اہم خبریں

سعودی عرب میں وزراء سمیت اہم شخصیات کی گرفتاریوں کاردعمل،تیل کی قیمتوں نے ریکارڈ توڑ دیئے

  منگل‬‮ 7 ‬‮نومبر‬‮ 2017  |  17:30
ریاض ( این این آئی )سعودی عرب میں انسداد کرپشن مہم کے تحت 11شہزادوں اور وزراء کی گرفتاری کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جولائی 2015 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں جولائی 2015 میں 56 ڈالر فی بیرل کا اضافی ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں خام تیل کی قیمت نے 62 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھوا۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے ، دہشت گردی کیمعاونت

(خبر جا ری ہے)

گردی کیمعاونت کرنے والے کو سزائے موت دی جائے گی ، فرمانروا کے خلاف بات کرنے والے پر پانچ سے دس سال قید ہو گی ۔ ان قوانین کے تحت دہشتگردی میں ملوث اور دہشتگردوں کی معاونت پر مختلف مدت کی سزاؤں کے علاوہ موت کی سزا بھی دی جائے گی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئے قانون میں سعودی فرمانروا کے خلاف بات کرنے والے کو پانچ سے دس سال قید ہو سکتی ہے ، دہشتگردی کی معاونت کرنے اور حملے میں کسی کی جان لینے پر سزائے موت دی جائے گی ، دہشتگردی سیل اور ٹریننگ کیمپ چلانے والے کو دس سے پچیس سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے کے دوران پکڑا جانے والا شخص بیس سے تیس سال قید پا سکتا ہے ۔لوگوں کو دہشتگردی کی جانب مائل کرنے والے کو ا?ٹھ سے پچیس سال قید ہو سکتی ہے ، فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کے دہشتگردوں سے رابطے پر بیس سے تیس سال قید ہو گی ۔ دہشتگردوں کو اسلحہ کی فراہمی اور معاونت پر دس سے تیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ دہشتگردی پر سزا پانے والے کو تیس لاکھ سے ایک کروڑ سعودی رالف جرمانہ بھی ہو گا ۔ نئے قوانین کے تحت دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو سزا یافتہ شخص کے بنک اکاؤنٹ اور جائیداد منجمد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں مالی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ولی عہد کی سربراہی میں ایک سپریم اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دی ہے

جس نے اپنے قیام کے فوری بعد متعدد حاضر سروس اور سابق وزراء سمیت کئی شہزادوں کو گرفتار کر لیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں انسداد کرپشن کمیٹی کا قیام ملک کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری کردہ خصوصی فرمان کے تحت دیا گیا۔نئی احتساب کمیٹی نے جدہ سیلاب اور کورونا وائرس کیسز کی دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔انسداد بدعنوانی کمیٹی کے حکم پر چار موجود اور دسیوں سابق وزراء اور شہزادوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر قیادت قائم کردہ انسداد بدعنوانی کمیٹی میں مانیٹرنگ وانویسٹی گیشن اتھارٹی کے چیئرمین، قومی انسداد کرپشن اتھارٹی کے چیئرمین اور جنرل آڈٹ بیورو کے چیئرمین، اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ سیکیورٹی کے سربراہ اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک میں کرپشن کا خاتمہ اور بدعنوانی میں ملوث حکومتی عمال، وزراء4 ، شہزادوں اور سرکردہ شخصیات کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لانا ہے۔

انسداد کرپشن کمیٹی کو بدعنوانی میں ملوث اداروں اور شخصیات سے تفتیش کے وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی کسی اعلیٰ عہدیدار کو گرفتار کرنے، کرپشن میں ملوث عناصر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، منقولہ اور غیر منقولہ املاک کیغلط استعمال، منقولہ املاک بالخصوص غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی روکنے کا مجاز ہو گا اور لوٹی گئی دولت قومی خزانے میں جمع کرانے کے ساتھ کرپشن میں ملوث افراد، کمپنیوں اور اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے گا۔

دریں اثناء سوشل میڈیا پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک وڈیو کلپ گردش میں ہے جس میں وہ باور کرا رہے ہیں کہ مملکت میں بدعنوان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔رواں سال مئی میں ایم بی سی چینل پر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ جس شخص کے خلاف بھی بدعوانی ثابت ہو گئی وہ کسی طور نہیں بچ سکے گا خواہ اس کا جو بھی منصب اور حیثیت ہو۔ شہزادہ محمد نے باور کرایا کہ خواہ کوئی وزیر ہو یا شہزادہ جس کے خلاف بھی کافی ثبوت موجود ہوئے

اس کا احتساب عمل میں لایا جائے گا۔ہفتے کے روز سعودی عرب میں بدعنوانی کے الزام میں متعدد شہزادوں اور وزرا کے حراست میں لیے جانے کی کارروائی نے شہزادہ محمد بن سلمان کے عہد کی تصدیق کر دی۔ ہفتے کی ہی شام جاری ایک شاہی فرمان میں انسداد بدعنوانی کے لیے ایک سپریم کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے سربراہ شہزادہ محمد بن سلمان خود ہوں گے۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے فرمان میں کہا کہ انصاف اور عدل کا نظام ہر چھوٹے اور بڑے پر نافذ ہو گا اور اس سلسلے میں کسی جانب سے ملامت کی پروا نہیں کی جائے گی۔

ہم اللہ رب العزت اور پھر اپنے عوام کے سامنے اس بھاری ذمے داری کے حوالے سے جواب دہ ہیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ "تحقیق اللہ زمین میں فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ نبی کریم علیہ الصلات و السلام کے مبارک ارشاد کا مفہوم ہے کہ "یقیناًتم میں پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان جب کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بن محمد بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے۔

ریاض ( این این آئی )سعودی عرب میں انسداد کرپشن مہم کے تحت 11شہزادوں اور وزراء کی گرفتاری کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں جولائی 2015 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں جولائی 2015 میں 56 ڈالر فی بیرل کا اضافی ریکارڈ کیا گیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ میں خام تیل کی قیمت نے 62 ڈالر فی بیرل کی سطح کو چھوا۔واضح رہے کہ سعودی حکومت نے دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے نئے قوانین کا اعلان کیا ہے ،

دہشت گردی کیمعاونت کرنے والے کو سزائے موت دی جائے گی ، فرمانروا کے خلاف بات کرنے والے پر پانچ سے دس سال قید ہو گی ۔ ان قوانین کے تحت دہشتگردی میں ملوث اور دہشتگردوں کی معاونت پر مختلف مدت کی سزاؤں کے علاوہ موت کی سزا بھی دی جائے گی ۔میڈیارپورٹس کے مطابق نئے قانون میں سعودی فرمانروا کے خلاف بات کرنے والے کو پانچ سے دس سال قید ہو سکتی ہے ، دہشتگردی کی معاونت کرنے اور حملے میں کسی کی جان لینے پر سزائے موت دی جائے گی ، دہشتگردی سیل اور ٹریننگ کیمپ چلانے والے کو دس سے پچیس سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے ۔ دہشتگردی کی تربیت حاصل کرنے کے دوران پکڑا جانے والا شخص بیس سے تیس سال قید پا سکتا ہے ۔لوگوں کو دہشتگردی کی جانب مائل کرنے والے کو ا?ٹھ سے پچیس سال قید ہو سکتی ہے ، فوج سے تعلق رکھنے والے افراد کے دہشتگردوں سے رابطے پر بیس سے تیس سال قید ہو گی ۔ دہشتگردوں کو اسلحہ کی فراہمی اور معاونت پر دس سے تیس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے ۔ دہشتگردی پر سزا پانے والے کو تیس لاکھ سے ایک کروڑ سعودی رالف جرمانہ بھی ہو گا ۔ نئے قوانین کے تحت دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو سزا یافتہ شخص کے بنک اکاؤنٹ اور جائیداد منجمد کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے ۔علاوہ ازیں سعودی عرب کی حکومت نے ملک میں مالی بدعنوانی کے خاتمے کے لیے ولی عہد کی سربراہی میں ایک سپریم اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دی ہے

جس نے اپنے قیام کے فوری بعد متعدد حاضر سروس اور سابق وزراء سمیت کئی شہزادوں کو گرفتار کر لیا ۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب میں انسداد کرپشن کمیٹی کا قیام ملک کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے جاری کردہ خصوصی فرمان کے تحت دیا گیا۔نئی احتساب کمیٹی نے جدہ سیلاب اور کورونا وائرس کیسز کی دوبارہ تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔انسداد بدعنوانی کمیٹی کے حکم پر چار موجود اور دسیوں سابق وزراء اور شہزادوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کی زیر قیادت قائم کردہ انسداد بدعنوانی کمیٹی میں مانیٹرنگ وانویسٹی گیشن اتھارٹی کے چیئرمین، قومی انسداد کرپشن اتھارٹی کے چیئرمین اور جنرل آڈٹ بیورو کے چیئرمین، اٹارنی جنرل اور اسٹیٹ سیکیورٹی کے سربراہ اس کمیٹی کے ارکان ہوں گے۔کمیٹی کے قیام کا مقصد ملک میں کرپشن کا خاتمہ اور بدعنوانی میں ملوث حکومتی عمال، وزراء4 ، شہزادوں اور سرکردہ شخصیات کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لانا ہے۔

انسداد کرپشن کمیٹی کو بدعنوانی میں ملوث اداروں اور شخصیات سے تفتیش کے وسیع تر اختیارات دیے گئے ہیں۔ یہ کمیٹی کسی اعلیٰ عہدیدار کو گرفتار کرنے، کرپشن میں ملوث عناصر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے، منقولہ اور غیر منقولہ املاک کیغلط استعمال، منقولہ املاک بالخصوص غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک رقوم کی منتقلی روکنے کا مجاز ہو گا اور لوٹی گئی دولت قومی خزانے میں جمع کرانے کے ساتھ کرپشن میں ملوث افراد، کمپنیوں اور اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے گا۔

دریں اثناء سوشل میڈیا پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک وڈیو کلپ گردش میں ہے جس میں وہ باور کرا رہے ہیں کہ مملکت میں بدعنوان عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔رواں سال مئی میں ایم بی سی چینل پر ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ جس شخص کے خلاف بھی بدعوانی ثابت ہو گئی وہ کسی طور نہیں بچ سکے گا خواہ اس کا جو بھی منصب اور حیثیت ہو۔ شہزادہ محمد نے باور کرایا کہ خواہ کوئی وزیر ہو یا شہزادہ جس کے خلاف بھی کافی ثبوت موجود ہوئے

اس کا احتساب عمل میں لایا جائے گا۔ہفتے کے روز سعودی عرب میں بدعنوانی کے الزام میں متعدد شہزادوں اور وزرا کے حراست میں لیے جانے کی کارروائی نے شہزادہ محمد بن سلمان کے عہد کی تصدیق کر دی۔ ہفتے کی ہی شام جاری ایک شاہی فرمان میں انسداد بدعنوانی کے لیے ایک سپریم کمیٹی قائم کرنے کا اعلان کیا گیا جس کے سربراہ شہزادہ محمد بن سلمان خود ہوں گے۔خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے فرمان میں کہا کہ انصاف اور عدل کا نظام ہر چھوٹے اور بڑے پر نافذ ہو گا اور اس سلسلے میں کسی جانب سے ملامت کی پروا نہیں کی جائے گی۔

ہم اللہ رب العزت اور پھر اپنے عوام کے سامنے اس بھاری ذمے داری کے حوالے سے جواب دہ ہیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے کہ “تحقیق اللہ زمین میں فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ نبی کریم علیہ الصلات و السلام کے مبارک ارشاد کا مفہوم ہے کہ “یقیناًتم میں پہلے لوگ اس لیے ہلاک ہوئے کہ ان جب کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اس کو چھوڑ دیتے اور اگر کوئی کمزور چوری کرتا تو اس پر حد جاری کرتے تھے۔ اللہ کی قسم اگر فاطمہ بن محمد بھی چوری کرتی تو اس کے ہاتھ کاٹ دیے جاتے۔

loading...