول میسر آسکے تو یہ وقت تخلیقی کام کے لیے موزوں ترین ہے۔ان کے مطابق شام کے وقت کسی پر فضا مقام، ساحل سمندر یا پارک میں وقت گزارنا، ٹھنڈی ہواؤں سے لطف اندوز ہونا اور سبزے سے آنکھوں کو معطر کرنا تخلیقی صلاحیتوں کو مہمیز کرسکتا ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں