اہم خبریں

اس کے سامنےبڑے بڑے کاروباری حضرات سر جھکائے کھڑے ہوتے ہیں، یہ معذور شخص کون ہے؟جان کر آپ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں گے

  اتوار‬‮ 18 فروری‬‮ 2018  |  6:00
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے غریب ممالک میں معذور اور غریب افراد عموماََ بھیک مانگ کر گزارا کرتے نظر آتے ہیں ان کے شب و روز انتہائی تنگ دستی اور کسمپرسی میں گزرتے ہیں مگر بھارت میں ایسا بھکاری منظر عام پر آیا ہے جس کے سامنے کاروباری حضرات سوالی بنے کھڑے نظر آتے ہیں۔بھارت کی ریاست بہار شہر پٹنہ کے 33سالہاس شہری کانام پپو کمار ہے اور یہ پیدائشی طور پر معذور ہے ۔ کام کاج نہ کر سکنے کے باعث اس نے زندگی گزارنے کیلئے گداگری کو بطور پیشہاختیارکیا اور دیکھتے ہیدیکھتے اب وہ اتنا امیر ہوگیا ہے

(خبر جا ری ہے)

لوگ اسے بھیک دیتے تھے وہی اس سے سود پر قرض لے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پپو کمار کے 4بینک اکائونٹس میں نہ صرف لاکھوں روپے موجود ہیں بلکہ وہ سوا کروڑ مالیت کی جائیداد کا مالک بھی ہے۔ پپو کمار تاجروں کو بھاری شرح سود پرلاکھوں روپے کاقرض بھی دیتا ہے۔ پپو کمار نے اس سب کے باوجود بھیک مانگنا نہیں چھوڑا بلکہ اس کا کہنا اور ماننا ہے کہ اسی گداگری کے پیشے کی بدولت ہی وہ اتنا امیر ہوا اور اس پیشے کو چھوڑ دینا بیوقوفی ہی ہو گی۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا کے غریب ممالک میں معذور اور غریب افراد عموماََ بھیک مانگ کر گزارا کرتے نظر آتے ہیں ان کے شب و روز انتہائی تنگ دستی اور کسمپرسی میں گزرتے ہیں مگر بھارت میں ایسا بھکاری منظر عام پر آیا ہے جس کے سامنے کاروباری حضرات سوالی بنے کھڑے نظر آتے ہیں۔بھارت کی ریاست بہار شہر پٹنہ کے 33سالہاس شہری کانام پپو کمار ہے اور یہ پیدائشی طور پر معذور ہے ۔ کام کاج نہ کر سکنے کے باعث اس نے زندگی گزارنے کیلئے گداگری کو بطور پیشہاختیارکیا اور

دیکھتے ہیدیکھتے اب وہ اتنا امیر ہوگیا ہے کہ جو لوگ اسے بھیک دیتے تھے وہی اس سے سود پر قرض لے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ پپو کمار کے 4بینک اکائونٹس میں نہ صرف لاکھوں روپے موجود ہیں بلکہ وہ سوا کروڑ مالیت کی جائیداد کا مالک بھی ہے۔ پپو کمار تاجروں کو بھاری شرح سود پرلاکھوں روپے کاقرض بھی دیتا ہے۔ پپو کمار نے اس سب کے باوجود بھیک مانگنا نہیں چھوڑا بلکہ اس کا کہنا اور ماننا ہے کہ اسی گداگری کے پیشے کی بدولت ہی وہ اتنا امیر ہوا اور اس پیشے کو چھوڑ دینا بیوقوفی ہی ہو گی۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں