اہم خبریں

پاکستان قرضوں کے پھندے میں پھنس گیا،70سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے،فوری اقدامات نہ کئے گئے تو چند ماہ میں کیا حشر ہوگا؟ انتہائی تشویشناک انکشافات

  پیر‬‮ 9 اپریل‬‮ 2018  |  22:38
لاہور ( این این آئی)تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے مالی سال 2017-18پر ششماہی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق پاکستان کی حقیقی معیشت صحیح طریقے سے چل رہی ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ جی ڈی پی گروتھ کیلئے موضوع حالات موجود ہیں خاص طور پر مہنگائی کنٹرول میں ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی کار کردگی ٹھیک جا رہی ہے لیکن اس کے برعکس کمزور معاشی اساس خطرے کی گھنٹی بھی بجا رہے ہیں ۔ آئی پی آر رپورٹ کے مطابق 2018کا بجٹ خسارہ بڑھ جائے گا جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی اپنی انتہا

(خبر جا ری ہے)

جائے گا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان قرضوں کے پھندے میں پھنس چکا ہے نیز مقامی اور بیرونی قرضے پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہو چکے ہیں مسلسل کمزورہوتی معیشت کی بنیاد رئیل سیکٹر اور گروتھ ریٹ کو کم کر رہی ہے۔حکومت نے مالی 2017-18سال کے بجٹ کا اعلان کرتے وقت کہا تھا کہ پائیدار اور بڑھتی ہوئی معیشت کے ذریعہ مالی سال2017-18 میں 6 فیصد جی ڈی پی کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا ۔ اس ہدف کے حصول کیلئے زیادہ ریونیو کا اکھٹا کرنا اور خرچے کم کرنا شامل تھے اس کے علاوہ ملک کے اندر زیادہ سرمایہ کاری کرنابھی مقصود تھا ۔ جہاں تک ریونیو کا تعلق ہے پچھلے تین سال سے مالی خسارے کو محدود کرنے میں ایف بی آر نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جولائی ،دسمبر 2017-18میں ایف بی آر نے مزید 18فیصد گروتھ دکھائی ہے جبکہ اس کے برعکس ملک کے اندر مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہو سکی۔اگر معیشت کی نصف سالہ کارکردگی دیکھی جائے تو اندازہ لگائے جا سکتا ہے کہ جی ڈی پی گروتھ اپنے ہدف کے قریب ہو گی جبکہ پچھلے مالی سال کی نسبت زیادہ ہوگی۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزنے مزید کہا ہے کہ معاشی تصویر کا مثبت پہلو زیادہ دیر تک نہیں چل پائے گا کیونکہ مشینری کی درآمدات میں 3فیصد کمی ہوئی ہے نیز پاور جنریشن مشینری میں26فیصد اور تعمیراتی مشینری کی درآمدات میں 24فیصد کمی ہوئی ہے اس کے علاوہ پچھلے سال کی نسبت پرائیویٹ سیکٹربینک کریڈٹ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔نصف سال میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا2.2 فیصد تھا لیکن اس سال کے اختتام تک یہ 5.5 فیصد ہو سکتا ہے ا س کے علاوہ مالی آپریشنز یہ بتا رہے ہیں کہ لیے گئے قرضوں پر واجب الادا مارک اپ ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لینا ہو نگے ۔ آئی پی آر کی رپورٹ مزید کہا گیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ انتہائی نازک صورتحال اختیار کر گیا ہےجولائی-فروری 2017-18میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.8ارب ڈالر تھا جو کہ جی ڈی پی کا 4.8فیصد بنتا ہے لہذایہ خسارہ پہلے ہی سالانہ ہدف سے زیادہ ہو چکا تھا اب خدشہ ہے کہ یہ 16.2ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا نیز جہاں تک بیرونی قرضوں کا تعلق ہے یہ دسمبر2017میں 88, 891ملین ڈالر تک پہنچ چکے تھے پاکستان کے اندر ناقص بڑھے اشاریے معیشت کیلئے انتہائی خطرناک ہے جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے وہ مالی مراعات پر انحصار کر رہی ہیں اور اس کے وجہ سےپاکستان مستقل طور پر بیرونی امداد کا طفیلی ہو گیا ہے ملک کے اندر گورننس بہتر نہیں ہوئی جس کی وجہ سے بزنس کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ فیصلہ سازی کرنے والے صرف نمبروں سے کھیل رہے ہیں نہ کہ ان کی توجہ معیشت کی بہتری ہے ۔آئی پی آر کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پائیدار معیشت کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے زیادہ بچت کی جائے اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے نیز برآمدات میں اضافہ ہو اور ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ آئے۔

لاہور ( این این آئی)تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے مالی سال 2017-18پر ششماہی رپورٹ جاری کر دی ہے جس کے مطابق پاکستان کی حقیقی معیشت صحیح طریقے سے چل رہی ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ جی ڈی پی گروتھ کیلئے موضوع حالات موجود ہیں خاص طور پر مہنگائی کنٹرول میں ہے اور پرائیویٹ سیکٹر کی کار کردگی ٹھیک جا رہی ہے لیکن اس کے برعکس کمزور معاشی اساس خطرے کی گھنٹی بھی بجا رہے ہیں ۔ آئی پی آر رپورٹ کے مطابق 2018کا بجٹ خسارہ بڑھ جائے گا

جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بھی اپنی انتہا کو پہنچ جائے گا ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان قرضوں کے پھندے میں پھنس چکا ہے نیز مقامی اور بیرونی قرضے پاکستان کی 70سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہو چکے ہیں مسلسل کمزورہوتی معیشت کی بنیاد رئیل سیکٹر اور گروتھ ریٹ کو کم کر رہی ہے۔حکومت نے مالی 2017-18سال کے بجٹ کا اعلان کرتے وقت کہا تھا کہ پائیدار اور بڑھتی ہوئی معیشت کے ذریعہ مالی سال2017-18 میں 6 فیصد جی ڈی پی کا ہدف حاصل کر لیا جائے گا ۔ اس ہدف کے حصول کیلئے زیادہ ریونیو کا اکھٹا کرنا اور خرچے کم کرنا شامل تھے اس کے علاوہ ملک کے اندر زیادہ سرمایہ کاری کرنابھی مقصود تھا ۔ جہاں تک ریونیو کا تعلق ہے پچھلے تین سال سے مالی خسارے کو محدود کرنے میں ایف بی آر نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جولائی ،دسمبر 2017-18میں ایف بی آر نے مزید 18فیصد گروتھ دکھائی ہے جبکہ اس کے برعکس ملک کے اندر مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہو سکی۔اگر معیشت کی نصف سالہ کارکردگی دیکھی جائے تو اندازہ لگائے جا سکتا ہے کہ جی ڈی پی گروتھ اپنے ہدف کے قریب ہو گی جبکہ پچھلے مالی سال کی نسبت زیادہ ہوگی۔ انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمزنے مزید کہا ہے کہ معاشی تصویر کا مثبت پہلو زیادہ دیر تک نہیں چل پائے گا کیونکہ مشینری کی درآمدات میں 3فیصد کمی ہوئی ہے نیز پاور جنریشن مشینری میں

26فیصد اور تعمیراتی مشینری کی درآمدات میں 24فیصد کمی ہوئی ہے اس کے علاوہ پچھلے سال کی نسبت پرائیویٹ سیکٹربینک کریڈٹ میں کمی واقع ہوئی ہے ۔نصف سال میں مالی خسارہ جی ڈی پی کا2.2 فیصد تھا لیکن اس سال کے اختتام تک یہ 5.5 فیصد ہو سکتا ہے ا س کے علاوہ مالی آپریشنز یہ بتا رہے ہیں کہ لیے گئے قرضوں پر واجب الادا مارک اپ ادا کرنے کیلئے مزید قرضے لینا ہو نگے ۔ آئی پی آر کی رپورٹ مزید کہا گیا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ انتہائی نازک صورتحال اختیار کر گیا ہے

جولائی-فروری 2017-18میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 10.8ارب ڈالر تھا جو کہ جی ڈی پی کا 4.8فیصد بنتا ہے لہذایہ خسارہ پہلے ہی سالانہ ہدف سے زیادہ ہو چکا تھا اب خدشہ ہے کہ یہ 16.2ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا نیز جہاں تک بیرونی قرضوں کا تعلق ہے یہ دسمبر2017میں 88, 891ملین ڈالر تک پہنچ چکے تھے پاکستان کے اندر ناقص بڑھے اشاریے معیشت کیلئے انتہائی خطرناک ہے جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے وہ مالی مراعات پر انحصار کر رہی ہیں اور اس کے وجہ سے

پاکستان مستقل طور پر بیرونی امداد کا طفیلی ہو گیا ہے ملک کے اندر گورننس بہتر نہیں ہوئی جس کی وجہ سے بزنس کو نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ فیصلہ سازی کرنے والے صرف نمبروں سے کھیل رہے ہیں نہ کہ ان کی توجہ معیشت کی بہتری ہے ۔آئی پی آر کی رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ پائیدار معیشت کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے زیادہ بچت کی جائے اور زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کی جائے نیز برآمدات میں اضافہ ہو اور ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ بیرونی سرمایہ آئے۔

loading...

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں