اہم خبریں

تارکین وطن پاکستانیوں کے پاس وہ کون سی چیز لازمی ہونی چاہئے جس کی بنیاد پر ووٹ ڈال سکیں گے، نادرا سوفٹ وئیرسامنے آگیا

  منگل‬‮ 10 اپریل‬‮ 2018  |  18:32
عام انتخابات کیلئے ایک کروڑ تارکین وطن میں سے 58 لاکھ کو اہل ووٹرز قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بیرون ملک ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں میں سے 70 لاکھ تارکین وطن ایسے ہیں جن کے پاس نائیکوپ (نیشنل آئی ڈی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز) ہے مگر انٹرنیٹ ووٹنگ کی سہولت صرف ان پاکستانیوں کو دی جائے گی جن کے پاس نائیکوپ کیساتھ ساتھ پاکستانی پاسپورٹ بھی ہو گا اور ایسے تارکینوطن کی تعداد 58 لاکھ ہے۔12 لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جو نائیکوپ تو استعمال کر رہے ہیں مگر دہری شہریت کے باعث دوسرے ملک کا پاسپورٹ

(خبر جا ری ہے)

نادرا کے تیار کر دہ مجوزہ سافٹ ویئر کے مطابق مذکورہ اہلیت رکھنے والا شخص ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے دوران اس بات پر رضا مندی ظاہر کرے گا کہ اس کا نام فزیکل ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا جائے، ووٹر اپنا لاگن اور پاسورڈ بنائے گا ، اس دوران اس سے نائیکوپ اور پاسپورٹ نمبر کے علاوہ سیکرٹ سوالات بھی کیے جائیں گے جن کے جواب دینے کے بعد اسے شکریہ کی ای میل موصول ہو گی۔ اسکے بعد الیکشن کے روز سے چند گھنٹے قبل ووٹر کو ایک پاس کوڈ موصول ہو گا جو الیکشن والے دن ووٹ ڈالنے کیلئے پوچھا جائے گا۔عام انتخابات سے قبل چونکہ کوئی ضمنی انتخاب نہیں ہونا، اس عمل کی فرضی مشق اسلام آباد کے حلقوں میں کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کی سہولت کو قابل اعتماد بنانے کیلئے تھر پارٹی ویلیڈیشن بھی زیر غور ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کی سہولت مل گئی تو یہ دنیا میں تارکین وطن کو دی گئی ایک بڑی سہولت ہو گی۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق اس وقت صرف ایسٹونیا ایسا ملک ہے جہاں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ ووٹنگ رائج ہے مگر وہاں کی کل آبادی 13 لاکھ اور اہل ووٹرز کی تعداد نو لاکھ سے کم ہے۔

عام انتخابات کیلئے ایک کروڑ تارکین وطن میں سے 58 لاکھ کو اہل ووٹرز قرار دیا گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق بیرون ملک ایک کروڑ سے زائد پاکستانیوں میں سے 70 لاکھ تارکین وطن ایسے ہیں جن کے پاس نائیکوپ (نیشنل آئی ڈی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز) ہے مگر انٹرنیٹ ووٹنگ کی سہولت صرف ان پاکستانیوں کو دی جائے گی جن کے پاس نائیکوپ کیساتھ ساتھ پاکستانی پاسپورٹ بھی ہو گا اور ایسے تارکینوطن کی تعداد 58 لاکھ ہے۔12 لاکھ پاکستانی ایسے ہیں جو نائیکوپ تو استعمال کر رہے ہیں

مگر دہری شہریت کے باعث دوسرے ملک کا پاسپورٹ کرتے ہیں۔ نادرا کے تیار کر دہ مجوزہ سافٹ ویئر کے مطابق مذکورہ اہلیت رکھنے والا شخص ویب سائٹ پر رجسٹریشن کے دوران اس بات پر رضا مندی ظاہر کرے گا کہ اس کا نام فزیکل ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا جائے، ووٹر اپنا لاگن اور پاسورڈ بنائے گا ، اس دوران اس سے نائیکوپ اور پاسپورٹ نمبر کے علاوہ سیکرٹ سوالات بھی کیے جائیں گے جن کے جواب دینے کے بعد اسے شکریہ کی ای میل موصول ہو گی۔ اسکے بعد الیکشن کے روز سے چند گھنٹے قبل ووٹر کو ایک پاس کوڈ موصول ہو گا جو الیکشن والے دن ووٹ ڈالنے کیلئے پوچھا جائے گا۔عام انتخابات سے قبل چونکہ کوئی ضمنی انتخاب نہیں ہونا، اس عمل کی فرضی مشق اسلام آباد کے حلقوں میں کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کی سہولت کو قابل اعتماد بنانے کیلئے تھر پارٹی ویلیڈیشن بھی زیر غور ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کو انٹرنیٹ ووٹنگ کی سہولت مل گئی تو یہ دنیا میں تارکین وطن کو دی گئی ایک بڑی سہولت ہو گی۔ الیکشن کمیشن حکام کے مطابق اس وقت صرف ایسٹونیا ایسا ملک ہے جہاں بڑے پیمانے پر انٹرنیٹ ووٹنگ رائج ہے مگر وہاں کی کل آبادی 13 لاکھ اور اہل ووٹرز کی تعداد نو لاکھ سے کم ہے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں