اہم خبریں

اگر آپ نے اپنی بڑھاپے میں بینائی سلامت رکھنی ہے تو یہ سبزیاں کھائیں ،طبی ماہرین کا تحقیق کے بعد مشورہ

  جمعرات‬‮ 8 مارچ‬‮ 2018  |  16:53
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)طبی ماہرین کہتے ہیں کہ گاجر بینائی کے لیے بہترین ہوتی ہیں لیکن حال ہی میں کی گئی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بصارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ہری سبزیوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ہارورڈ میڈیکل اسکول میں واقع برگھم اینڈ وومن ہاسپٹل کے سائنسدانوں کے مطابق ہری سبزیوں میں نائٹریٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہےجو بینائی چھیننے والے لاعلاج مرض اوپن اینگل گلوکوما کے خدشے کو 30 فیصد تک کم کرسکتی ہیں۔ اس مرض میں آنکھوں کی عصبی رگوں میں مائع بھرنے سے مریض نابینا ہوجاتا ہے۔ اس کے اکثر مریض 60سال سے

(خبر جا ری ہے)

تک پہنچنے پر بینائی کھودیتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ سبز پتوں والی سبزیاں جسم میں خون کی گردش کو بھی بہتر اور آنکھوں کی بصارت بحال رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ماہرین نے اپنی تحقیق کے دوران 64 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا اور وقفے وقفے سے ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا۔ تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب اکثریت کی اوسط عمر 40 یا اس سے زائد تھی اور کوئی بھی گلوکوما کا شکار نہیں تھا۔ اس کے بعد شرکا سے نائٹریٹ کے استعمال اور گلوکوما کے بارے میں سوال کیے گئے۔ تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ جن افراد نے ہفتے میں 2 سے 3 مرتبہ سبز پتوں کا ساگ یا کوئی اور ڈش کھائی تھی ان میں گلوکوما بننے کی شرح 20 سے 30 فیصد تک کم نوٹ کی گئی۔

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)طبی ماہرین کہتے ہیں کہ گاجر بینائی کے لیے بہترین ہوتی ہیں لیکن حال ہی میں کی گئی نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بصارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ہری سبزیوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے۔ہارورڈ میڈیکل اسکول میں واقع برگھم اینڈ وومن ہاسپٹل کے سائنسدانوں کے مطابق ہری سبزیوں میں نائٹریٹ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہےجو بینائی چھیننے والے لاعلاج مرض اوپن اینگل گلوکوما کے خدشے کو 30 فیصد تک کم کرسکتی ہیں۔ اس مرض میں آنکھوں کی عصبی رگوں میں مائع بھرنے سے مریض نابینا ہوجاتا ہے۔ اس کے اکثر مریض 60سال سے

زیادہ عمر تک پہنچنے پر بینائی کھودیتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ سبز پتوں والی سبزیاں جسم میں خون کی گردش کو بھی بہتر اور آنکھوں کی بصارت بحال رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔ماہرین نے اپنی تحقیق کے دوران 64 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا اور وقفے وقفے سے ان کی آنکھوں کا معائنہ کیا۔ تحقیق اس وقت شروع ہوئی جب اکثریت کی اوسط عمر 40 یا اس سے زائد تھی اور کوئی بھی گلوکوما کا شکار نہیں تھا۔ اس کے بعد شرکا سے نائٹریٹ کے استعمال اور گلوکوما کے بارے میں سوال کیے گئے۔ تحقیق کے دوران پتہ چلا کہ جن افراد نے ہفتے میں 2 سے 3 مرتبہ سبز پتوں کا ساگ یا کوئی اور ڈش کھائی تھی ان میں گلوکوما بننے کی شرح 20 سے 30 فیصد تک کم نوٹ کی گئی۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں