اہم خبریں

خودکلامی کس مرض کی علامت؟

  جمعرات‬‮ 8 مارچ‬‮ 2018  |  16:50
امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے ایسے افراد تو دیکھیں ہوں گے جو اپنے آپ سے باتیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور یہ جذباتی طور پر انتشار اور ڈپریشن کی نشانی ہوسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خودکلامی کرنے کے عادی ہونا نرگسیت کی علامت کی بجائے ڈپریشن کی نشانی ہوسکتی ہے۔ذہنی صحت کے لیے 10 نقصان دہ عادات تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اپنے آپ سے اکثر باتیں کرنا اور ذہنی الجھنوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق کے مطابق جذباتی طور پر

(خبر جا ری ہے)

مرتب ہونے سے جذباتی انتشار بڑھتا ہے جس سے ذہنی بے چینی، فکرمندی، تناﺅ اور ڈپریشن وغیرہ طاری ہوسکتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ اکثر خودکلامی کرتے ہیں وہ ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں مگر دیگر ذہنی عارضے بھی انہیں لاحق ہوسکتے ہیں۔اس تحقیق کے دوران امریکا اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے 5 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی نتائج سے معلوم ہوا کہ خودکلامی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے اور پہلی بار اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ محققین نے مزید بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ خودکلامی ہوسکتا ہے کہ ڈپریشن کا تجزیہ کرنے کے لیے بہت زیادہ اچھا عنصر نہ ہو مگر یہ ذہنی مسائل کی جانب اشارہ ضرور ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں پیش آنے والی منفی واقعات ذہنی بے چینی بڑھاتے ہیں اور جب ان کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں تو وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔

امریکا (مانیٹرنگ ڈیسک) آپ نے ایسے افراد تو دیکھیں ہوں گے جو اپنے آپ سے باتیں کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور یہ جذباتی طور پر انتشار اور ڈپریشن کی نشانی ہوسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ایریزونا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ خودکلامی کرنے کے عادی ہونا نرگسیت کی علامت کی بجائے ڈپریشن کی نشانی ہوسکتی ہے۔ذہنی صحت کے لیے 10 نقصان دہ عادات تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اپنے آپ سے اکثر باتیں کرنا اور ذہنی الجھنوں کے درمیان تعلق موجود ہے۔ تحقیق کے مطابق جذباتی طور پر

منفی اثرات مرتب ہونے سے جذباتی انتشار بڑھتا ہے جس سے ذہنی بے چینی، فکرمندی، تناﺅ اور ڈپریشن وغیرہ طاری ہوسکتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ اکثر خودکلامی کرتے ہیں وہ ڈپریشن کے شکار ہوسکتے ہیں مگر دیگر ذہنی عارضے بھی انہیں لاحق ہوسکتے ہیں۔اس تحقیق کے دوران امریکا اور جرمنی سے تعلق رکھنے والے 5 ہزار کے قریب افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ پاکستان میں ذہنی بیماریاں اور ہماری بے حسی نتائج سے معلوم ہوا کہ خودکلامی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے اور پہلی بار اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی ہے۔ محققین نے مزید بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ خودکلامی ہوسکتا ہے کہ ڈپریشن کا تجزیہ کرنے کے لیے بہت زیادہ اچھا عنصر نہ ہو مگر یہ ذہنی مسائل کی جانب اشارہ ضرور ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے تفصیلی تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں پیش آنے والی منفی واقعات ذہنی بے چینی بڑھاتے ہیں اور جب ان کے بارے میں لوگ سوچتے ہیں تو وہ اپنے آپ سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔

موضوعات:

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں