اہم خبریں

اور اب زہریلا منرل واٹر

  منگل‬‮ 12 جون‬‮ 2018  |  19:51
اسجد میرا دوست ہے۔ صحت کے بارے میں حد درجہ محتاط اور خبطی … کسی بھی چیز کو ہاتھ لگائے، انھیں دھونا ضروری سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک کھانے پینے کی کھلی اشیاء صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتی ہیں۔ ڈبہ بند چیزیں سائنسی بنیاد پر پیک کی جاتی ہیں اس لیے ان کا استعمال ہی صحت کی ضمانت ہے۔ برسوں سے نل کا پانی نہیں پیا۔ ہمیشہ منرل واٹر کی بوتل تھامے رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں میرے پاس آیا، بڑا پریشان تھا۔ کہنے لگا ’’ہیپاٹائٹس ہو گئی ہے۔ دانتوں اور پیٹ میں بھی شدید درد رہتا ہے۔ ٹینشن کا

(خبر جا ری ہے)

نے کہا ’’تم تو اپنی صحت کا بہت خیال رکھتے ہو، تمہیں یہ مرض کیسے چمٹ گئی؟‘‘ کہنے لگا ’’ڈاکٹر کے مطابق یہ مرض آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لگ سکتی ہے۔ ‘‘’’لیکن تم ہمیشہ منرل واٹر استعمال کرتے ہو؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا ، کہنے لگا’’یہی تو مسئلہ ہے۔ ہمارے وطن میں ہر چیز ملاوٹ شدہ ہے۔ حتی کہ منرل واٹر بھی جعلی نکلا۔ پاکستان میں 71سے زیادہ منرل واٹر کی کمپنیاں ہیں۔ لیکن یہی کمپنیاں پانی کے نام پر زہر فروخت کر رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ’’وطن پارٹی‘‘ کے رہنما جناب بیرسٹر ظفراللہ صاحب نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی کہ اس مصنوعی پانی کو چیک کیا جائے۔چیف جسٹس صاحب نے یہ ٹاسک ’’پاکستان کی سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی‘‘ (PCQCA) کو دیا۔ اس ادارے نے بڑی دھماکے دار اور خطرناک رپورٹ پیش کی۔ اس ادارے کے مطابق کوئی بھی کمپنی صحت مند منرل واٹر تیار نہیں کر رہی۔ اکثر کا پانی انتہائی ناقص بل کہ آلودہ اور مضرِ صحت ہے۔ بعض کمپنیاں تو منرل واٹر بناتی ہی نہیں ہیں۔ ٹیوب ویل وغیرہ کا پانی بوتلوں میں بھر بھر کر بیچ رہی ہیں۔ ان کے کارکن نمکیات کی صحت مند مقدار کاعلم ہی نہیں رکھتے۔ یہ لوگ پانی کی عمر بڑھانے کے لیے آرسینک (سنکھیا)، سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار حد سے زیادہ ڈال رہے ہیں۔ جہاں نمکیات کا لیول TDC تین سو پی پی بی سے کم ہونا چاہیےوہاں اس سے کہیں زیادہ مقدار میں پایا گیا ہے۔ اسی طرح آرسینک کی مقدار پینے کے پانی میں10 پی پی بی ہونی چاہیے جب کہ منرل واٹر میں 18سے 379پی پی بی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بیماریوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔روزنامہ خبریں کی ایک رپورٹ کے مطابق آلودہ پانی پینے سے دو ملین لوگ ہیپاٹائٹس سی جب کہ 15ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہوئے۔14ملین لوگ دیگر بیماریوں مثلا بانجھ پن، کینسر، ڈائریا، ہیضہ، ذیابیطس، جگر اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔لندن طبی ماہرین کے مطابق دانتوں کی اکثر بیماریوں کا سبب بھی یہی منرل واٹر ہے۔ ان کے ہاں اس پانی میں فلورائیڈ مطلوبہ مقدار میں نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے دانتوں کی اوپری سطح جھڑنے لگتی ہے۔ اسی طرح یہ پانی پلاسٹک کی بوتلوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ بوتلیں مسام دار ہوتی ہیں۔ جن کے ذریعے گرد اور مختلف جراثیم پانی کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر انھیں دھوپ میں رکھ دیا جائے تو Bisphonol-A نامی کیمیکل پیدا ہو جاتا ہے جو ہارمونز کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔اسی لیے سعودیہ میں نیلی بوتلوں میں پانی محفوظ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ نیز ان پر فائبر گلاس کی کوٹنگ کا حکم دیا گیاہے اور 40ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر بوتلیں رکھنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ‘‘میں اسجد کی باتیں ہونقوں کی طرح سن رہا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ یہ کمپنیاں کیسے سب کو ’’ماموں‘‘ بنا کر ’’چونا‘‘ لگا رہی ہیں؟ ان کی ترسیل کہاں ہوتی ہے؟ اس کا جواب بھی اسجد سے مل گیا۔ کہنے لگا ’’یہ کمپنیاں اپنا مال عموما لوکل اور عوامی مقامات پر اتارتی ہیں۔تم دیکھتے ہو! آئے روزنئے نئے ناموں کے ساتھ منرل واٹر فروخت ہو رہا ہے۔ ان کا ہدف غیر تعلیم یافتہ طبقہ، ریلوے اسٹیشن، لاری اڈے، شادی ہالز ، ریسٹورنٹس اور سرکاری و نجی ہسپتالوں کی کینٹینیں ہوتی ہیں۔ جہاں یہ جعلی مال فروخت کر کے اپنی رقم کھری کرتی ہیں اور عوام میں صحت کے نام پر موت بانٹتی ہیں۔ اس دھندے میں بڑے بڑے سیاست دان اور کاروباری شخصیات ملوث ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی سیاسی پارٹی کی خاتون راہ نما کی فیکٹری پر چھاپا مارا گیا۔سینکڑوں کے حساب سے جعلی پانی کی بوتلیں پکڑی گئیں۔ چند دن فیکٹری بند رہی اب دوبارہ نئے نام سے کام کر رہی ہے۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر کے چیئر مین جناب ڈاکٹر محمد اسلم طاہر صاحب کے مطابق 33کمپنیاں اپنی جعل سازی کی بنا پر خاموشی سے منظر عام سے غائب ہو گئیں۔ لیکن اب 36سے زیادہ نئی کمپنیاں میدان میں آ چکی ہیں۔ نیز پاکستان میں منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں کی تعداد میں 105%اضافہ ہوا ہے۔ ‘‘اسجد نے ایک نئی حیران کن بات بھی بتائی کہ’’ایک لٹر منرل واٹر کی تیاری کے لیے تین گنا عام پانی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک لٹر منرل واٹر کی تیاری میں تین لٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔ جس میں سے ایک لٹر بچ جاتا ہے اور دو لٹر ضائع ہو جاتا ہے۔ 2004ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 154؍ ارب لٹر منرل واٹر پیا جاتا ہے۔ جس کی تیاری میں 770ارب لٹر پانی ضائع کرنا پڑا۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو اس کی تیاری میں ایندھن بھی استعمال ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے اسے بچانا ہمارا فرض ہے۔لیکن کیلی فورنیا پیسفک انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے 2004میں صرف امریکہ میں 26ارب لٹر پانی کی پیکنگ کے لیے دو کروڑ بیرل تیل خرچ ہوا۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ پلاسٹک اور پولی تھین گلوبل وارمنگ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ یہ خود کینسر جیسے موذی مرض کا سبب بنتے ہیں۔‘‘اسجد کی باتیں سن کر میں پریشان ہو گیا۔ میں نے پوچھا ’’اس کا حل کیا ہے؟‘‘ کہنے لگا ’’بہت سادہ سا حل ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں سادہ پانی استعمال کرنا چاہیے۔ آلودہ یا جراثیم زدہ ہونے کا خطرہ ہو تو ابال لیں۔جیب اجازت دے تو فلٹر پلانٹ سے استفادہ کریں۔ منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اس کے بجائے حکومت کافرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو صاف پانی مہیا کرے۔ پانچ سو فٹ گہرے کنویں کھود کر ان سے صاف ستھرا پانی نکالا جائے۔ پھر اسے محفوظ طریقے سے گھر گھر پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔ کوئی آلودہ پانی فروخت کرتا یا پھیلاتا نظر آ جائے تو اسے کڑی سزا دی جائے۔ تاکہ آئندہ کسی کو بھی وطنِ عزیز میں صحت سے کھیلنے اور موت بانٹنے کی جرأت نہ ہو۔‘‘ اسجد کی باتیں سن کر میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ سادہ اور تکلفات سے پاک زندگی بسر کریں گے ان شاء اللہ

اسجد میرا دوست ہے۔ صحت کے بارے میں حد درجہ محتاط اور خبطی … کسی بھی چیز کو ہاتھ لگائے، انھیں دھونا ضروری سمجھتا ہے۔ اس کے نزدیک کھانے پینے کی کھلی اشیاء صحت کے لیے انتہائی مضر ہوتی ہیں۔ ڈبہ بند چیزیں سائنسی بنیاد پر پیک کی جاتی ہیں اس لیے ان کا استعمال ہی صحت کی ضمانت ہے۔ برسوں سے نل کا پانی نہیں پیا۔ ہمیشہ منرل واٹر کی بوتل تھامے رکھتا ہے۔ گزشتہ دنوں میرے پاس آیا، بڑا پریشان تھا۔ کہنے لگا ’’ہیپاٹائٹس ہو گئی ہے۔ دانتوں اور پیٹ میں بھی شدید درد رہتا ہے۔

ٹینشن کا گیا ہوں۔‘‘میں نے کہا ’’تم تو اپنی صحت کا بہت خیال رکھتے ہو، تمہیں یہ مرض کیسے چمٹ گئی؟‘‘ کہنے لگا ’’ڈاکٹر کے مطابق یہ مرض آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لگ سکتی ہے۔ ‘‘’’لیکن تم ہمیشہ منرل واٹر استعمال کرتے ہو؟‘‘ میں نے حیرانی سے پوچھا ، کہنے لگا’’یہی تو مسئلہ ہے۔ ہمارے وطن میں ہر چیز ملاوٹ شدہ ہے۔ حتی کہ منرل واٹر بھی جعلی نکلا۔ پاکستان میں 71سے زیادہ منرل واٹر کی کمپنیاں ہیں۔ لیکن یہی کمپنیاں پانی کے نام پر زہر فروخت کر رہی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ’’وطن پارٹی‘‘ کے رہنما جناب بیرسٹر ظفراللہ صاحب نے سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروائی کہ اس مصنوعی پانی کو چیک کیا جائے۔چیف جسٹس صاحب نے یہ ٹاسک ’’پاکستان کی سٹینڈرڈز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی‘‘ (PCQCA) کو دیا۔ اس ادارے نے بڑی دھماکے دار اور خطرناک رپورٹ پیش کی۔ اس ادارے کے مطابق کوئی بھی کمپنی صحت مند منرل واٹر تیار نہیں کر رہی۔ اکثر کا پانی انتہائی ناقص بل کہ آلودہ اور مضرِ صحت ہے۔ بعض کمپنیاں تو منرل واٹر بناتی ہی نہیں ہیں۔ ٹیوب ویل وغیرہ کا پانی بوتلوں میں بھر بھر کر بیچ رہی ہیں۔ ان کے کارکن نمکیات کی صحت مند مقدار کاعلم ہی نہیں رکھتے۔ یہ لوگ پانی کی عمر بڑھانے کے لیے آرسینک (سنکھیا)، سوڈیم اور پوٹاشیم کی مقدار حد سے زیادہ ڈال رہے ہیں۔ جہاں نمکیات کا لیول TDC تین سو پی پی بی سے کم ہونا چاہیے

وہاں اس سے کہیں زیادہ مقدار میں پایا گیا ہے۔ اسی طرح آرسینک کی مقدار پینے کے پانی میں10 پی پی بی ہونی چاہیے جب کہ منرل واٹر میں 18سے 379پی پی بی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں بیماریوں کا تناسب بڑھ رہا ہے۔روزنامہ خبریں کی ایک رپورٹ کے مطابق آلودہ پانی پینے سے دو ملین لوگ ہیپاٹائٹس سی جب کہ 15ملین لوگ ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہوئے۔14ملین لوگ دیگر بیماریوں مثلا بانجھ پن، کینسر، ڈائریا، ہیضہ، ذیابیطس، جگر اور پیٹ کی بیماریوں میں مبتلا ہوئے۔

لندن طبی ماہرین کے مطابق دانتوں کی اکثر بیماریوں کا سبب بھی یہی منرل واٹر ہے۔ ان کے ہاں اس پانی میں فلورائیڈ مطلوبہ مقدار میں نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے دانتوں کی اوپری سطح جھڑنے لگتی ہے۔ اسی طرح یہ پانی پلاسٹک کی بوتلوں میں محفوظ کیا جاتا ہے۔ یہ بوتلیں مسام دار ہوتی ہیں۔ جن کے ذریعے گرد اور مختلف جراثیم پانی کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔ اگر انھیں دھوپ میں رکھ دیا جائے تو Bisphonol-A نامی کیمیکل پیدا ہو جاتا ہے جو ہارمونز کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

اسی لیے سعودیہ میں نیلی بوتلوں میں پانی محفوظ کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ نیز ان پر فائبر گلاس کی کوٹنگ کا حکم دیا گیاہے اور 40ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت پر بوتلیں رکھنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ‘‘میں اسجد کی باتیں ہونقوں کی طرح سن رہا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ یہ کمپنیاں کیسے سب کو ’’ماموں‘‘ بنا کر ’’چونا‘‘ لگا رہی ہیں؟ ان کی ترسیل کہاں ہوتی ہے؟ اس کا جواب بھی اسجد سے مل گیا۔ کہنے لگا ’’یہ کمپنیاں اپنا مال عموما لوکل اور عوامی مقامات پر اتارتی ہیں۔

تم دیکھتے ہو! آئے روزنئے نئے ناموں کے ساتھ منرل واٹر فروخت ہو رہا ہے۔ ان کا ہدف غیر تعلیم یافتہ طبقہ، ریلوے اسٹیشن، لاری اڈے، شادی ہالز ، ریسٹورنٹس اور سرکاری و نجی ہسپتالوں کی کینٹینیں ہوتی ہیں۔ جہاں یہ جعلی مال فروخت کر کے اپنی رقم کھری کرتی ہیں اور عوام میں صحت کے نام پر موت بانٹتی ہیں۔ اس دھندے میں بڑے بڑے سیاست دان اور کاروباری شخصیات ملوث ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک بڑی سیاسی پارٹی کی خاتون راہ نما کی فیکٹری پر چھاپا مارا گیا۔

سینکڑوں کے حساب سے جعلی پانی کی بوتلیں پکڑی گئیں۔ چند دن فیکٹری بند رہی اب دوبارہ نئے نام سے کام کر رہی ہے۔پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر کے چیئر مین جناب ڈاکٹر محمد اسلم طاہر صاحب کے مطابق 33کمپنیاں اپنی جعل سازی کی بنا پر خاموشی سے منظر عام سے غائب ہو گئیں۔ لیکن اب 36سے زیادہ نئی کمپنیاں میدان میں آ چکی ہیں۔ نیز پاکستان میں منرل واٹر بنانے والی کمپنیوں کی تعداد میں 105%اضافہ ہوا ہے۔ ‘‘اسجد نے ایک نئی حیران کن بات بھی بتائی کہ

’’ایک لٹر منرل واٹر کی تیاری کے لیے تین گنا عام پانی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک لٹر منرل واٹر کی تیاری میں تین لٹر پانی خرچ ہوتا ہے۔ جس میں سے ایک لٹر بچ جاتا ہے اور دو لٹر ضائع ہو جاتا ہے۔ 2004ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 154؍ ارب لٹر منرل واٹر پیا جاتا ہے۔ جس کی تیاری میں 770ارب لٹر پانی ضائع کرنا پڑا۔ دوسری طرف دیکھا جائے تو اس کی تیاری میں ایندھن بھی استعمال ہوتا ہے۔ بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے اسے بچانا ہمارا فرض ہے۔

لیکن کیلی فورنیا پیسفک انسٹی ٹیوٹ کا کہنا ہے 2004میں صرف امریکہ میں 26ارب لٹر پانی کی پیکنگ کے لیے دو کروڑ بیرل تیل خرچ ہوا۔ یہ بات بھی مدنظر رہے کہ پلاسٹک اور پولی تھین گلوبل وارمنگ کا سبب بھی بن رہے ہیں۔ یہ خود کینسر جیسے موذی مرض کا سبب بنتے ہیں۔‘‘اسجد کی باتیں سن کر میں پریشان ہو گیا۔ میں نے پوچھا ’’اس کا حل کیا ہے؟‘‘ کہنے لگا ’’بہت سادہ سا حل ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں سادہ پانی استعمال کرنا چاہیے۔ آلودہ یا جراثیم زدہ ہونے کا خطرہ ہو تو ابال لیں۔

جیب اجازت دے تو فلٹر پلانٹ سے استفادہ کریں۔ منرل واٹر پر مکمل پابندی عائد کر دینی چاہیے۔ اس کے بجائے حکومت کافرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو صاف پانی مہیا کرے۔ پانچ سو فٹ گہرے کنویں کھود کر ان سے صاف ستھرا پانی نکالا جائے۔ پھر اسے محفوظ طریقے سے گھر گھر پہنچانے کا انتظام کیا جائے۔ کوئی آلودہ پانی فروخت کرتا یا پھیلاتا نظر آ جائے تو اسے کڑی سزا دی جائے۔ تاکہ آئندہ کسی کو بھی وطنِ عزیز میں صحت سے کھیلنے اور موت بانٹنے کی جرأت نہ ہو۔‘‘ اسجد کی باتیں سن کر میں نے تہیہ کرلیا ہے کہ سادہ اور تکلفات سے پاک زندگی بسر کریں گے ان شاء اللہ

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں