اہم خبریں

جڑی بوٹیوں کی چائے ! حیرت انگیز کمالات،پودینے کی چائے کے 5حیران کن فوائد‎‎

  منگل‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2017  |  17:03
پودینے کی چائے دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بدہضٗمی‘ سانس کی نالی کی سوجن‘ درد سر‘ کھانسی اور زکام میں کیا جاتا ہے۔ یہ چائے بہت لذیز اور خوشبودار ہوتی ہے جس سے گیس کی تکلیف میں بھی آرام آتا ہے اور سانس میں ناگوار بُو آنے کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔ جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والی چائے میں بعض پودوں کے صرف پتے‘ بعض پودوں کے پھول یا ان کی چھال یا جڑ استعمال ہوتی ہے۔ اس چائے کو پینے کے انداز بھی مختلف ہیں۔ آپ چاہیں تو سردیوں میں اسے گرم حالت

(خبر جا ری ہے)

پئیںاور چاہیں تو گرمیوں میں اس چائے کو ٹھنڈا کرکے پئیں۔ اس چائے کو بنانے کے مختلف طریقے ہیں‘ اگر آپ کسی پودے کی جڑ کی چائے بنانا چاہتے ہیں تو جڑ کو پیس کر سفوف بنالیجئے‘ پھر پودے کے اجزا کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال لیں اور آگ پر تین منٹ تک جوش دیں۔تلسی کی چائے یہ پودا باغیچوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ اس کے پتوں سے بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ اس پودے کے پتے پھیپھڑوں اور گردے و مثانے کے امراض میں مفید ہیں۔ اس کے پتوں کو سرکے میں اُبال کر اس کا پانی چہرے پر ملنے سے جلد کے مسامات سکڑ جاتے ہیں اور چہرہ نکھر جاتا ہے۔گاؤزبان کی چائے گاؤزبان کے پتوں کی چائے دل کو قوت دیتی ہے‘ اگر گاؤزبان کے پتوں کے ساتھ تلسی کے پتے بھی شامل کردئیے جائیں تو یہ گردوں‘ مثانے اور دل کیلئے مفید ہے۔ اس کے پتے اور پھول کی چائے خشک اور حساس جلد کیلئے مفید ہے۔سیاہ زیرے کی چائے سیاہ زیرے کی چائے کے بہت سے فائدے ہیں۔ چائے بنانے سے قبل زیرہ سیاہ کو کچل لیں اور پھر گرم پانی میں ڈالیں۔ یہ چائے جگر‘ پتے اور نظام انہضام کیلئے بے حد مفید ہے۔ گیس کی شکایت میں بھی فائدہ مند ہے۔کاسنی کی چائے کاسنی کی جڑکی چائے جگر کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ اس کی جڑ کو آگ پر بھون لیں۔ اس کے بعد اسے پیس کر چائے بنائیں۔ یہ پتے اور جگر کی شکایت میں مفید ہے۔دھنیےکی چائے دھنیے کو پیس لیجئے پھر اس کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اچھی طرح جوش دیں۔ یہ چائے بدہضمی اور گیس کی شکایت کو ختم کرسکتی ہے۔ یہ چائے جلد کی رنگت کو نکھارنے اور خون کو صاف کرنے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔سویا کی چائے سویا دراصل دھنیے اور پودینے کی طرح کا ایک پودا ہے۔ اس کی چائے شیرخوار بچوں میں پیٹ کے درد اور گیس کی شکایت کیلئے مفید ہے۔ سونف کی چائے‎

پودینے کی چائے دوائی کے لحاظ سے بہت مفید ہے۔ اس کا استعمال بدہضٗمی‘ سانس کی نالی کی سوجن‘ درد سر‘ کھانسی اور زکام میں کیا جاتا ہے۔ یہ چائے بہت لذیز اور خوشبودار ہوتی ہے جس سے گیس کی تکلیف میں بھی آرام آتا ہے اور سانس میں ناگوار بُو آنے کی شکایت دور ہوجاتی ہے۔ جڑی بوٹیوں سے تیار ہونے والی چائے میں بعض پودوں کے صرف پتے‘ بعض پودوں کے پھول یا ان کی چھال یا جڑ استعمال ہوتی ہے۔ اس چائے کو پینے کے انداز بھی مختلف ہیں۔ آپ چاہیں تو سردیوں میں اسے گرم حالت میں پئیں

اور چاہیں تو گرمیوں میں اس چائے کو ٹھنڈا کرکے پئیں۔ اس چائے کو بنانے کے مختلف طریقے ہیں‘ اگر آپ کسی پودے کی جڑ کی چائے بنانا چاہتے ہیں تو جڑ کو پیس کر سفوف بنالیجئے‘ پھر پودے کے اجزا کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال لیں اور آگ پر تین منٹ تک جوش دیں۔

تلسی کی چائے
یہ پودا باغیچوں میں بھی لگایا جاتا ہے۔ اس کے پتوں سے بھینی بھینی خوشبو آتی ہے۔ اس پودے کے پتے پھیپھڑوں اور گردے و مثانے کے امراض میں مفید ہیں۔ اس کے پتوں کو سرکے میں اُبال کر اس کا پانی چہرے پر ملنے سے جلد کے مسامات سکڑ جاتے ہیں اور چہرہ نکھر جاتا ہے۔

گاؤزبان کی چائے
گاؤزبان کے پتوں کی چائے دل کو قوت دیتی ہے‘ اگر گاؤزبان کے پتوں کے ساتھ تلسی کے پتے بھی شامل کردئیے جائیں تو یہ گردوں‘ مثانے اور دل کیلئے مفید ہے۔ اس کے پتے اور پھول کی چائے خشک اور حساس جلد کیلئے مفید ہے۔

سیاہ زیرے کی چائے
سیاہ زیرے کی چائے کے بہت سے فائدے ہیں۔ چائے بنانے سے قبل زیرہ سیاہ کو کچل لیں اور پھر گرم پانی میں ڈالیں۔ یہ چائے جگر‘ پتے اور نظام انہضام کیلئے بے حد مفید ہے۔ گیس کی شکایت میں بھی فائدہ مند ہے۔

کاسنی کی چائے
کاسنی کی جڑکی چائے جگر کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ اس کی جڑ کو آگ پر بھون لیں۔ اس کے بعد اسے پیس کر چائے بنائیں۔ یہ پتے اور جگر کی شکایت میں مفید ہے۔

دھنیےکی چائے
دھنیے کو پیس لیجئے پھر اس کو ابلتے ہوئے پانی میں ڈال کر اچھی طرح جوش دیں۔ یہ چائے بدہضمی اور گیس کی شکایت کو ختم کرسکتی ہے۔ یہ چائے جلد کی رنگت کو نکھارنے اور خون کو صاف کرنے کیلئے بھی استعمال ہوتی ہے۔

سویا کی چائے
سویا دراصل دھنیے اور پودینے کی طرح کا ایک پودا ہے۔ اس کی چائے شیرخوار بچوں میں پیٹ کے درد اور گیس کی شکایت کیلئے مفید ہے۔
سونف کی چائے‎

loading...